پیپلز پارٹی اور فوج کے تعلقات خراب کیوں ہو رہے ہیں؟

پاکستانی سیاسی منظر نامے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی، بالخصوص چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں دوریاں بڑھ رہی ہیں، حالانکہ ان کے والد آصف علی زرداری اس وقت صدرِ پاکستان کے منصب پر فائز ہیں۔

اس تاثر کو تب مزید تقویت ملی جب بلاول بھٹو زرداری نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف براہِ راست اسٹیبلشمنٹ کا نام لے کر تنقید کی بلکہ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں نون کیگ کے حق میں دھاندلی کروانے کا الزام بھی عائد کر دیا۔ اس کے اگلے ہی روز ان کا ایک اور جارحانہ بیان سامنے آیا جس نے ملک کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے حالیہ خطاب میں کہا کہ "مجھے بے نظیر بھٹو کی سیاست کرنے دیں، اور زرداری کا بیٹا بننے پر مجبور نہ کریں۔” ان کے اس جملے کو مختلف سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے پیپلز پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اپنی تقریر میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ مفاہمت، جمہوری عمل اور پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، لیکن اگر انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وہ صرف آصف علی زرداری کے بیٹے ہی نہیں بلکہ شاہنواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کے بھانجے بھی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان میں بیک وقت مفاہمت اور مزاحمت، دونوں سیاسی رویوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا یہ بیان محض ایک جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سیاسی پیغام بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے، جماعت کی سیاسی شناخت کو دوبارہ نمایاں کرنے اور بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مبصرین اس بات کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ حالیہ دنوں میں بلاول بھٹو کی تقاریر میں ریاستی اداروں، خصوصاً اسٹیبلشمنٹ، کے حوالے سے نسبتاً سخت لہجہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات کے بارے میں ان کے دھاندلی کے الزامات اور بعد ازاں "زرداری کا بیٹا بننے پر مجبور نہ کریں” جیسے بیان کو بعض حلقے انہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، اگرچہ متعلقہ اداروں کی جانب سے ان الزامات کی تردید یا وضاحت بھی سامنے آ چکی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے بلاول بھٹو کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح کے رہنماؤں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی پیدا کریں۔ ان کے مطابق اگر کسی ریاستی ادارے سے اختلاف موجود ہے تو اسے آئینی اور سیاسی فورمز پر اٹھایا جانا چاہیے، نہ کہ ایسے بیانات کے ذریعے جن سے غلط فہمیاں پیدا ہوں۔
سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق بلاول بھٹو کے بیان میں صرف مفاہمت کا پیغام نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر سخت سیاسی مؤقف اختیار کرنے کا اشارہ بھی موجود ہے۔ ان کے بقول بلاول نے آصف علی زرداری، میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کا حوالہ دے کر اپنی سیاسی وراثت کے مختلف پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا، تاہم انہیں اپنے سیاسی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔

تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق بلاول بھٹو کی تقریر میں بظاہر دو مختلف سیاسی انداز نمایاں ہیں۔ ایک طرف وہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی مفاہمتی سیاست کا حوالہ دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف بھٹو خاندان کی مزاحمتی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر حالات نے مجبور کیا تو وہ زیادہ سخت سیاسی راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کے حالیہ بیانات کو پیپلز پارٹی کی سیاسی تنظیم نو کی کوشش کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق آصف علی زرداری کی مفاہمتی سیاست کے باعث پارٹی کافی عرصے سے نسبتاً دفاعی انداز میں دکھائی دے رہی تھی، جبکہ بلاول اپنی جماعت کے کارکنوں میں ایک نئی سیاسی توانائی اور اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا پیپلز پارٹی مستقبل میں حکومتی اتحاد کا حصہ رہتے ہوئے مفاہمت کی موجودہ پالیسی برقرار رکھے گی یا بلاول بھٹو کی قیادت میں زیادہ جارحانہ اپوزیشن سیاست اختیار کرے گی۔ بعض مبصرین کے مطابق حالیہ بیانات اسی ممکنہ تبدیلی کا ابتدائی اشارہ ہیں، تاہم اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلاول بھٹو کے حالیہ بیانات نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔ حکومتی اتحاد، اپوزیشن اور سیاسی مبصرین سب کی نظریں اب پیپلز پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔ آیا بلاول بھٹو مفاہمت کی سیاست کو جاری رکھیں گے یا زیادہ جارحانہ سیاسی بیانیہ اختیار کریں گے، اس کا جواب آنے والے مہینوں کی سیاسی پیش رفت ہی فراہم کرے گی۔

Back to top button