پاکستانی پائلٹ نے روسی نائب صدر بننے والے کا جہاز کیوں گرایا ؟

بہت کم پاکستانی جانتے ہیں کہ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے دوران پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے روس کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے تھے جن میں سے ایک کے پائلٹ کو گرفتار بھی کیا گیا جو رہائی کے کچھ برس بعد پہلے روس کا نائب صدر اور پھر قائم مقام صدر بھی بنا اور پاکستان کا دورہ بھی کیا۔
ایئرکموڈور قیصر طفیل نے اپنی کتاب ’گریٹ بیٹلز آف پاکستان ایئرفورس‘ میں افغان جنگ کے دوران پاکستانی حدود میں گرائے جانے والے 5 سوویت لڑاکا طیاروں کی کہانی بیان کی ہے جن میںنکرنل الیگزینڈر رٹسکوئی نامی فائٹر پائلٹ کا ایس یو 25 طیارہ بھی شامل تھا جسے 1988 میں گرایا گیا۔ بعد ازاں 1991 میں وہ روسی صدر بورس یلسن کے نائب صدر بنے اور اُس عہدے پر جولائی1991 سے اکتوبر 1993 تک فائز رہے۔ اِس کے بعد وہ روس کے صوبے کرسک کے گورنر بنے اور آئینی بحران کے دوران مختصر عرصے کے لیے روس کے قائم مقام صدر بھی بنے۔ دودری جانب روسی پائلٹ کا جہاز گرانے والے پاکستانی سکواڈرن لیڈر اطہر بخاری بعد میں ایئر مارشل بنے۔ وہ پاک فضائیہ میں وائس چیف آف ایئر سٹاف بھی بنے۔
علامہ طاہر القادری کی چند وارداتیں عطا الحق قاسمی کی زبانی
بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ میں ایئر کمانڈور قیصر طفیل کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اگست 1988 کی صبح پاک فضائیہ کی جانب سے گرائے گئے سوویت جنگی طیارے کا ملبہ تو پاکستانی علاقے میران شاہ کے قریب مل گیا لیکن اس کا کاک پٹ خالی تھا۔ ملبے کے مقام پر پہنچنے والے پاکستانی اہل کاروں کا خیال تھا کہ شاید پائلٹ پیدل افغانستان فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا ہو۔ لیکن طیارے کا پائلٹ اسی کوشش میں کھیتوں میں چھپا ہوا تھا۔ اسی دوران قریبی گاؤں کی ایک خاتون گھر سے رفع حاجت کے لیے کھیت میں نکلی تو اس نے وہاں صرف زیر جامہ میں ملبوس ایک چھ فٹ لمبا اور خوبصورت شخص سویا ہوا دیکھا۔ اس نے فورا گھر لوٹ کر اس اجنبی کی موجودگی کی اطلاع دی۔
کچھ ہی دیر میں قبائلیوں کا ایک گروپ اس پائلٹ کو شلوار قمیض پہنا کر پاکستانی حکام کے سامنے کھڑا تھا۔ آٹھ دن تک پاکستان میں قیدی رہے اس پائلٹ کا نام کرنل الیگزینڈر رٹسکوئی تھا جو تین سال بعد سوویت یونین کے نائب صدر بنے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ان کا جنگی طیارہ پاکستان میں کیسے گرایا گیا اور آخر ایک سوویت پائلٹ پاکستان آیا ہی کیوں؟ دراصل سوویت یونین کے پاکستان سے تعلقات تب خراب ہو گئے تھے جب دسمبر 1979 میں افغانستان میں سوویت افواج داخل ہونے کے بعد پاکستان امریکہ کی ظاہری اور خفیہ امداد کا ایک راستہ اور لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی پناہ گاہ بن گیا۔ چنانچہ سوویت اور افغان بمبار طیاروں نے افغان مہاجر کیمپ تباہ کرنے کے لیے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونا شروع کر دیا۔ 1300 سے زائد بار دراندازی میں مہاجر کیمپوں پر بمباری کے نتیجے میں 300 سے زیادہ افغان مہاجرین ہلاک ہوئے۔ اسی تناظر میں
