پاکستان میں فضائی سفر اب رسکی کیوں ہو چکا ہے؟

اسلام آباد ائیر بلیو کریش، حویلیاں پی آئی اے کریش، اور کراچی ائیر پورٹ حادثے کے بعد یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان میں فضائی سفر اب کافی رسکی ہو چکا ہے اور اسے محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا، بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں تقریبا تمام ایئرلائنز ایسے جہاز استعمال کر رہی ہیں جو اپنی عمر پوری کر چکے ہیں اور مہذب ملکوں میں انہیں گراؤنڈ کر دیا جاتا ہے۔
اس وجہ سے پاکستانی تاریخ میں اب تک کئی افسوسناک فضائی حادثات رونما ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں لوگ اپنی زندگیاں ہار چکے ہیں۔ کچھ ایسے فضائی حادثے بھی ہیں جنہیں کئی سال گزر جانے کے باوجود عوام آج تک نہیں بھلا پائے، جولائی 2010 کو نجی ائیرلائن ائیربلو کا جہاز ائیربس A321 اسلام آباد کے قریب شمال مشرق میں مارگلہ میں پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہوگیا تھا، کراچی سے روانہ ہونے والی اس فلائٹ میں عملے کے چھ افراد سمیت تمام 152 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
20 اپریل 2012 کو بھوجا ایئر لائنز کا بوئنگ طیارہ 737 کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں 121 مسافر اور عملے کے چھ ارکان ہلاک ہو گئے تھے، دسمبر 2016 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا چترال سے اسلام آباد آنے والا مسافر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے سمیت 48 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔جاں بحق ہونے والے افراد میں معروف نعت خواں اور سابق گلوکار جنید جمشید بھی شامل تھے۔
30 جولائی 2019 کو پاک فوج کا طیارہ راولپنڈی کے علاقے موہڑہ کالو میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جسکے نتیجے میں17 افراد مارے گئے تھے جن میں 2 فوجی افسران سمیت عملے کے 5 افراد بھی شامل تھے، پاکستان آرمی ایوی ایشن کا طیارہ تربیتی پرواز پر تھا کہ حادثے کا شکار ہوا اور راولپنڈی میں شہری آبادی والے علاقے موہڑہ کالو میں گر گیا، اس حادثے میں 2 پائلٹ سمیت عملے کے 5 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔
ایئر ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کے سابق صدر ایئر کموڈور محمد عثمان کا کہنا تھا کہ ان حادثوں کی بنیادی وجہ اپنی عمر پوری کر لینے والے جہازوں کو اُڑانا ہے جنہیں کہ مہذب ملکوں میں گراؤنڈ کر دیا جاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق پاکستان میں تحقیقاتی بورڈ کو مکمل خود مختار ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے یہ اب بھی سول ایوی ایشن ڈویژن کے ماتحت ہے، پاکستان میں فلائٹ سیفٹی کے حوالے سے اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے،

 

فیض حمید تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل

حفاظتی معیار کے حوالے سے کئی معاملات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی حادثے کی صورت متعلقہ ادارے اور ایئر لائنز متحرک ہو جاتی ہیں لیکن یہ سلسلہ سال ایک ہی چلتا ہے اور اس کے بعد کسی نئے حادثے کے نتیجے میں یہ سائیکل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی طیارہ حادثہ ہوتا ہے تو متعلقہ حکام فوری تحقیقات کی ہدایات جاری کر دیتے ہیں لیکن حادثے کی وجوہات کبھی بھی سامنے نہیں آ پاتیں۔

Back to top button