عامر لیاقت کی تدفین روک دی گئی، پوسٹمارٹم کروانے کا فیصلہ

کراچی پولیس نے مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت کی تدفین کو روکتے ہوئے ان کا پوسٹمارٹم کرانے کا فیصلہ کیا ہے، چھیپا کو میت متعلقہ تھانے کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کراچی ضلع شرقی پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ پوسٹ مارٹم کروایا جائے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد میت ورثا کے حوالے کی جائے۔
دوسری جانب چھیپا ویلفیئر ٹرسٹ کی انتظامیہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کو پولیس نے کہا ہے کہ لاش کو ورثا کے حوالے نہ کیا جائے اور جب تک قانونی کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی جسد خاکی کو سرد خانے میں ہی رکھا جائے۔قبل ازیں ان کی سابق اہلیہ بشرٰی اقبال نے کہا تھا کہ عامر لیاقت کی نماز جنازہ جمعے کی نماز کے بعد عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں قائم مسجد میں ادا کی جائے گی۔

اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں کس نے چھپا رکھا تھا؟

جمعرات کو رات گئے عامر لیاقت حسین کی سابق اہلیہ سیدہ بشرٰی اقبال نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی جس کے مطابق مرحوم کے دونوں بچوں احمد عامر اور دعائے عامر نے والد کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا ہے، عامر لیاقت کے بچوں نے والد کی مکمل عزت و احترام کے ساتھ آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، عامر لیاقت کو ان کی خواہش کے مطابق والدین کے ساتھ عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے ان کی رہائش گاہ خدا داد کالونی میں انتظامات کیے گئے ہیں، اس سے قبل عامر لیاقت حسین کے دو ملازمین کو شامل تفتیش کرتے ہوئے تحقیقاتی ادارے نے ان کے گھر کے کمرے کو سیل کردیا تھا۔کراچی ضلع شرقی پولیس انویسٹی گیشن کے سینیئر افسر نے اُردو نیوز کو بتایا تھا کہ ’عامر لیاقت کے کمرے کو تحقیقات کی غرض سے سیل کیا گیا ہے۔
دونوں ملازمین سے واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔ دونوں ملازمین کو پابند کیا گیا ہے کہ پولیس کو اطلاع دیے بغیر شہر سے باہر نہ جائیں۔یاد رہے عامر لیاقت کے اہل خانہ کی جانب سے پوسٹ مارٹم سے انکار کے بعد عامر لیاقت کا جسد خاکی چھیپا کے سرد خانے منتقل کر دیا گیا تھا۔

Back to top button