عمران خان کے ممکنہ کورٹ مارشل کی افواہوں میں تیزی کیوں آ گئی ؟

فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عمران خان کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں اور اس خدشے کو مزید تقویت ملی ہے کہ فیض حمید کے بعد بانی پی ٹی آئی کا بھی کورٹ مارشل شروع ہونے والا ہے۔ فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس میں اس سوال کا واضح جواب تو نہیں ملا کہ کیا فیض حمید کے بعد عمران خان پر بھی فوجی عدالت میں کیس چلایا جائے گا، لیکن اس بات کے واضح اشارے ملے کہ فیض حمید کے ساتھ مل کر جو بھی سویلین فوج میں بغاوت کی کوشش کر رہا تھا اسے بھی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

جمعرات کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ کیا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلئے عمران خان کو فوجی حکام کے حوالے کیا جائے گا یا نہیں۔ انہوں نے اس امکان کی تصدیق کی نہ تردید، لیکن ان کے لب و لہجے سے صاف ظاہر تھا کہ عمران خان کا مستقبل بھی جنرل فیض حمید سے مختلف نہیں ہوگا۔ اب تو خود عمران خان کو بھی فوجی تحویل میں دیے جانے اور اپنے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالت میں کیس چلائے جانے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے اور اسی لیے انہوں نے عدالت میں ایک درخواست بھی دائر کر دی ہے۔ عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایک سویلین ہیں لہذا پاکستانی قانون کے مطابق کسی سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے عدالت سے استدا کی ہے کہ ایسے کسی ممکنہ فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کیا جائے۔ تاہم عمران یہ درخواست دائر کرنے سے پہلے بھول گئے کہ ان کی وزارت عظمی کے دوران سال 2021 میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادریس خٹک کو ارمی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے ان کا کورٹ مارشل کیا گیا تھا اور سزا سنائی گئی تھی حالانکہ وہ بھی سویلین تھے۔

سویلین ہونے کے باوجود عمران خان کا کورٹ مارشل یقینی کیوں ہے ؟

جب اگلے روز پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر سے عمران خان کے ممکنہ کوٹ مارشل کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پوچھا جانے والا سوال فرضی ہے اور اس معاملے سے متعلق ہے جو زیر سماعت ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ فوجی قانون کے تحت اگر کوئی سویلین آرمی ایکٹ کے تابع کسی شخص کو ذاتی یا سیاسی فائدے کیلئے استعمال کرتا ہے اور اس بارے ثبوت بھی مل جاتا ہے تو پھر قانون اپنا راستہ اختیار کرتا یے اور اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فوجی حکام کو ثبوت ملتا ہے کہ عمران خان نے جنرل فیض حمید کو اپنے ذاتی یا سیاسی فائدے کیلئے استعمال کیا تو عمران کو ٹرائل کیلئے فوجی تحویل میں دیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان اور جنرل فیض کے درمیان کسی رابطے پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی جاری ہے لہذا اس معاملے پر گفتگو کرنا مناسب نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر سے سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی جانب سے جنرل فیض کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر ترقی دینے کے حوالے سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ایک درست فیصلہ تھا۔ اس کے جواب میں فوجی ترجمان نے جواباً سوال کیا کہ آئی ایس آئی کا براہ راست باس کون ہے؟ آپ نے اُس وقت کے وزیراعظم کے بارے میں بات کیوں نہیں کی؟ ان کا اشارہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب تھا۔ فوج کے سخت اور شفاف احتسابی نظام پر زور دیتے ہوئے آئی ایس پی آر تک کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ہمارا نظام محض الزامات کی بنیاد پر نہیں چلتا۔  انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فوجی احتساب کا نظام ٹھوس شواہد پر مبنی ہوتا ہے۔ جنرل فیض کی گرفتاری کے حوالے سے آئی ایس پی آر کی جاری کردہ ​​پریس ریلیز کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جنرل فیض نے ذاتی مفادات اور مخصوص سیاسی عناصر کے کہنے پر اپنی آئینی اور قانونی حدود سے تجاوز کیا۔  انہوں نے کہا کہ بغیر کسی ثبوت کے دوسروں کو جنرل فیض کے غلط کاموں سے جوڑنا نا انصافی ہوگی۔ جن افسران نے ذاتی مفادات کیلئے اپنی آئینی و قانونی حدود سے تجاوز کیا ان کے خلاف ایکشن جاری ہے اور اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا۔ جنرل باجوہ بارے ڈی جی آئی ایس پی آر کا جواب واضح طور پر بتاتا ہے کہ انہیں جنرل فیض کے ساتھ کسی کیس میں ملوث کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں یے۔

پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات کے دوران کچھ نکات انتہائی اہمیت کے حامل تھے، بالخصوص بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ملٹری ٹرائل کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے اشارہ دیا ہے کہ عمران خان کو فوجی ٹرائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ان کے مطابق اگر کوئی شخص آرمی ایکٹ کے تابع افراد کو مخصوص سیاسی یا ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس کے شواہد سامنے آتے ہیں تو متعلقہ قانون اپنا راستہ خود لے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے پی ٹی آئی کے جلسے کی منسوخی اور پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مفاہمت کی چہ مگوئیوں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہنا تھا کہ فوج کسی سیاسی جماعت کے حق میں یا مخالف نہیں ہے۔ جلسے کی منسوخی خالصتاً ضلعی سطح کا معاملہ ہے، پاک فوج اپنی مقررہ فرائض کی انجام دہی کو دیکھتی ہے۔

Back to top button