پاکستان میں سیاسی تبدیلی کی افواہیں بے بنیاد کیوں ہیں؟

معروف صحافی اور لکھاری عمار مسعود نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی تبدیلی اور نظام کے خاتمے بارے گردش کرنے والی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں، انکے مطابق ایسی قیاس آرائیاں مخصوص سیاسی حلقوں، مفاد پرست عناصر، افواہ ساز تجزیہ کاروں اور ریاست مخالف بیانیہ آگے بڑھانے والے گروہوں کی خواہشات ہیں، جن کا مقصد بے یقینی، مایوسی اور سیاسی انتشار کو فروغ دینا ہے۔
عمار مسعود نے معروف صحافی سہیل وڑائچ کی جانب سے ملک میں سیاسی تبدیلی اور نظام کے خاتمے کے دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کالم نگار رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن حکومتیں صرف تجزیوں اور خواہشات کی بنیاد پر نہیں گرتیں اور نہ ہی ریاستی نظام محض سیاسی تبصروں سے تبدیل ہو جاتا ہے۔
عمار مسعود نے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جب بھی مختلف نوعیت کے بحران ایک ساتھ سامنے آتے ہیں تو بعض حلقے فوری طور پر یہ تاثر دینا شروع کر دیتے ہیں کہ نظام گرنے والا ہے یا بڑی سیاسی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو ہر بحران کو غیر معمولی سیاسی تبدیلی سے جوڑ دیتا ہے۔ ان کے بقول ایسے لوگ افواہوں پر زندہ رہتے ہیں، خدشات کو حقیقت کا رنگ دیتے ہیں، اپنی خواہشات کو تجزیے کا نام دیتے ہیں اور بغیر ٹھوس شواہد کے ایسی خبریں تراشتے ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہو کہ ملک میں سب کچھ بدلنے والا ہے۔
عمار مسعود کے مطابق حالیہ دنوں میں بھی مختلف سیاسی اور سماجی واقعات کو بنیاد بنا کر یہ بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے کہ حکومت یا نظام اپنے انجام کے قریب پہنچ چکا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ محض چند واقعات یا اختلافات کو بنیاد بنا کر کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا نتیجہ اخذ کرنا درست تجزیہ نہیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں جاری جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی حقوق کی تحریکیں بعض اوقات اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر دوسرے عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے لگتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مواقع پر مطالبات کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے اور اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے، جس سے غیر ضروری سیاسی اور سماجی کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کے حالیہ متنازع بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے عمار مسعود نے کہا کہ مولانا تجربہ کار سیاست دان ہیں اور وہ سوچ سمجھ کر گفتگو کرتے ہیں، اس لیے ان کے بیان کو محض لغزش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں اصل سوال یہ ہے کہ مولانا کا مخاطب کون تھا، ان کی ناراضی کس سے ہے اور وہ کس کو اپنا پیغام دینا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق اس پس منظر کو سمجھے بغیر محض قیاس آرائیوں سے درست نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے عمار مسعود نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں اور آپریشنز جاری ہیں، تاہم اس مسئلے کا حل صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط سیاسی حکمت عملی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سیاسی محاذ پر سرگرم ہیں، لیکن انہیں وسیع تر سیاسی تعاون کی ضرورت ہے۔
معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی معاشی کارکردگی پر سوالات موجود ہیں اور یہی عوامل عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہے ہیں، تاہم ان مسائل کو نظام کے خاتمے یا فوری سیاسی تبدیلی کی دلیل قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے وکلا کی جانب سے لانگ مارچ کی ممکنہ تحریک پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی وکلا تحریک کے تجربات کے بعد عوام اب کسی نئی تحریک کو اسی انداز میں قبول کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ ان کے مطابق ماضی میں بعض تحریکوں کو مختلف مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، اس لیے اب عوام پہلے جیسا جوش نہیں رکھتے۔
پی ٹی آئی کے حوالے سے عمار مسعود نے کہا کہ پارٹی کی بعض قیادت اور حامی ہر داخلی بحران، احتجاج یا انتظامی ناکامی کو ریاست کی ناکامی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے خصوصاً نورین نیازی کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات سے محب وطن حلقوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی، جبکہ ان کے بقول بعض عناصر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ریاست مخالف بیانیہ مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک کو سیاسی، معاشی اور سکیورٹی سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم یہ تاثر درست نہیں کہ ریاستی نظام اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں انتشار پھیلانے والی قوتیں ضرور سرگرم ہیں، لیکن ریاستی ادارے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عمار مسعود نے کہا کہ عوام کو ان افواہوں اور قیاس آرائیوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے جن میں بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "کچھ ہونے والا ہے”۔ ان کے مطابق یہ تاثر زیادہ تر ان حلقوں کی خواہشات کا عکاس ہے جو سیاسی عدم استحکام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست کو درپیش مسائل کا حل آئینی، سیاسی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس لیے غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
