اسلام آباد میں بلوچ خواتین مسلسل احتجاج کیوں کر رہی ہیں؟

اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈیڑھ ماہ سے اپنے لاپتہ نوجوان بیٹوں کی بازیابی کیلئے سراپا احتجاج مائیں ریاست سے مایوس ہو گئیں۔ جس کے بعد انھوں نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ بلوچستان کی مٹی میں چھپی کہانیاں صرف وسائل کی لوٹ مار اور سیاسی محرومیوں تک محدود نہیں، بلکہ یہاں کے گلی کوچوں، بستیوں اور شہروں میں لاپتہ نوجوانوں کی ماؤں کے دکھ کی صورت میں ایک ایسا کرب دفن ہے جسے الفاظ میں بیان کرناممکن نہیں۔ بلوچستان کی وہ مائیں جن کے بیٹے کئی برسوں سے گھروں کو لوٹ کر نہیں آئے، ان کی آنکھوں میں ہر لمحہ ایک ہی سوال جھلکتا دکھائی دیتا ہے کہ میرا بیٹا کہاں ہے؟ تاہم اس ساری صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ کوئی عدالت ان کے اس سوال کا جواب نہیں دیتی، کوئی ادارہ انہیں تسلی نہیں دیتا، اور کوئی حکمران ان کے زخم پر مرہم نہیں رکھتا۔ بیٹوں کی جدائی کے مسلسل کرب اور تکلیف کی وجہ سے ان ماؤں کے لیے دن اور رات کا فرق مٹ چکا ہے، ان کے لیے وقت رک گیا ہے وہ دروازوں کی چوکھٹ پر نظریں جمائے اسی انتظار میں شب وروز بسر کر رہی ہیں کہ شاید آج ان کے بیٹوں بارے کوئی خبر آ جائے لیکن نہ بیٹے آتے ہیں اور نہ ان کے حوالے سے کوئی اطلاع آتی ہےاور انھیں روزانہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسلام آباد میں مسلسل بیالیس دنوں سے اپنے لاپتہ بیٹے کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والی اسّی سالہ بلوچ خاتون اماں حوری کہتی ہیں کہ اپنے کسی پیارے کے گم ہو جانے کی تکلیف اس کے دنیا سے چلے جانے سے کہیں زیادہ شدید ہوتی ہے۔اماں حوری مسلسل تیرہ سال سے مبینہ طور پر ریاستی اداروں کی طرف سے کوئٹہ سے اٹھائے گئے بیٹے کی بازیابی کے لیے دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبورہیں۔ ان کا صرف یہ مطالبہ ہے کہ اگران کے بیٹے نے کوئی جرم بھی کیا ہے تو اس پر فرد جرم عائد کر کے پیش تو کیا جائے کہ ماں کو اتنا تو پتہ ہو کہ اس کا بیٹا کہاں ہے اور وہ اپنے بیٹے کے گم ہو جانے کی اذیت سے تو نکل سکے۔ خیال رہے کہ اماں حوری اور کچھ دیگر بوڑھی مائیں اماں حوری کے ساتھ اپنے بچوں کی بازیابی کی اپیل کے لیے پچھلے ڈیڑھ ماہ سے بلوچستان میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر اسلام آباد کی سڑکوں پرسراپا احتجاج ہیں تاہم کوئی بھی شخص ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔ اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف سکس میں احتجاجی دھرنے میں بیٹھی بوڑھی ماوُں کا کہنا ہے کہ بیالیس دنوں میں کوئی حکومتی نمائندہ ان کی بات سننے کے لیے بھی نہیں آیا اور جیسے حکومت انہیں مکمل طور پر بھول چکی ہے۔بلوچ متاثرین کی تمام تر کوششوں کے باوجودکوئی ریاستی نمائندہ ان متاثرہ افراد سے بات کرنے کو تیار نہیں جو پارلیمنٹ ہاؤس سے محض دو کلومیٹر دور سڑک پر بیٹھے ہیں۔ حالانکہ حکومت نے ان لوگوں سے بات کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، لیکن وہ کمیٹی بھی تاحال متاثرہ مظاہرین تک نہیں پہنچی۔بلوچ مظاہرین کے مطابق ماضی میں ایک بار بھرپور احتجاج کے بعد انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ جلد ان کے بچھڑے واپس کر دیے جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سائرا بلوچ کا کہنا تھا کہ دو ہزار تئیس میں انہوں نے کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا دیا تھا اس وقت رانا ثنااللہ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ کچھ دن میں سب لوگ واپس آجائیں گے تاہم دو سال گزرنے کے باوجود ان کا انتظار حتم نہیں ہو سکا۔ ماضی میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا وعدہ کرنے والی حکومت اب ہماری بات تک سننے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔
اسلام آباد میں ڈیڑھ ماہ سے مسلسل چلچلاتی دھوپ اور سرد راتوں کی یخ بستگی میں دھرنے پر بیٹھی یہ مائیں ایک ایسے نظام پر سوال اٹھاتی نظر آتی ہیں جو معمولی سے اختلاف رائے پر اپنے ہی شہریوں کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں غائب کر دیتا ہے۔ ان ماؤں کی آوازوں میں لرزش ضرورہے مگر یقین اٹل ہے کہ ایک دن وہ اپنے بیٹوں کو بازیاب کروانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے بیٹے مجرم ہیں تو انھیں عدالتوں میں پیش کریں اس طرح لاپتہ کر کے انھیں جیتے جی مت ماریں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لاپتہ افراد کا معاملہ صرف انسانی حقوق کا نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کا بحران ہے۔ ایک طرف ریاست قومی سلامتی کے نام پر اقدامات کا دفاع کرتی ہے، تو دوسری طرف یہ مائیں سوال کرتی ہیں کہ قومی سلامتی کا مطلب کیا صرف بیٹوں کو چھین لینا ہے؟ اگر ان کے بچوں سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو انھیں گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کریں تاکہ انھیں یہ تو تسلی رہے کہ ان کے بچے زندہ ہیں اب تو انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کس حال میں ہیں۔ مبصرین کے مطابق جب انصاف کا دروازہ بند ہو جاتا ہے تو مایوسی جنم لیتی ہے، اور یہ مایوسی بغاوت، محرومی اور نفرت کو پروان چڑھاتی ہے۔اگر بلوچ نوجوانوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو ملک دشمن قوتیں عوامی جذبات کو ملکی مفادات کے خلاف استعمال کر سکتی ہیں۔ تاہم یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کب تک یہ مائیں اپنے ہاتھوں میں بیٹوں کی تصویریں لیے سڑکوں پر بیٹھتی رہیں گی؟ کب تک ان کے دلوں کی چیخیں بند کمروں میں دفن کی جاتی رہیں گی؟ اور کب تک ریاست ان آنکھوں میں جھانکنے سے گریز کرے گی جو دن رات بس اپنے بچوں کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستی ہیں؟یہ مائیں محض اپنی اولاد کو نہیں ڈھونڈ رہیں، بلکہ حقیقت میں ریاست سے انصاف، انسانیت اور اپنے وجود کا حق مانگ رہی ہیں جو انھیں ملتا نظر نہیں آتا۔
