زندگی سے بھرپورعامرلیاقت، موت کے ہاتھوں کیوں ہار گیا

زندگی سے بھرپور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی اچانک موت نے ان کے مداحوں کے علاوہ ان کے ناقدین کو بھی افسردہ کر دیا ہے۔ اپنے متنازعہ بیانات اور ناکام شادیوں کی وجہ سے خبروں میں ان رہنے والے عامر لیاقت کی اچانک موت نے ہر کسی کو چونکا کے رکھ دیا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کو ہمشہ خبروں میں رہنے کا شوق تھا اور ان کی اچانک موت نے انہیں ایک بار پھر سرخیوں میں آنے کا موقع فراہم کر دیا۔

جویریہ عباسی اوراعجاز اسلم نے خلیل قمر کو کیوں دھویا؟

ڈاکٹر عامر لیاقت کے تعارف کے لیے کسی ایک شعبے میں ان کی مہارت کو بیان کرنا ان کے ساتھ زيادتی ہو گی۔ ان کی پیدائش 5 جولائی 1971 کو کراچی میں ہوئي تھی۔ ان کے والد شیخ لیاقت حسین ایک سیاست دان جب کہ ان کی والدہ محمودہ سلطانہ اہک لکھاری تھیں جو کہ جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کی رکن بھی رہیں- ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پی ایچ ڈی بھی تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے نام کے ساتھ ڈاکٹر عامر لیاقت لگایا جاتا تھا- مگر ان دونوں شعبوں میں ڈگریاں لینے کے باوجود انہوں نے اپنے کیرئير کا آغاز بطور ایف ایم 101 میزبان کے طور پر کیا۔ اسکے بعد جیو ٹی وی کے پروگرام عالم آن لائن نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیے- عامر لیاقت جو بھی کام کرتے تھے اپنے منفرد انداز سے کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جب پہلی مرتبہ ٹی وی پر گیم شو شروع کیا تو اس معاملے میں بھی عروج ان کا نصیب بنا-

عامر لیاقت کی سیاسی زندگی بھی ان کی ذاتی زندگی کی طرح اتار چڑھاو کا شکار رہی۔ وہ کم عمری ہی میں 2002 میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر ایم این اے بن گئے اور وزارت مذہبی امور کا اہم ترین قلم دان بھی سنبھال لیا- مگر پھر اپنی قیادت سے اختلاف پر انہیں استعفی دینا پڑا۔ اس کے بعد 2018 میں انہوں نے ایم کیو ایم کو خدا حافظ کہہ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور ڈاکٹر فاروق ستار کو 25 ہزار ووٹوں سے شکست دے کر ایم این اے بن گئے- نظریاتی اختلافات کا سلسلہ یہاں بھی جاری رہا اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر انہوں نے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کر دیا- ان کا موقف تھا کہ عمران خان فوجی قیادت کے خلاف صرف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ مزید نہیں چل سکتے۔

عامر لیاقت کے مزاج کا تغیر ان کی ازدواجی زندگی میں بھی آڑے آتا رہا۔ ان کی پہلی شادی تقریباً پندرہ سال تک بشریٰ کے ساتھ چلی جس سے اللہ نے ان کو ایک بیٹا اور ایک بیٹی سے بھی نوازا۔ مگر یہ طویل ہمسفری تب اختتام کو پہنچی جب طوبیٰ انور عامر کی زندگی میں داخل ہوئی اور انکی اہلیہ بن گئیں۔ طوبی سے نکاح کتلے بعد عامر نے بشریٰ کو طلاق دے دی لیکن طوبی سے ان کی شادی صرف تین سال چل سکی اور یہ بھی علیحدگی پر ختم ہوئی- اس کے فوراً بعد انہوں نے دانیہ شاہ کے ساتھ تیسری شادی کر لی لیکن یہ رشتہ صرف تین ماہ چل پایا اور دانیہ نے خلع کا دعویٰ دائر کردیا۔ دانیہ کی جانب سے لگائے جانے والے تشدد اور نشے کے الزامات ایک جانب تو عامر لیاقت کی شہرت کے لیے نقصاندہ ثابت ہوئے اور دوسرا انکو مایوسی کا بھی شکار کر دیا- آخری دنوں میں وہ شدید ذہنی کرب میں مبتلا تھے اور دل شکستہ تھے۔

عامر لیاقت کی اچانک موت کے حوالے سے اگرچہ پولیس تحقیق کر رہی ہے مگر کسی نے صحیح کہا ہے کہ جب انسان اندر سے مر جائے تو سانس لینے کا نام زندگی نہیں ہوتی- عامر لیاقت کی پے در پے ازدواجی ناکامیوں بے انہیں ڈپریشن میں مبتلا کر لیا تھا جس سے نکلنے کے لئے وہ نشے کی لت کا شکار ہو گئے تھے۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ دانیہ شاہ سے تیسری شادی کا فیصلہ عامر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا چونکہ وہ ان کے کیریئر کو ہی لے ڈوبی۔ تیسری بیوی کی جانب سے جاری کی جانے والی عامر لیاقت کی عریاں ویڈیوز نے انہیں اپنے کمرے تک محدود کردیا تھا اور وہ ملک چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتے تھے۔ اسکے علاوہ عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑنا ان کو کافی مہنگا پڑا کیونکہ عمران کے سوشل میڈيا بریگییڈ نے ان کو نہ صرف سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ انہوں نے عامر کی میمز بنا کر انہیں طنز اور مذاق کا بھی نشانہ بنایا جس نے ان کو بہت دل برداشتہ کر دیا۔ ان کی تیسری بیوی کے ساتھ ہونے والے پھڈے نے سوشل میڈيا پر بھی ایک جنگ کی صورت اختیار کر لی تھی- لیکن دانیہ کی جانب سے وائرل کی جانے والی ویڈیوز نے عامر لیاقت کو توڑ کر رکھ دیا تھا- ان کو اس بات کا بہت قلق تھا کہ انہوں نے عالم آن لائن کے سبب جتنی عزت بنائی تھی وہ سب خاک میں مل گئی یے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ملک چھوڑنے تک کا ارادہ کر لیا تھا- تاہم موت کے فرشتے نے انہیں اتنی مہلت ہی نہیں دی۔

Back to top button