پاکستان سونے کے ذخائر سعودیہ کو کوڑیوں کے بھاؤ کیوں بیچنے لگا؟

وفاقی حکومت نے ریکوڈک کے گیم چینجر منصوبے سے پاکستانی عوام کی قسمت بدلنے کی بجائےریکوڈک گولڈ منصوبے کے شئیرز کی لوٹ سیل لگا دی ہے اور پاکستانی گولڈ کے ذخائر کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچنا شروع کر دیا ہے۔ حکومت نے بغیر کسی پیشگی بڈنگ کے صرف 540ملین ڈالرز کے عوض ریکوڈک منصوبے کے 15فیصد شئیرز سعودی عرب کو فروخت کر دئیے ہیں۔پاکستان کی جانب سے سعودی عرب سے ریکوڈک شئیر کی خریدوفروخت کا معاملہ تنقید کی زد میں ہےمعاشی ماہرین جہاں اس ڈیل کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں وہیں اس معاہدے کے نقصانات بارے بھی بحث جاری ہےکچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ مالی بحران سے دوچار حکومت پاکستان نے بلوچستان کے ریکوڈک گولڈ منصوبے کے شیئرز انتہائی کم قیمت پر سعودی عرب کو فروخت کر دئیے ہیں۔ اس منصوبے کے حقیقی فوائد حکومت کو اسی وقت مل سکتے ہیں، جب اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے ساتھ معاہدہ شفاف ہو اور اس پر چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھا جا سکے۔
خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان نے سعودی عرب کو 540 ملین ڈالر میں ریکوڈک منصوبے کے پندرہ فیصد شیئرز فروخت کی منظوری ایک بین الحکومتی معاہدے کے تحت دی ہے۔وفاقی حکومت کے پاس اس منصوبے کا کل 25 فیصد حصہ تھا جبکہ 25 فیصد حصہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کا ہے۔ باقی پچاس فیصد شیئرز اس منصوبے کی آپریٹنگ کمپنی بیرک گولڈ کی ملکیت ہے۔وفاقی کابینہ کی طرف سے اپنے پندرہ فیصد شیئرز کی فروخت کی ڈیل کے تحت سعودی عرب دو قسطوں میں رقوم ادا کرے گا۔ پہلے مرحلے میں سعودی عرب 10 فیصد حصص خریدے گا، جس کے لیے پاکستان کو 330 ملین ڈالرز منتقل کیے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں بقیہ 5 فیصد شیئرز 210 ملین ڈالرز میں خریدے جائیں گے۔
واضح رہے کہ ریکوڈک منصوبہ دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ کاپر اور گولڈ مائنز پراجیکٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیتھیان کاپر کمپنی نے ان ذخائر کو دریافت کیا تھا۔ تاہم سن 2011 میں پاکستان نے اس کمپنی کو لیز پر مائئنگ دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد اس کمپنی کی طرف سے عالمی عدالت سے رجوع کر لیا گیا تھا۔ کیس ہارنے کے نتیجے میں پاکستان کو چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔تاہم اس جرمانے سے بچنے کے لیے پاکستان نے اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کیے اور اسے پچاس فیصد شیئرز دیتے ہوئے ایک تصفیہ کر لیا تھا۔ اس منصوبے کے باقی نصف حصص وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین تقسیم کر دیے گئے تھے۔
ڈپٹی کمشنر کرم پر فائرنگ امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش ہے : محسن نقوی
مبصرین کے مطابق حکومت بارہا یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ریکوڈک گولڈ منصوبہ پاکستان اور بلوچستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایک ایسا مؤثر نظام قائم نہ کیا گیا، جو اس منصوبے سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی کو شفاف انداز میں ظاہر کرے تو جو کچھ حکومت کو مل رہا ہے وہ صرف ایک وقتی فائدہ ہو گا جبکہ عوام تک طویل المدتی فوائد نہیں پہنچ پائیں گے۔کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اگرچہ تب ٹیتھیان کو چھ بلین ڈالرز کا ہرجانہ ادا کرنے سے بچ گئی تھی لیکن اس منصوبے کی مالیت اس جرمانے سے کہیں زیادہ تھی۔ لہٰذا سعودی عرب کو فروخت کیے گئے 15 فیصد حصص کی قیمت مناسب معلوم نہیں ہوتی۔سعودی عرب کو ریکوڈک پراجیکٹ کے شئیرز فروخت کر کے پاکستان نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔
دوسری جانب بعض معاشی ماہرین سوعدی عرب سے ریکوڈک منصوبے بارے کئے گئے معاہدے سے پرامید بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے کیا جانے والا معاہدہ خطے میں مزید سرمایہ کاری کو راغب کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریکوڈک گولڈ پراجیکٹ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے۔ اس کے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس منصوبے بارے دیگر کمپنیاں بھی دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔ یہ ایک اچھا اشارہ ہے لیکن پاکستان کو احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔‘‘
