عمران خان پاکستان مخالف طالبان کے ساتھ کیوں کھڑے ہو گئے؟

پاکستان مخالف تحریک طالبان کی عمران خان کیساتھ ذہنی ہم آہنگی کا کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج سے 11 برس پہلے جب نواز شریف حکومت نے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو ٹی ٹی پی کی مذاکراتی کمیٹی نے اپنی طرف سے جن 4 مذاکرات کاروں کے نام دیئےان میں ایک عمران خان تھے۔ تحریک طالبان کی محبت میں گرفتار عمران خان نے خیبر پختونخواہ کو ایک خوفناک جنگی مہم کے الاؤ تک پہنچانے کے بعد نئے وزیر اعلی سے یہ اعلان کروا دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت صوبے میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔

معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینٹر عرفان صدیقی روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں کہتے ہیں کہ ایک ایسے نازک وقت کہ جب افغانستان میں  خوں آشام دہشت گردوں کی پرورش کرنیوالی تربیت گاہوں اور محفوظ پناہ گاہوں کیخلاف ایک فیصلہ کن فوجی آپریشن کیا جا رہا تھا، عمران خان نے خیبرپختون خوا میں ایک ایسا وزیر اعلی نامزد کر دیا ہے جس نے وفاق اور افواج پاکستان کے اہداف و مقاصد سے متصادم پالیسیاں آگے بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حکمتِ عملی کی تمام تر ہمدردیاں اُن دہشت گرد عناصر کیساتھ ہیں جو شہریوں اور مسلح افواج پر حملے کر رہے ہیں۔

عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ یہ 29 جنوری 2014 کا ذکر ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں سے مشاورت کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم امن کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھولا جائے۔ لیکن کوئی ایسی بات نہیں مانی جائیگی جو ریاست پاکستان اور اس کی حاکمیت اعلیٰ سے متصادم ہو۔ اس موقع پر وزیراعظم نے، قومی اسمبلی میں ہی چار رُکنی مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کیا جسکی منظوری ایوان نے ڈیسک بجا کر دی۔ سب سے پُرجوش ردّعمل عمران خان کا تھا۔ چار رُکنی کمیٹی میں مجھے بطورِ حکومتی نمائندے کے شامل کیا گیا۔ دیگر ارکان میں افغان امور کے ماہر اور معروف صحافی رحیم اللہ یوسفزئی، سابق سفیر رستم شاہ مہمند اور افغان امور سے آگاہی رکھنے والے میجر (ر)محمد عامر شامل تھے۔ خلافِ توقع، ٹی ٹی پی نے اس پیش رفت کو فوری طور پر خوش آمدید کہا۔ اگلے ہی دِن انہوں نے باضابطہ طورپر اطلاع دی کہ سرکاری کمیٹی سے بات چیت کیلئے ٹی ٹی پی نے بھی چار ارکان کی کمیٹی نامزد کر دی ہے۔ اَب جگر تھام کے اس تاریخی حقیقت کے کچوکے کے لئے تیار ہوجائیے کہ وہ چار شخصیات کون سی تھیں جن پر طالبان نے نہ صرف اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا بلکہ اُنہیں اپنی نمائندگی کا اعزاز بھی بخشا۔

ٹی ٹی پی کی نامزد کردہ کمیٹی میں، پہلا نام، تحریک انصاف کے بانی عمران خان کا تھا۔ دوسرا مولانا سمیع الحق مرحوم کا، تیسرا اسلام آباد لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کا اور چوتھا جماعت اسلامی کے راہنما پروفیسر محمد ابراہیم کا۔ عرفان صدیقی بتستے یین کہ میں نے مولانا سمیع الحق سے پوچھا کہ کیا واقعی ٹی ٹی پی نے عمران خان کو اپنی مذاکراتی کمیٹی کے نمائندے کے طور پر نامزد کیا ہے؟ مولانا نے مجھ سے تھوڑا وقت لیا اور تصدیق کرتے ہوئے کہنے لگے ’’انہوں نے عمران کو نامزد ہی نہیں کیا، بلکہ ان کا یہ اصرار بھی ہے کہ وہ لازمی اس کمیٹی کا حصہ ہوں۔ جب میں نے یہ بات وزیراعظم نوازشریف کو بتائی تو وہ تصویرِ حیرت بن خر بولے ’’کیا واقعی؟‘‘ میں نے کہا ’’جی ہاں‘‘۔ اس ہر میاں صاحب کہنے لگے کہ ’’آپ ری چیک کرلیں۔ مجھے تو یہ بہت عجیب بات لگتی ہے۔‘‘