تب فوجی حکمران جنرل ضیا الحق نے امریکی صدر ریگن کو 40 ایف 16 طیاروں کی فروخت کی اجازت دینے پر قائل کر کیا۔ سنہ 1988 میں جب سوویت زمینی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو رہا تھا تو سوویت اور افغان فضائیہ نے تباہ ہوتی افغان کمیونسٹ حکومت کو بچانے کی آخری کوشش میں ایک زبردست بمباری مہم شروع کر دی۔
8 اگست 1988 کی رات، کرنل الیگزینڈر رٹسکوئی مسلح طیاروں کی ایک ٹکڑی کی قیادت کرتے ہوئے پاک افغان سرحد کے بالکل قریب واقع شمالی وزیرستان ایجنسی کے قصبے میران شاہ میں، پناہ گزین کیمپ پر حملے کے لیے آئے تھے۔غروب آفتاب سے آدھ گھنٹا پہلے کا وقت تھا جب پاکستانی ریڈار پر کنٹرولر سکواڈرن لیڈر توفیق راجا نے ان کا پتا لگایا اور سکواڈرن لیڈر اطہر بخاری ان سے نمٹنے کو لپکے۔
پاکستانی علاقے ہنگو کی فضا میں انھیں بتایا گیا کہ حملہ آور طیارے افغانستان واپس جا رہے ہیں۔ انھوں نے فوری اپنے جہاز کی رفتار کم کی اور بنوں کے شمال میں 10 ہزار فٹ پر گشت کرنے لگے۔ اس دوران انہیں کرنل الیگزینڈر کا جہاز نظر آیا تو انہوں نے اسے فورا نشانہ بنا ڈالا۔ میزائل لگنے سے رٹسکوئی کے اڑنے والے ٹینک کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ جہاز کا ملبہ اٹھانے کے لیے جانے والی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق اسکا ملبہ سڑک کے بالکل ساتھ پڑا تھا۔ ہم نے پائلٹ کی باقیات کی تلاش کی لیکن کچھ نہیں ملا۔ ہمارا خیال تھا چونکہ حادثے کو 24 گھنٹے ہو چکے ہیں، لہازا پائلٹ اب تک افغانستان سے فرار ہو چکا ہو گا۔ لیکن صبح سات بجے تقریباً 30 قبائلیوں کا ایک گروپ ایک شخص کو گھیرے ہوئے میران شاہ کے آرمی میس میں لے آیا۔ موٹی موٹی مونچھوں والے چھ فٹ لمبے شخص نے پیوند لگی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ اس کے پاؤں میں جوتے تھے جنھوں نے برسوں سے پالش نہیں دیکھی تھی۔ پائلٹ 30 کی دہائی کے اواخر یا 40 کی دہائی کے اوائل کی عمر کا ایک خوبصورت آدمی تھا، تقریباً چھ فٹ لمبا، چوڑا سینہ اور چپٹا پیٹ تھا۔ گہری سبز آنکھیں، وہ دراصل گرائے گئے جہاز کا سوویت پائلٹ کرنل الیگزینڈر تھا۔ پاکستانی فضائی حدود میں گرائے جانے کے بعد باوجود وہ بحفاظت جہاز سے باہر نکلا تھا اور دو راتوں اور ایک دن تک گرفتاری سے بچا رہا۔ وہ دن میں چھپتا تھا اور رات کو سرحد کی طرف بڑھتا تھا۔ لیکن پھر ایک صبح اپنے زیر جامے میں ایک کھیت میں سوتے ہوئے ایک قبائلی خاتون کے ہاتھوں پکڑا گیا۔ ادے اسلام اباد لے جا کر باقاعدہ پوچھ گچھ کی گئی اور آخرکار تقریباً آٹھ دن کی قید کے بعد، 16 اگست 1988 کو اسلام آباد میں سوویت سفارت خانے کے حوالے کر دیا گیا۔ بعد میں کرنل الیگزینڈر روسی صدر بولس یلسن کے نائب صدر بنے اور اسی حیثیت سے دسمبر 1991 میں پاکستان کا دورہ بھی کیا۔
