اتحادی حکومت کی وزیراعلیٰ اور گورنر پنجاب آمنے سامنے کیوں آ گئے؟

پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری کے تنازعے نے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی اتحادی حکومت کی وزیراعلی مریم نواز اور گورنر سلیم حیدر کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس کے بعد وزیراعلی اور گورنر ہاؤس کی جانب سے ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری جاری ہے۔ وزیر اعلی کا یہ موقف ہے کہ وائس چانسلرز کی تقرری ان کا اختیار ہے اور گورنر کا کردار صرف رسمی ہے۔ تاہم دوسری جانب گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی صورت فیورٹ ازم کی بنیاد پر نااہل افراد کو وائس چانسلر بنانے کی منظوری نہیں دیں گے۔ اس دوران وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب کی 7 یونیورسٹیز میں مستقل وائس چانسلرز تعینات بھی کر دئیے ہیں، تاہم گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے کسی ایک بھی تقرری کی منظوری نہیں دی اور وہ ان لوگوں کو وائس چانسلرز نہیں مانتے۔

یاد رہے کہ صوبہ پنجاب میں اِس وقت بہت سی پبلک سیکٹر یونی ورسٹیز بغیر وائس چانسلر کے کام کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ صوبے کی 29 سرکاری جامعات بشمول میڈیکل یونی ورسٹیز، ویمن یونی ورسٹیز اور جنرل یونی ورسٹیز میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کا عمل جاری ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار تھا۔حال ہی میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی لسٹ کے مطابق پنجاب میں 49 سرکاری یونیورسٹیوں ہیں جن میں سے 29 میں کئی برسون سے قائم مقام وائس چانسلر تعینات ہیں۔ گزشتہ ہفتے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے وائس چانسلر کی تقرری کے لیے وزیرِ اعلٰی مریم نواز کی جانب سے بھیجی گئی ناموں کی سمری پر اختلاف کرتے ہوئے اُسے رد کر دیا تھا۔ گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلٰی کی جانب سے کوئی بھی نام حتمی طور پر تجویز نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ مستقل وائس چانسلرt کی تقرری کے لیے تین نام حروفِ تہجی کے اعتبار سے بھیجے جاتے ہیں جن میں سے کسی ایک کی منظوری دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو نام آپ دیں وہ میرٹ پر ہے اور جو نام کوئی اور تجویز کرے، وہ میرٹ پر نہیں ہے۔
گورنر ہاؤس کے ترجمان کے مطابق گورنر پنجاب چاہتے ہیں کہ تمام تعیناتیاں میرٹ پر ہوں۔ ابکا کہنا تھا کہ چوں کہ وائس چانسلر صاحبان نے بطور چانسلر گورنر پنجاب کے ماتحت کام کرنا ہے لہازا وہ مستقل وائس چانسلر کی تقرری میں اپنا آئینی کردار ادا کریں گے۔ خیال رہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد کسی بھی صوبے کی سرکاری جامعات میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کا اختیار اُس صوبے کے وزیرِ اعلٰی کو دیا گیا ہے۔ جو حتمی امیدوار کا نام گورنر کو بھجوائے گا جس پر گورنر بطور چانسلر دستخط کرنے کے بابند ہوں گے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کے مطابق کسی بھی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تقرری کے لیے ایک سرچ کمیٹی بنائی جاتی ہے جس میں سابق وائس چانسلرز، ماہرینِ تعلیم، چیف فنانس آفیسر اور نجی اداروں کے ماہرین کو شامل کیا جاتا ہے۔ کسی بھی چانسلر کی تقرری کے لیے سرچ کمیٹی اخبارات میں اشتہار دیتی ہے اور سکروٹنی کے بعد امیدواروں کے انٹرویوز کرتی ہے۔ ادخے بعد سرچ کمیٹی اُس جامعہ کے تین بہترین اساتذہ کا انتخاب کرتی ہے جس میں امیدواروں کے ریسرج پیپرز، انکی تعلیمی قابلیت، تجربہ، تحقیق، انٹرنیشنل پیپرز کی چھپائی اور دیگر مواد کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔

ماہرینِ تعلیم سمجھتے ہیں کہ وائس چانسز کی تقرری کے معاملے پر گورنر پنجاب اور وزیراعلی پنجاب کے مابین جاری جنگ سے تعلیمی اداروں کا تقصان ہو گا اور لوگ تعلیمی اداروں کی ساکھ پر سوال اُٹھائیں گے۔ وزیراعلی ہاؤس کا موقف ہے کہ پاکستان کے پارلیمانی نظام میں گورنر کے عہدے کی حیثیت کوئی طاقت نہیں رکھتی۔ اُس کے پاس صرف رسمی اختیارات ہیں اور اس نے ایوان اور کابینہ کے فیصلوں کی توثیق کرنا ہوتی ہے۔ لیکن گورنر پنجاب کا موقف ہے کہ وہ اہم ترین آئینی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے دستخطوں کے بغیر وائس چانسلر کی تعییناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے گورنر سلیم حیدر نے پچھلے ہفتے سست وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے وزیرِ اعلٰی مریم نواز کی جانب سے بھیجی گئی ناموں کی سمری کو رد کر دیا تھا۔ گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلٰی کی جانب سے کوئی بھی نام حتمی طور پر تجویز نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم وزیراعلی ہاؤس گورنر ہنجاب کے موقف سے اتفاق نہیں کرتا۔ سی ایم ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے گورنر صاحب اپنے کچھ لوگوں کو وائس چانسلر لگوانا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے پریشر ڈال رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ سرچ کمیٹیوں نے کم از کم 400 اہل افراد کو شارٹ لسٹ کر کے انٹرویوز کیے ہیں۔ طریقہ کار یہی ہے کہ سرچ کمیٹی انٹرویوز کے بعد تین نام وزیر اعلٰی کو بھجوائے گی اور وہ اُن ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلٰی کا اختیار ہے کہ وہ مجوزہ لسٹ میں شامل کسی بھی اُمیدوار کو حتمی قرار دے کر بطور وائس چانسلر تعیناتی کے لیے گورنر کے پاس بھیجے۔ پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ یونی ورسٹیز کے وائس چانسلر کی تقرری کے لیے سلیکشن کمیٹی کی منظوری کابینہ نے دی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کابینہ کے فیصلوں کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔

Back to top button