سنسرشپ کے ذریعے عوام پر ڈھائے ظلم چھپانا ممکن کیوں نہیں؟

سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ آنے والے وقت میں طاقتور ریاستوں کے لیے سنسر شپ کے ذریعے عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم کی کہانیاں چھپانا ناممکن ہو جائے گا کیونکہ قومی مفاد کے نام پر جھوٹ پھیلانا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ کسی بھی ریاست کے لیے سنسرشپ کے ذریعے حقائق کو ہمیشہ کے لیے دبانا ممکن نہیں رہا۔
حامد میر نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں کیا ہے، جس میں انہوں نے بھارتی پنجاب میں لاپتہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات، سکھ کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی جدوجہد اور ان پر بننے والی فلم "ستلج” کے پس منظر پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
حامد میر کے مطابق یہ ایک عام انسان کی غیرمعمولی جدوجہد کی داستان ہے، جو اپنے ایک لاپتہ دوست کی تلاش میں نکلا لیکن اس دوران ہزاروں لاپتہ افراد کی المناک کہانیاں دنیا کے سامنے لے آیا۔ انہوں نے لکھا کہ جسونت سنگھ کھالرا ایک بینک افسر تھا، جس کا تعلق بھارتی پنجاب کے ضلع ترن تارن کے گاؤں کھالرا سے تھا۔ ایک رات اس کے ایک دوست کی والدہ گھبرائی ہوئی اس کے گھر پہنچیں اور بتایا کہ پنجاب پولیس ان کے بیٹے کو گرفتار کرکے لے گئی ہے، مگر اب کسی کو اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔
حامد میر کے مطابق کھالرا اپنے دوست کی تلاش میں مختلف تھانوں کے چکر لگاتا رہا لیکن ہر جگہ پولیس نے گرفتاری سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں اس نے اپنے ایک پولیس افسر دوست سے مدد مانگی، مگر اسے بھی یہی مشورہ دیا گیا کہ وہ اس معاملے میں دلچسپی نہ لے اور گھر واپس چلا جائے۔ حامد میر لکھتے ہیں کہ چند روز بعد لاپتہ نوجوان کی والدہ بھی اچانک غائب ہو گئیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اپنے بیٹے کی تلاش میں مسلسل پولیس سٹیشنوں کے چکر لگا رہی تھیں لیکن جب پولیس نے محسوس کیا کہ وہ خاموش ہونے کو تیار نہیں تو اسے بھی قتل کر دیا گیا تاکہ پہلے ہونے والے ظلم پر پردہ ڈالا جا سکے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں جسونت سنگھ کھالرا کو اندازہ ہوا کہ اس کا دوست جعلی پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے اور ایسے پولیس اہلکار بھی قتل کر دیے جاتے ہیں جو ان جعلی مقابلوں میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہیں۔
حامد میر کے مطابق کھالرا اس کے بعد اس شمشان گھاٹ تک پہنچا جہاں اس کے دوست کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔ وہاں موجود ریکارڈ رجسٹر نے ایک ہولناک حقیقت آشکار کی کہ ہزاروں ایسے سکھوں کے نام، پتے اور اندراجات موجود تھے جنہیں پولیس نے نامعلوم قرار دے کر قتل کیا اور پھر ان کی لاشیں جلا دی گئیں۔ مزید شواہد اکٹھے کرنے کے بعد وہ ایک وکیل کے پاس پہنچا تاکہ عدالت کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلایا جا سکے۔
حامد میر کے مطابق جسونت سنگھ کھالرا جلد ہی ہزاروں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی آواز بن گیا۔ وہ ایسے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوتا جہاں بوڑھی مائیں، بیویاں، بہنیں اور بیٹیاں اپنے لاپتہ عزیزوں کی تصاویر اٹھائے انصاف کا مطالبہ کرتی تھیں۔ اس دوران پنجاب پولیس کے سربراہ کے پی ایس گل نے اسے میڈیا پر ملک دشمن اور دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیا، تاہم کھالرا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