عرفان صدیقی کے بقول جب میں نے ’ری چیک‘ کیا تو یہ بات مستند نکلی۔ ادھر خان صاحب تک بات پہنچی تو انہوں نے پارٹی کا اجلاس طلب کیا۔ جب اس تجویز پر مشاورت ہوئی تو پارٹی کی مرکزی قیادت نے ٹی ٹی پی کی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بننے کی مخالفت کر دی۔ چنانچہ عمران خان نے طالبان کی چار رکنی مذاکراتی کمیٹی کا رُکن بننے سے معذرت کرلی۔ تاہم انہوں نے وزیراعظم سے کہاکہ رستم شاہ مہمند کو ٹی ٹی پی کی کمیٹی میں پی ٹی آئی کا نمائندہ سمجھ لیا جائے۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ تب عمران خان، پاکستانی طالبان کی کمیٹی کا حصہ تو نہ بنے لیکن پاکستان میں دہشت گردی کی ہولناک وارداتیں کرنیوالی ٹی ٹی پی کی طرف سے اُنکی نامزدگی، دونوں کے درمیان باہمی اعتماد، گہرے تعلق اور مفادِ باہمی کی کہانی ضرور بیان کرتی ہے۔ اس بات کو اب گیارہ سال ہوچکے ہیں۔ کروٹیں بدلتے سیاسی حالات و واقعات کی تُرشی، دونوں کے نشے کو نہیں اُتار سکی۔ طالبان کے لیے عمران خان کے عشق میں نہ تو کوئی کمی آئی اور نہ ہی وہ ٹی ٹی پی کے دِل سے اُتر پائے۔ تازہ ترین حالات سے بھی یہی لگتا ہے کہ حُسن کی شوخیاں بھی قائم ہیں اور عشق کی گرمیاں بھی۔

عرفان صدیقی یاد دلاتے ہیں کہ ٹی ٹی پی سے عمران خان کی انسیت کا ایک بڑا ثبوت اُن کے عہدِ اقتدار میں تحریک طالبان کے ہزاروں جنگجوؤں کو خیبر پختون خوا لا کر بسانا تھا۔ یہ تصوّر کس نے پیش کیا؟ اِس امر کی ضمانت کس نے دی کہ جن کی تلواروں کو خون کی چاٹ لگ چکی ہے وہ پاکستان واپس آ کر معصومیت کے سانچے میں ڈھل کر امن وآشتی کے سفیر بن جائیں گے؟ ان جنگجوؤں کی باضابطہ رجسٹریشن اور نگرانی کا کوئی ٹھوس بندوبست بھی نہیں کیا گیا؟ عمران خان کے بقول چالیس ہزار کے لگ بھگ، اِن جنگجوؤں کے اہلِ خاندان لا بسائے گئے، سوال یہ ہے کہ اب وہ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟

فروری 2023 میں، وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے ’ڈان‘ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’’جب افغان جنگ ختم ہوئی تو عمران خان نے بتایا کہ تیس سے چالیس ہزار پاکستانی قبائلی جنگجو واپس آنا چاہتے ہیں۔‘‘ عمران نے کہا ’’پی ٹی آئی حکومت کے سامنے صرف دو ہی راستے تھے۔ ایک تو یہ کہ وہ تمام طالبان جنگجوؤں کو مار دے یا پھر اُن کیساتھ معاہدہ پر کرے اور اُنہیں خیبر پختون خوا میں آباد ہونے کا موقع دے۔ ریاض پیرزادہ نے یہ بھی بتایا کہ’’ ایک ’اِن کیمرا میٹنگ‘ میں جنرل باجوہ نے ٹی ٹی پی کو واپس پاکستان لانے کی وکالت کی تو بلاول بھٹو اور شہباز شریف نے کہا کہ یہ لوگ بینظیر بھٹو شہید سمیت ، کئی اہم شخصیات کے قتل میں ملوث ہیں۔ تاہم ان کی مخالفت کے باوجود عمران خان کے اصرار پر طالبان کو واپس لانے فیصلہ کر لیا گیا۔ اس معاملے میں سب سے ذیادہ سرگرمی جنرل فیض حمید نے دکھائی۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ آج جب اپنے پیاروں کی ہزاروں لاشیں اٹھانے کے بعد، پاکستانی عوام کا پیمانۂِ صبر لبریز ہو چکا ہے اور فیصلہ سازوں نے دہشت گردوں، انکے سرپرستوں اور اُنکی پناہ گاہوں پر کاری ضرب ِلگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، تو عمران خان ایک بار پھر تاریخ کی غلط سمت جا کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یکایک علی امین گنڈا پور کو ہٹا کر ایک ایسے شخص کو وزیراعلیٰ نامزد کر دیا ہے جسکا سارا زورِ بیاں، طالبان دہشت گردوں کی ہم نوائی پر صرف ہوتا رہا، جو اُن کیخلاف فوجی آپریشن کا سب سے بڑا مخالف ہے اور جو ٹی ٹی پی کو پی ٹی آئی کی سیاسی فوج کا ہراول دستہ سمجھتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عمران موجودہ حکومت گرانے اور انقلابِ لانے کیلئے جلسوں، دھرنوں، لانگ مارچز، سول نافرمانی، اور 9 مئی کے حملوں کے بعد مایوس ہوکر یہ انتہائی خطرناک حربہ استعمال کرنے جا رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت اور مسلح افواج کو طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں زچ کر دیا جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان طالبان کی محبت میں خود بھی ایک خوفناک جنگی مہم کے الاؤ تک آن پہنچے ہیں؟ لیکن ڈر یہ ہے کہ جو الاؤ انہوں نے پاکستان کے لیے بھڑکایا ہے کہیں خود اس میں نہ گھر جائیں۔

Back to top button