مولانا نے الٹا فوج کو معافی مانگنے کا کیوں کہہ دیا؟

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے فوج بارے متنازع بیان پر شروع ہونے والا تنازع مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے فوج کی جانب سے معافی مانگنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے الٹا فوجی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان سے معافی مانگے۔ انہوں نے اپنے فوج مخالف بیان پر رد عمل دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے بلکہ ان کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والوں کو ان سے معذرت کرنا ہوگی۔

اس پیش رفت کے بعد حکومتی حلقوں، وفاقی وزرا اور جے یو آئی (ف) کے درمیان لفظی محاذ آرائی مزید تیز ہو گئی ہے۔ اگلے روز اپنی جماعت کے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ "جس فوج نے، جس جنرل نے اور جس دفتر سے میرے اور میری جماعت کے خلاف پراپیگنڈا چلایا گیا، وہ مجھ سے معافی مانگے۔” ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیان کو جان بوجھ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تاکہ ان کی کردار کشی کی جا سکے۔مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا کہ وہ نہ صرف اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوں گے بلکہ چاروں صوبوں کا دورہ کرکے عوام کے سامنے اپنا نقطۂ نظر پیش کریں گے۔ان کے مطابق ان کی تقریر کی بدنیتی کے ساتھ غلط تشریح کی گئی اور انہیں جھکانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم وہ کسی دباؤ کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے۔
یہ تنازع اس تقریر کے بعد شروع ہوا جو مولانا فضل الرحمن نے رواں ماہ قصور میں اپنی جماعت کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتی دہشت گردی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ "تم اپنے جوانوں کے خون کا احسان مجھ پر کیوں ڈالتے ہو؟” انہوں نے کہا کہ جو فوجی جوان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں وہ اس کام کی تنخواہ وصول کرتے ہیں اور یہی ان کا فرض ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو سیاست کرنی ہے تو وہ وردی اتار کر انتخابات میں حصہ لے۔

مولانا کے اس بیان کو حکومتی وزرا نے فوج اور شہدا کی قربانیوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ فوجی جوانوں کی عظیم قربانیوں کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ شہدا، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور ان کے اہل خانہ کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلاف رائے اپنی جگہ مگر قربانیوں کی توہین کسی صورت قابل قبول نہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سخت ردعمل کے بعد معاملہ قانونی رخ بھی اختیار کر گیا۔ 15 جولائی کو گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت نے مولانا فضل الرحمن کے بیان سے متعلق درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 اگست تک جواب طلب کر لیا، جس کے بعد اس معاملے کی قانونی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان کے خیال میں مولانا فضل الرحمن نے بعض باتوں کو شاید غلط سمجھا یا ان کی غلط تشریح کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت عوام کو لشکر بنانے کی ترغیب نہیں دے رہی بلکہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں صرف اپنے دفاع کے قانونی حق کی بات کی جا رہی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آمد تک شہری اپنی حفاظت کے لیے بنیادی اقدامات کریں تو اسے "لشکر سازی” قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق بینکوں، دکانوں اور دیگر اداروں کی نجی سکیورٹی بھی اسی اصول کے تحت ہوتی ہے اور اس کا مطلب ہرگز مسلح گروہ تشکیل دینا نہیں۔
تاہم مولانا فضل الرحمن نے وکلا کنونشن میں اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہدا کے مقام و مرتبے سے بخوبی واقف ہیں اور انہیں کوئی اس حوالے سے درس نہ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنقید سپاہیوں پر نہیں بلکہ پالیسی سازوں پر تھی، کیونکہ سپاہی تو صرف احکامات پر عمل کرتے ہیں جبکہ پالیسی بنانے والوں کو اپنی حکمت عملی کا جواب دینا چاہیے۔

مولانا نے اپنی تقریر میں کارگل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ ان کے بیان کا مقصد فوجی جوانوں کی قربانیوں کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ ریاستی پالیسیوں پر اختلاف رائے کا اظہار تھا۔ ان کے مطابق ان کے الفاظ کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔ جے یو آئی (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے بھی مولانا فضل الرحمن کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ قصور کے جلسے سے صرف ایک جملہ نکال کر ان کے خلاف منظم مہم چلائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا خود شہدا کی حرمت اور تقدس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی جماعت کے بھی سیکڑوں کارکن دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

حافظ حمد اللہ نے الزام لگایا کہ مولانا فضل الرحمن کی اصل تنقید ریاستی اداروں کے آئینی کردار، امن و امان کی خراب صورتحال اور بعض پالیسیوں پر تھی، لیکن اس تنقید کو دانستہ طور پر فوج دشمنی کا رنگ دیا گیا۔ ان کے مطابق خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں مسلسل بگڑتی سکیورٹی صورتحال پر سوال اٹھانا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسی تناظر میں مولانا فضل الرحمن نے عوام کو مسلح کرنے یا قبائلی لشکر بنانے کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ تجزیہ کار ماجد نظامی اور سینیئر صحافی علی اکبر کے مطابق معاملے کا ایک اہم سیاسی پہلو بھی ہے۔ ان کے خیال میں مولانا فضل الرحمن خود کو ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرنے والی اہم سیاسی آواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جبکہ حکومتی وزرا کی مسلسل تنقید سے یہ تنازع مزید طول پکڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر سیاسی رابطے کیے جاتے تو شاید کشیدگی میں کمی آ سکتی تھی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے دوٹوک مؤقف، حکومت کے سخت ردعمل، قانونی کارروائی اور دونوں جانب سے بیانات کے مسلسل تبادلے کے باعث یہ تنازع فی الحال ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ایک طرف مولانا اپنے بیان پر معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے الٹا فوجی قیادت سے معذرت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومت اور حکومتی اتحاد کے رہنما ان کے بیان کو شہدا کی قربانیوں کی توہین قرار دیتے ہوئے مسلسل تنقید کر رہے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں اس سیاسی محاذ آرائی کے مزید بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

Back to top button