غیر ملکی دوروں میں مودی میڈیا کے سوالات کے جوابات کیوں نہیں دیتے؟

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک مرتبہ پھر اپنے سفارتی دوروں کے دوران میڈیا کے سامنے اختیار کیے گئے انداز کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ غیر ملکی دوروں میں مشترکہ پریس کانفرنسوں کے دوران تحریری بیان پڑھنے اور صحافیوں کے براہِ راست سوالات سے گریز کے رویے پر بین الاقوامی میڈیا اور صحافتی حلقوں میں مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حالیہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے کے بعد یہ بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم کو آزادانہ سوال و جواب کی روایت اپنانا چاہیے یا موجودہ طرزِ عمل سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

مبصرین کے بقول بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں کے دوران میڈیا سے محدود گفتگو اور صحافیوں کے براہِ راست سوالات سے گریز کا معاملہ ایک بار پھر عالمی ذرائع ابلاغ میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ حالیہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران بھی یہی سوال سامنے آیا کہ بھارتی وزیراعظم باقاعدہ پریس کانفرنسوں میں صحافیوں کے سوالات کا سامنا کیوں نہیں کرتے۔

رپورٹس کے مطابق دورے کے موقع پر بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے ایک پریس بریفنگ کا اہتمام کیا گیا، جہاں بھارتی وزارتِ خارجہ کے حکام نے مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کو دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اسی دوران ایک نیوزی لینڈ کے صحافی نے سوال کیا کہ بھارتی وزیراعظم خود باقاعدہ پریس کانفرنس کیوں نہیں کرتے اور صحافیوں کے سوالات کیوں نہیں لیتے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر افسر نے جواب میں کہا کہ وزیراعظم کے سیاسی انداز پر تبصرہ کرنا ان کے دائرۂ اختیار میں نہیں، تاہم انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعظم مودی عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر یہی وضاحت دی گئی، لیکن اس جواب کے بعد یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ اس نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے ہوں۔ اس سے قبل ناروے کے دورے کے دوران مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی وزیراعظم مودی نے صرف تحریری بیان پڑھا اور صحافیوں کے سوالات نہیں لیے۔ اس موقع پر ایک نارویجن صحافی نے بھارت میں آزادیِ اظہار اور میڈیا کے کردار سے متعلق سوال پوچھنے کی کوشش کی، تاہم رپورٹوں کے مطابق وزیراعظم مودی سوال و جواب کے بغیر ہی تقریب سے روانہ ہو گئے، جس کے بعد عالمی میڈیا میں اس طرزِ عمل پر بحث شروع ہو گئی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں سربراہانِ حکومت کی جانب سے پریس کانفرنسوں میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دینا جمہوری احتساب، شفافیت اور اظہارِ رائے کی آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے جب کسی رہنما کی جانب سے مسلسل غیر اسکرپٹڈ سوالات سے گریز کیا جاتا ہے تو اس پر ناقدین کی توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکومت اور مودی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم مختلف ذرائع، عوامی اجتماعات، پارلیمانی تقاریر، انٹرویوز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام تک اپنا مؤقف پہنچاتے ہیں، اس لیے روایتی پریس کانفرنس ہی عوام سے رابطے کا واحد ذریعہ نہیں۔مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ عالمی سفارت کاری میں میڈیا کے آزادانہ سوالات کا سامنا کرنا کس حد تک ضروری ہے۔ امکان ہے کہ مستقبل میں بھی بھارتی وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں کے دوران یہ سوال عالمی صحافیوں کی جانب سے بار بار اٹھایا جاتا رہے گا۔

Back to top button