کیا پاکستان میں اب پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلیں گی؟

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پندرہ روز بعد مقرر کرنے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے کے نئے فارمولے پر غور کر رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نظام سے قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی بحران پر قابو پایا جا سکے گا، تاہم پیٹرول پمپ مالکان اس تجویز کو کاروبار کے لیے تباہ کن قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کے لیے تیار ہے، اور اس کے عوام، کاروبار اور معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ عالمی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے ساتھ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں سپلائی میں جزوی کمی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق اب قیمتیں ہر پندرہ روز یا ہفتہ وار بنیاد پر مقرر کرنے کے بجائے روزانہ تبدیل کی جا سکیں گی۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس نظام سے عالمی منڈی میں آنے والی تبدیلیوں کا فوری اثر مقامی مارکیٹ میں منتقل ہوگا اور مصنوعی ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور اچانک بڑے اضافوں سے بچا جا سکے گا۔
دوسری جانب وزارتِ پیٹرولیم نے ملک میں پیٹرول کی قلت یا سپلائی متاثر ہونے کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کم از کم تین ہفتوں کا پیٹرولیم ذخیرہ موجود ہے اور ایندھن کی فراہمی کا نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی جاری ہے اور درآمدی سپلائی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔وزارت کے مطابق بعض علاقوں میں اگر سپلائی میں وقتی کمی دیکھنے میں آئی ہے تو اس کی بنیادی وجہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مالی معاملات اور بقایا جات ہیں، نہ کہ ملک میں پیٹرولیم ذخائر کی کمی۔
اسلام آباد میں نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے اجلاس میں بھی ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا، جہاں متعلقہ اداروں نے یقین دہانی کرائی کہ موجودہ ذخائر ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اجلاس میں اوگرا اور صوبائی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی اور عوام کو بلا تعطل سپلائی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
حکومت کے زیر غور مجوزہ ڈیلی پرائسنگ میکانزم کے مطابق ہر روز سنگاپور کی عالمی مارکیٹ کے پلیٹس انڈیکس، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن، ٹرانسپورٹ اخراجات اور حکومتی ٹیکسوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمت مقرر کی جائے گی۔ منصوبے کے مطابق اوگرا کا خودکار ڈیجیٹل نظام ہر شام نئی قیمتوں کا حساب لگا کر آئل کمپنیوں اور پیٹرول پمپوں کو فراہم کرے گا، جبکہ نئے نرخ رات بارہ بجے سے ملک بھر میں نافذ ہو جائیں گے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طریقہ کار سے صارفین کو پندرہ دن بعد ایک ساتھ 15 یا 20 روپے فی لیٹر اضافے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ قیمتوں میں معمولی روزانہ تبدیلیاں ہوں گی، جس سے مارکیٹ میں غیر ضروری خوف، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
تاہم پیٹرول پمپ مالکان اس مجوزہ نظام سے اتفاق نہیں کرتے۔ آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام ہی ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، جبکہ روزانہ قیمتیں تبدیل ہونے سے اسٹاک مینجمنٹ، مالی منصوبہ بندی اور کاروباری استحکام شدید متاثر ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت نے اس اہم فیصلے میں اصل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا، اور اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔
توانائی کے ماہرین اس معاملے پر مختلف آرا رکھتے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر پیٹرول کی قلت کا خطرہ موجود نہیں، البتہ عالمی حالات کے باعث آنے والے دنوں میں قیمتوں میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت مکمل تکنیکی تیاری، مضبوط نگرانی، شفاف نظام اور مؤثر گورننس کے ساتھ ڈیلی پرائسنگ نافذ کرتی ہے تو طویل مدت میں اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ صرف روزانہ قیمتیں مقرر کر دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ اوگرا، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ڈیجیٹل نظام، معلومات کی بروقت فراہمی اور مارکیٹ کی نگرانی کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا، ورنہ یہ نظام نئے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔مجموعی طور پر حکومت کی جانب سے روزانہ قیمتوں کے تعین کا منصوبہ پاکستان کی پیٹرولیم پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار صرف فارمولے پر نہیں بلکہ شفاف عمل درآمد، مؤثر نگرانی، تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت اور عالمی منڈی کے مسلسل بدلتے حالات سے ہم آہنگ رہنے پر ہوگا۔