حامد میر نے بتایا کہ کھالرا کا تعلق آزادی کی جدوجہد کرنے والے رہنما ہرنام سنگھ کے خاندان سے تھا، اسی لیے اسے یقین تھا کہ حکومت اسے صرف دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے اور قانون اس کے ساتھ انصاف کرے گا۔ بعدازاں ایک اعلیٰ بھارتی عدالت نے اس کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعدد پولیس افسران کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا، جس سے یہ انکشافات سامنے آئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر پنجاب پولیس کو دیے گئے اختیارات کا وسیع پیمانے پر ناجائز استعمال کیا جا رہا تھا اور بے گناہ نوجوانوں کے ساتھ خواتین اور بچوں کو بھی قتل کیا جا رہا تھا۔ حامد میر بتاتئ ہیں کہ کئی افراد کو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کرنے کے بعد ان کے قریب اسلحہ رکھ دیا جاتا اور دعویٰ کیا جاتا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ مارے گئے ہیں۔ جب ان اقدامات پر تنقید بڑھنے لگی تو پنجاب پولیس کے سربراہ کے پی ایس گل کے حکم پر بدنام زمانہ ایس ایس پی اجیت سنگھ سندھو نے جسونت سنگھ کھالرا کو بھی اس کے گھر سے اغوا کروا لیا۔
یعنی لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کرنے والا کھالرا خود بھی لاپتہ کر دیا گیا۔ اسے ایک ٹارچر سیل میں لے جا کر یہ پیشکش کی گئی کہ اگر وہ عدالت میں دائر اپنی درخواست واپس لے لے تو اسے رہا کر دیا جائے گا اور وہ کینیڈا جا کر خاموشی سے زندگی گزار سکے گا، مگر اس نے یہ پیشکش مسترد کر دی۔ اس دوران کھالرا کو کینیڈا جانے کا موقع بھی ملا لیکن وہ وہاں پنجاب پولیس کے خلاف کیس پیش کر کے واپس پنجاب آ گیا۔ حامد میر کے مطابق جب کھالرا نے پنجاب پولیس کے خلاف دائر کردہ کورٹ کیس واپس لینے سے انکار کر دیا تو اسے متعدد پولیس اہلکاروں کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس کی لاش دریائے ستلج میں بہا دی گئی۔
حامد میر کے مطابق ستمبر 1995ء میں جسونت سنگھ کھالرا کو اس لیے قتل کیا گیا تاکہ 1984ء سے 1995ء کے دوران بھارتی پنجاب میں ہونے والے 25 ہزار سے زائد مبینہ ماورائے عدالت قتل کی حقیقت دنیا کے سامنے نہ آ سکے، تاہم اس کی قربانی نے ان واقعات کو عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنا دیا۔ بعد میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر آواز اٹھائی۔ حامد میر نے مشہور بھارتی اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی فلم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ دلجیت نے جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی پر فلم "پنجاب 95” بنائی، لیکن بھارتی سنسر بورڈ نے اس پر 127 اعتراضات عائد کر دیے اور فلم کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں فلم کا نام "ستلج” رکھا گیا کیونکہ بہت سے لاپتہ سکھوں کی لاشیں دریائے ستلج سے برآمد ہوئی تھیں، تاہم نام بدلنے کے باوجود بھی فلم کو نمائش کی اجازت نہ ملی۔
حامد میر بتاتے ہیں ہے کہ بھارتی سنسر بورڈ کی قیادت تبدیل ہونے کے بعد نئے سربراہ نے پوری فلم پر پابندی لگا دی، لیکن دلجیت دوسانجھ نے اس پابندی کو چیلنج کرتے ہوئے فلم کو سوشل میڈیا پر جاری کر دیا۔ حامد میر کے مطابق اس فیصلے نے بھارتی حکومت کی سنسرشپ کو غیر مؤثر ثابت کر دیا اور پابندی کے باوجود فلم مزید مقبول ہو گئی، جسے لوگ یوٹیوب اور فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دیکھنے لگے۔
ادھر دلجیت دوسانجھ نے سوشل میڈیا پر فلم جاری کرنے کے بعد بھارتی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’لو، کر لو اب میری فلم بلاک۔‘‘ حامد میر نے لکھا کہ دلجیت کو اندازہ ہو چکا ہے کہ سچ بولنے کی قیمت اسے بھارتی فلم انڈسٹری میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے، اسی لیے وہ مستقبل میں امریکا اور کینیڈا میں فلم سازی کے ذریعے ایسے موضوعات کو اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ نوجوان سکھوں فنکار دلجیت دوسانجھ کا یہ اقدام ایک نئے دور کی علامت ہے، جس میں طاقتور ریاستیں سنسرشپ اور پابندیوں کے ذریعے ظلم اور ناانصافی کی کہانیوں کو ہمیشہ کے لیے نہیں چھپا سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں سچ کو دبانا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے اور قومی مفاد کے نام پر جھوٹ پھیلانے کی روایت اب زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔
