ایران امریکہ کشیدگی، پاکستان نے ریڈ لائن واضح کر دی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کے ممکنہ سفارتی اور دفاعی کردار سے متعلق ایک اہم دعویٰ سامنے آیا ہے۔ غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستانی حکام نے مبینہ طور پر ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ "سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور اس پر حملہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہوگا۔” رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو حوثی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے پر شدید تشویش ہے اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے تناظر میں بعض اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ تاہم پاکستانی حکومت یا دفتر خارجہ نے ان مخصوص دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، جبکہ اسلام آباد کا سرکاری مؤقف بدستور یہی ہے کہ تمام فریق تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔
مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا، اسرائیل اور حوثی کارروائیوں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے دوران پاکستان کے کردار سے متعلق نئی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز نے پاکستانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد نے اعلیٰ سطح پر ایرانی قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے ایک "سرخ لکیر” کی حیثیت رکھتی ہے اور اگر سعودی عرب پر حملہ ہوا تو اسے پاکستان کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیغام پاکستان کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت کی جانب سے دیا گیا۔ خبرایجنسی کے مطابق اس اقدام کے پس منظر میں وہ خدشات کارفرما ہیں کہ اگر یمن میں سرگرم حوثی گروہ اپنی کارروائیوں کا دائرہ سعودی عرب تک مزید وسیع کرتے ہیں تو پاکستان بھی بالواسطہ طور پر اس بحران سے متاثر ہو سکتا ہے۔
رائٹرز نے دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو یمن سے متصل سعودی سرحد کے قریب تعینات کیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دفاعی اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق پاکستان کی تشویش کی ایک بڑی وجہ بحیرہ عرب اور خلیجی سمندری راستوں کی سلامتی ہے۔ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلتی ہے تو عالمی تجارت، تیل اور گیس کی ترسیل اور پاکستان کی معیشت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ایرانی قیادت کے مختلف حلقوں کے درمیان پالیسی اختلافات پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ خبرایجنسی کے مطابق بعض پاکستانی ذرائع کا خیال ہے کہ ایران میں سیاسی قیادت اور پاسداران انقلاب کے مؤقف میں بعض معاملات پر فرق موجود ہے، جس سے فیصلہ سازی کا عمل مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسی دوران ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی قیادت میں ایک وفد کے اسلام آباد پہنچنے کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور ایران۔امریکا تنازع سمیت مختلف امور پر بات چیت متوقع بتائی گئی۔
پاکستان کے سرکاری مؤقف کے مطابق ملک تمام فریقوں سے تحمل، مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنی حالیہ بریفنگ میں واضح کیا کہ موجودہ بحران کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں کردار ادا کیا تھا، تاہم بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع ہونے سے صورتحال ایک بار پھر پیچیدہ ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت نہایت حساس سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب پاکستان کا قریبی دفاعی اور اقتصادی شراکت دار ہے، جبکہ دوسری جانب ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، جس کے ساتھ سرحدی سلامتی اور اقتصادی تعاون بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لیے اسلام آباد کی کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے اور تمام تنازعات کا حل سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جائے۔
