انڈیا نے افغان طالبان کو آگے لگا کر پاکستان سے ٹھکائی کیسے کروائی؟

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ دنوں میں بھارت کے اکسانے پر افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستانی بارڈر پوسٹوں پر حملوں نے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب دینے کے بعد یہ منصوبہ الٹا افغان حکومت کے گلے پڑ گیا ہے، کیونکہ پاکستان کی سخت ترین جوابی کارروائی نے نہ صرف افغان سکیورٹی فورسز کے چھکے چھڑا دئیے ہیں بلکہ انھیں اپنی چیک پوسٹیں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ پنگے بازی نےکابل انتظامیہ کی سیاسی ساکھ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے خلاف بزدلانہ جارحیت کے جواب میں پاکستان نے چن چن کر افغانستان کے مختلف حصوں میں کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور ان دہشت گرد تنظیموں کا بیشتر انفرا اسٹرکچر تباہ کر دیا۔ دوسری جانب افغان وزیر خارجہ کی بھارت یاترا کے پیچھے بنایا گیا مذموم منصوبہ بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ خود ایک افغان صحافی نے بی جے پی اور طالبان کو ایک سکے کے دو رخ قرار دے دیا ہے۔ افغان امور کو کور کرنے والے صحافیوں کے بقول کابل بمباری واقعہ کے بعد افغان طالبان پر اندرونی طور پر بہت زیادہ دبائو تھا کہ وہ جوابی کارروائی کریں۔ تاہم افغان طالبان اس کے نتائج سے خوف زدہ تھے۔ لیکن افغان طالبان نے بھارت کے اکسانے پر جارحیت کا فیصلہ کیا اور پاکستان کی سرحدی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا ۔ تاہم ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی فوری جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ کیونکہ تب تک پاکستان کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز ہو چکا تھا۔اس کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی میں نہ صرف افغانستان کی بیس کے قریب چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا۔ بلکہ دو سو سے زائد افغان طالبان کو ہلاک بھی کر دیا ۔ تباہ شدہ چیک پوسٹوں پر متعدد افغان طالبان نے ہتھیار بھی ڈال دیئے۔ پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی کا سلسلہ اتوار کی صبح تک جاری رہا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان پر پاکستان کے فضائی حملوں نے ایک بار پھر طالبان حکومت کی عسکری سازوسامان اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت بڑی کوتاہیاں ظاہر کر دی ہیں۔ افغان حکومت کے پاس ریڈار سسٹم نہیں اور نہ ہی اس کے پاس طیاروں کا پتہ لگانے، نگرانی کرنے اور طیاروں کو مار گرانے کا نظام ہے۔ لہٰذا افغان طالبان کی حکومت براہ راست جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہے۔ اسی لئے پاکستانی جوابی کارروائی کے دوران افغان طالبان کی جانب سے کم از کم تین بار جنگ بندی کی منتیں کی گئیں، جو مسترد کر دی گئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مبطابق اگرچہ افغانستان کی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی طرف سے کی جانے والی بھرپور اور تباہ کن کارروائی کا سلسلہ اتوار کی صبح روک دیا گیا تھا۔ تاہم اب یہ طے شدہ پالیسی ہے کہ ٹی ٹی پی کی کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا جواب پاکستان، افغانستان کے اندر دے گا۔ یہ پیغام واضح طور پر دیا جا چکا ہے اور اس سے خطے کے دوست ممالک کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر حالیہ دہشت گرد حملے کی ذمے داری پہلے کالعدم ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی۔ تاہم اس کے اگلے روز ہی وہ مکر گئی اور ایک کھوکھلا وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور غلطی سے اس کارروائی کی ذمے داری کو تسلیم کیا گیا تھا۔ بعدازاں اس کارروائی کی ذمے داری ایک غیر معروف دہشت گرد تنظیم نے قبول کر لی۔ ذرائع کے بقول کالعدم ٹی ٹی پی نے پاکستان کے دو ٹوک پیغام کے بعد اس خوف سے اپنی دہشت گردانہ کارروائی کو ایک غیر معروف اور فرضی تنظیم پر ڈالا، کیونکہ اسے اس کارروائی کا پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر بھرپور ایکشن کا خوف تھا۔ چنانچہ افغان طالبان کے مشورے پر اس کارروائی کی ذمے داری سے انکار کیا گیا۔

