وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کیوں دی؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ملکی نظام کی تباہی اور زبوں حالی بارے بیان نے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں اسے حکومتی کارکردگی، سول ملٹری تعلقات اور انتظامی اصلاحات کے تناظر میں مختلف انداز سے دیکھا گیا۔ تاہم باخبر ذرائع کے مطابق اس بیان کا مقصد کسی ادارے یا حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں بلکہ ملک میں بہتر طرز حکمرانی، مؤثر عوامی خدمات اور مستقبل کی انتظامی اصلاحات کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام سے متعلق ایک سوچ کو اجاگر کرنا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا تصور کئی عرصے سے زیر بحث ہے، جسے اب ایک بار پھر قومی سطح پر موضوع بنایا جا رہا ہے۔
روزنامہ جنگ سے وابستہ سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے موجودہ نظام کو "تباہ حال” قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور مختلف سوالات کو جنم دیتا ہے۔ تاہم اس معاملے سے باخبر ذرائع کے مطابق ان کے بیان کو حکومتی اختلاف یا ادارہ جاتی کشیدگی سے جوڑنا درست نہیں، بلکہ اس کا بنیادی مقصد انتظامی اصلاحات کے تصور کو عوامی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کے دوران اس امر کی نشاندہی کی کہ موجودہ طرز حکمرانی بڑھتی ہوئی آبادی، پیچیدہ انتظامی معاملات اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو آئندہ برسوں میں بھی ملک کو انہی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہتر حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام جیسے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر بیٹھ کر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا، تاکہ انتظامی اختیارات عوام کے مزید قریب منتقل کیے جا سکیں۔
محسن نقوی کے بیان کے بعد بعض سیاسی مبصرین نے اسے حکومتی کارکردگی پر تنقید یا سول اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات سے تعبیر کیا، تاہم باخبر ذرائع نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس بیان کا مقصد کسی ادارے یا حکومت کے خلاف پیغام دینا نہیں تھا بلکہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات سے متعلق ایک دیرینہ سوچ کو سامنے لانا تھا۔
ذرائع کے مطابق ملک میں زیادہ مؤثر انتظامی نظام کے لیے نسبتاً چھوٹے اور زیادہ تعداد میں انتظامی یونٹس قائم کرنے کی تجویز مختلف ادوار میں زیر بحث رہی ہے۔ اس سوچ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبوں میں انتظامی بوجھ بڑھنے سے عوامی خدمات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور مقامی مسائل کے حل میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں، جبکہ چھوٹے انتظامی یونٹس عوام تک ریاستی خدمات کی رسائی بہتر بنا سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ صرف انتظامی نہیں بلکہ آئینی اور سیاسی نوعیت بھی رکھتا ہے۔ کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے آئینی طریقہ کار، متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی منظوری اور پارلیمنٹ میں مطلوبہ آئینی اکثریت درکار ہوتی ہے، اس لیے اس معاملے پر وسیع سیاسی اتفاقِ رائے ناگزیر ہوگا۔
ایران کا دفاعی نظام تباہ کر دیا، مزید سخت حملے کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ
ماہرین کے مطابق انتظامی اصلاحات کی بحث نئی نہیں، تاہم حالیہ بیانات نے ایک بار پھر اس موضوع کو قومی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ بحث صرف سیاسی بیانات تک محدود رہتی ہے یا مستقبل میں حکومت اور سیاسی جماعتیں انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے حوالے سے کسی عملی لائحہ عمل پر بھی متفق ہو پاتی ہیں۔
