اوورسیز ملازمتوں میں پاکستانی خواتین بالکل غائب کیوں؟

ہر سال لاکھوں پاکستانی بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک روانہ ہوتے ہیں، لیکن اس ہجرت میں ملک کی آدھی آبادی تقریباً غائب نظر آتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے پاکستانیوں میں خواتین کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ ملک کے اندر بھی خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت محض 22 سے 26 فیصد کے درمیان ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف صنفی عدم مساوات کی عکاس ہے بلکہ پاکستان کے لیے روزگار، زرمبادلہ اور معاشی ترقی کے ایک بڑے موقع کے ضائع ہونے کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب تربیت، محفوظ مواقع، سماجی رکاوٹوں کے خاتمے اور جدید حکومتی پالیسیوں پر توجہ دی جائے تو پاکستانی خواتین عالمی لیبر مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان سے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایک کروڑ سے زائد افراد قانونی طور پر روزگار کے لیے بیرونِ ملک جا چکے ہیں، مگر ان میں خواتین کی نمائندگی انتہائی محدود رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک جانے والی پاکستانی ورک فورس میں خواتین کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے، جو نہ صرف ایک تشویشناک حقیقت ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

بیورو آف امیگریشن کے مطابق صرف 2025 کے دوران سات لاکھ باسٹھ ہزار سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہوئے، جبکہ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں مزید تین لاکھ سے زیادہ افراد بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ ان میں اکثریت مزدوروں، ڈرائیوروں، الیکٹریشنز، ویلڈرز، کارپینٹرز اور دیگر فنی شعبوں سے وابستہ افراد کی ہے، جبکہ خواتین کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو خواتین بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرتی ہیں، ان کی بڑی تعداد ہیلتھ کیئر کے شعبے، خصوصاً ڈاکٹرز اور نرسز پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر خلیجی ممالک اور برطانیہ میں خدمات انجام دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ گھریلو ملازمین، آیا، بیوٹیشنز اور محدود تعداد میں آئی ٹی اور کارپوریٹ شعبے سے وابستہ خواتین بھی بیرونِ ملک کام کر رہی ہیں، تاہم ان کی مجموعی تعداد انتہائی کم ہے۔

ماہرین کے مطابق خواتین کی کم نمائندگی کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان میں معاشرتی اور خاندانی پابندیاں، پیشہ ورانہ تربیت کی کمی، محفوظ روزگار کے محدود مواقع، جدید مہارتوں کا فقدان اور خواتین کے لیے مخصوص حکومتی پالیسیوں کی عدم موجودگی شامل ہیں۔

سینیئر سیاست دان اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے مطابق بیرونِ ملک پاکستانی خواتین کی ایک فیصد سے بھی کم نمائندگی نہایت تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں "کیئر اکانومی” کے شعبے کو فروغ دے کر خواتین کے لیے لاکھوں نئے روزگار پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں نرسنگ، بچوں اور بزرگوں کی دیکھ بھال، بحالی صحت اور سماجی خدمات کے شعبوں میں تربیت یافتہ خواتین کی بہت زیادہ ضرورت ہے، جہاں پاکستانی خواتین بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے مطابق صرف روزگار کے مواقع پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی، خواتین کی پیشہ ورانہ تربیت، محفوظ مائیگریشن اور حکومتی سرپرستی بھی ناگزیر ہے تاکہ خواتین اعتماد کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں داخل ہو سکیں۔

امیگریشن ماہرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستانی خواتین کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کیے بغیر ان کی نمائندگی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق آئی ٹی، ہیلتھ کیئر، بیوٹی اینڈ ویلنس، ڈیجیٹل سروسز اور دیگر جدید شعبوں میں بین الاقوامی معیار کی تربیت خواتین کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ وہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی زیادہ طلب ایسے شعبوں میں ہوتی ہے جہاں جسمانی مشقت درکار ہوتی ہے، جبکہ روایتی معاشرتی ڈھانچے کے باعث پاکستانی خواتین ان شعبوں میں کم نظر آتی ہیں، جس سے بیرونِ ملک ان کی مجموعی تعداد بھی محدود رہ جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومت خواتین کی پیشہ ورانہ تعلیم، بین الاقوامی سرٹیفکیشن، زبان کی تربیت، محفوظ امیگریشن نظام اور خواتین دوست پالیسیوں پر سرمایہ کاری کرے تو نہ صرف لاکھوں خواتین کو باعزت روزگار مل سکتا ہے بلکہ پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کا اضافی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں آدھی آبادی کو معاشی سرگرمیوں میں مؤثر انداز میں شامل کیے بغیر پائیدار ترقی کا حصول مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے خواتین کی اوورسیز روزگار میں شمولیت صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ قومی معاشی حکمت عملی کا بھی اہم حصہ بن چکی ہے۔

Back to top button