دوسری جانب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی بھارت یاترا کے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ متقی کے دورہ بھارت کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ انٹیلی جنس اداروں کے پاس ایسی انفارمیشن موجود ہے کہ متقی کے دورہ بھارت کے دوران دہشت گردی کی کارروائیوں میں اچانک اضافہ افغان حکومت اور انتہا پسند ہندو مودی سرکار کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا، تاکہ پاکستان کو اشتعال دلایا جا سکے۔ اور یہ کہ جواب میں پاکستان جو بھی ممکنہ کارروائی کرتا ہے، اسے وکٹم کارڈ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ جس کے بعد متقی نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف پریس کانفرنس کی۔ یہ پریس کانفرنس بھی اسی طے شدہ منصوبے کا حصہ تھی، جس کا اسکرپٹ اجیت دوول کی مشاورت سے تیار کیا گیا تھا۔

بعد ازاں مذموم منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی اور اسے کابل اور پکتیکا میں فضائی حملوں کے خلاف جوابی کارروائی قرار دیا گیا۔ تاہم افغان طالبان یہ بھول گئے کہ پاکستان نے کچھ عرصہ پہلے ہی نہ صرف اپنے سے دس گنا طاقتور بھارت کی فضائیہ کو ذلت آمیز شکست دی، بلکہ کنٹرول لائن پر بھارتی چوکیوں پر ایسی بے مثال گولہ باری کی کہ بھارتی فوجی جنگ بندی کا سفید پرچم لہراتے ہوئے اپنی چوکیاں اور ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔چنانچہ افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ کا جب پاکستان نے بھرپور جواب دینا شروع کیا تو بالکل بھارتیوں کی طرح افغان طالبان بھی اپنی تباہ شدہ چوکیوں اور ساتھیوں کی لاشوں کو چھوڑ کر ناصرف بھاگ نکلے، بلکہ جنگ بندی کی منتیں بھی کرنے لگے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق کے مطابق پاکستان نے افغانی جارحیت کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ ساتھ ہی بین الاقوامی برادری کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا، اور واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن امن کمزوری سے نہیں، اصولی مؤقف سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان افغانستان سے پرامن تعلقات کا خواہاں ہے تاہم اگر افغان حکومت نے بھارتی پراکسی بننے کی کوشش کی تو اسے اسے بھارت کی طرح جواب دیا جائے گا

تجزیہ کاروں کے مطابق افغان حکومت کے لیے بھی پاکستان سے حالیہ جھڑپیں ایک نیا بحران ثابت ہوئی ہیں۔ ایک طرف افغانستان میں عوامی سطح پر بھارت سے بڑھتے تعلقات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، تو دوسری جانب طالبان کی صفوں میں بھی یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ بھارتی دباؤ قبول کرنا "اسلامی امارت” کے نظریاتی بیانیے سے متصادم ہے مبصرین کے مطابق  پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی نے طالبان حکومت کی داخلی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے۔  خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ عالمی برادری سے تسلیم کیے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک سینئر افغان تجزیہ کار کے مطابق، "بھارت نے کابل کو ایک ایسے کھیل میں دھکیل دیا ہے جس کا انجام افغانستان کی مزید تنہائی اور غیر یقینی مستقبل ہو سکتا ہے۔ حقیقت میں پاکستان کے ساتھ پنگا لے کر افغانستان نے اپنے انجام کی بنیاد رکھ دی ہے۔

ماہریین کے بقول بھارتی ایما پر پاکستان میں دراندازی کی کوششوں کا طویل المدتی نقصان خود افغانستان کو برداشت کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی نہ صرف اس کی معیشت اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی بلکہ اسے عالمی سطح پر بھی مزید غیر معتبر بنا دے گی۔ افغانستان کو سمجھنا چاہیے کہ خطے میں امن اور استحکام پاکستان سے محاذ آرائی میں نہیں بلکہ باہمی تعاون میں مضمر ہے۔ بھارت کی وقتی خوشنودی کے لیے کی جانے والی پالیسیوں کا انجام افغانستان کی تباہی اور مزید تنہائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

Back to top button