شہبازحکومت پی ٹی آئی پرپابندی لگاتے ہوئے کنفیوژ کیوں ہو گئی؟

نون لیگ کی وفاقی حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے اعلان پر عمل درآمد سے پیچھے ہٹتی دکھائی دیتی ہے۔اگرچہ وفاقی وزیر عطااللہ تارڑ کے مطابق حکومت نے تحریک انصاف پر پابندی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور اس کے لیے حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے مشاورت بھی کی جا چکی ہے لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی عملی قدم سامنے نہیں آیا۔
خیال رہے کہ پہلے حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی پر پابندی کا اعلان کیا گیا، پھر حکومتی حلقوں کی جانب سے کہا گیا کہ پابندی کا معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا اور کابینہ سے اس کی باقاعدہ منظوری لی جائے گی لیکن بدھ کے روز جب کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا تو اس موضوع کو زیر بحث لایا گیا نہ ہی اجلاس کے متعلق جاری کیے گئے اعلامیے میں اس کا ذکر کیا گیا۔یہی نہیں بلکہ عمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری پر غداری کا مقدمہ چلانے کا معاملہ بھی اعلانات کے باوجود کابینہ کے سامنے نہیں رکھا گیا۔
مبصرین کے مطابق حکومت ابھی پی ٹی آئی پر پابندی اور اس کے رہنماؤں پر غداری کے مقدمات چلانے کے لیے مزید سوچ بچار کر رہی ہے اور تمام اتحادیوں سے مشاورت کے بعد اس پر حتمی فیصلہ کر کے اس معاملے کو کابینہ میں لے کر آئے گی۔تاہم بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت کو پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے اتحادی جماعتوں کی مکمل تائید حاصل نہیں اس لیے اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ حکومت اس حد تک نہ جائے اور یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے ملتوی ہو جائے۔
کالم نگار اور پروگرام اینکر اجمل جامی نے اس بارے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’پی ٹی آئی پر پابندی نہیں لگے گی۔‘جب ان سے استفسار کیا گیا کہ وہ کیوں ایسا سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے ہی اعلان سے پیچھے ہٹ جائے گی تو انہوں نے بتایا کہ ’حکومت کو ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ معاملہ موخر کرنا پڑے گا۔ اور اگر یہ زیادہ موخر ہو گیا تو پھر اس پر کبھی عملدرآمد نہیں ہو سکے گا۔‘جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو پھر اس کا اعلان کیوں کیا تھا تو اجمل جامی نے کہا کہ ’اس کا مقصد پی ٹی آئی کی نبض دیکھنا اور اس طرح کے کسی ممکنہ اقدام کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لینا تھا۔‘
تاہم تجزیہ نگار احمد اعجاز کا خیال ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی لگانا ممکن نہیں ہے۔ احمد اعجاز کے مطابق ’ایسا ممکن نہیں کہ حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے میں کامیاب ہوسکے۔ بالخصوص سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ کے پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد ایسا ہوتا کسی صورت ممکن نہیں نظر آرہا۔‘احمد اعجاز نے کہا کہ ماضی میں جتنی سیاسی جماعتوں پر پابندی کی کوششیں کی گئی ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوسکیں۔’چاہے سیاسی جماعتوں پر پابندی، سیاسی حکومتوں کے ادوار میں لگائی گئی ہو یا آمریت کے ادوار میں۔ حالانکہ وہ ساری پارٹیاں پی ٹی آئی کی طرح مضبوط اور ان کے قائدین عمران خان کی طرح مقبول نہیں تھے۔‘
احمد اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ ’لیکن اس فیصلے اور اس سے قبل پی ٹی آئی کے خلاف کیے گئے اقدامات نے اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی سب سے بڑی حامی جماعت ن لیگ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔‘’یہ حکومت پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ایسا فیصلہ کربیٹھی مگر یہ فیصلہ دیگر سیاسی جماعتوں جیسا کہ پیپلزپارٹی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کی تنقید کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے اور ن لیگ بیک فٹ پر چلی گئی ہے۔‘احمد اعجاز سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی پر پابندی کی بات کرکے توجہ بٹانے کی ایک کوشش گئی ہے اور یہ عمران پر دباؤ بڑھانے کا ایک حربہ تھا۔’اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہیں ہے۔‘
