حکومت کے لیے تحریک لبیک پر پابندی لگانا آسان کیوں نہیں؟

وزیراعلی مریم نواز کی زیر صدارت ایک اجلاس کے بعد یہ اعلان تو کر دیا گیا کہ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کو تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عملی طور پر ایسا کرنا کافی مشکل لگتا ہے چونکہ کسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا حتمی اختیار سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلان کے باوجود نہ تو مریم نواز کی پنجاب حکومت نے ابھی تک چچا شہباز کی وفاقی حکومت کو پابندی لگانے کی سفارش بھیجی ہے اور نہ ہی وفاق نے ایسا کوئی ارادہ ظاہر کیا ہے۔
حکومت پنجاب نے تحریک لبیک پر پابندی کی بات مریدکے میں ٹی ایل پی اور پولیس کے مابین پرتشدد جھڑپوں کے بعد کی۔ ان جھڑپوں میں ایک ایس ایچ او سمیت چھ لوگ مارے گئے تھے جس کے بعد صوبے بھر میں تین ہزار سے زائد ٹی ایل پی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ٹی ایل پی نے غزہ کے مکینوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک لانگ مارچ نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اسلام آباد پہنچ کر امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج کریں گے، تاہم مریدکے میں ایک بڑے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں دھرنا مظاہرین فرار ہو گئے۔ سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی ابھی تک روپوش ہیں اور ایس ایچ او کے قتل میں ملوث ہونے کی وجہ سے ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اب پنجاب حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک اور پابندی لگانے کی سفارش کرنے کا اعلان تو کیا ہے لیکن شاید مریم نواز حکومت ایسا کرنے کی جرات نہیں کرے گی۔ ماضی میں عمران خان حکومت نے بھی تحریک لبیک پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی تو لگائی تھی لیکن پھر اسے یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ عمران خان کی حکومت نے اپریل 2021 میں ٹی ایل پی پر تب پابندی لگائی تھی جب اس نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملک گیر دھرنوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران مشتعل کارکنوں نے سڑکیں بند کیں، پولیس اہلکاروں پر حملے کیے، اور عوامی و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، جس سے امن و امان کی صورتحال شدید متاثر ہوئی۔ پانچ پولیس والوں کی ہلاکت کے بعد حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی کو اکتوبر 2021 میں کالعدم قرار دے دیا تھا، تب سرکار نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ تنظیم کی سرگرمیاں ریاستی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔
تاہم، اگلے ہی نومبر 2021 میں عمران خان حکومت نے ملک گیر احتجاج اور مظاہروں کے بعد ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کیے اور پابندی ختم کر دی۔ اس فیصلے کے پیچھے کئی عوامل تھے، جن میں تنظیم کی عوامی حمایت، مذہبی حساسیت، سیاسی دباؤ اور خاتون اول بشری بی بی کا مشورہ شامل تھے۔ حکومت نے پابندی اٹھاتے ہوئے ٹی ایل پی کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا جس کے تحت اس کے مطالبات پر غور کرنے اور گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے تب یہ موقف لیا کہ پابندی ختم کرنے کا مقصد سیاسی استحکام قائم رکھنا اور مزید تصادم سے بچنا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی معاشی اور سیاسی چیلنجز سے دوچار ہے۔
ایسے میں دفاعی تجزیہ کاروں کے خیال میں شہباز شریف حکومت کے لیے بھی تحریک لبیک پر پابندی لگانا کافی مشکل ہوگا۔ لیکن اسلام اباد میں باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی لگنے کا کافی امکان موجود ہے چونکہ اب جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید جیسے لوگ اصل فیصلہ ساز نہیں۔ اس دوران تحریک لبیک کی قیادت کے خلاف درج مقدمات کی تعداد 72 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 40 لاہور میں درج ہوئے، ٹی ایل پی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کے سینکڑوں رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے یہ گزشتہ چند برس میں پنجاب میں ٹی ایل پی کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اس انتہا پسند جماعت کے خلاف کارروائی کے فیصلے کو کچھ اہم اجلاسوں سے جوڑا جا رہا ہے، جن میں ٹی ایل پی کے پرتشدد احتجاجات، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر جان لیوا حملے، اور مسیحی و احمدی عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ کے واقعات پر غور کیا گیا۔ جہاں تک کسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا تعلق ہے تو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی حکومت کی سفارش پر یہ فیصلہ کرتی ہے۔ نیکٹا ان افراد اور جماعتوں کی فہرستیں مرتب کرتی ہے جنہیں دہشت گرد یا دہشت گردی سے وابستہ قرار دیا جاتا ہے، ان فہرستوں میں شامل افراد کو پہلے مرحلے میں سفری اور مالی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے فورتھ شیڈول میں ایسے افراد کے نام شامل کیے جاتے ہیں جو دہشت گرد تنظیموں یا سرگرمیوں سے وابستہ ہوں، اس فہرست کے ذریعے ان افراد پر کڑی نگرانی اور پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔
یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ تحریک لبیک کی لیڈرشپ کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جا رہا ہے اور ان کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے نیکٹا کی اس فہرست میں تحریک طالبان پاکستان اور حزب التحریر جیسے عسکری گروہ، لشکرِ جھنگوی جیسی فرقہ وارانہ تنظیمیں، جیش محمد جیسی شدت پسند جماعتیں، اور بلوچ لبریشن آرمی جیسے علیحدگی پسند گروہ شامل رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں حکام نے اس دائرے کو مزید وسیع کیا ہے تاکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مزید افراد کو بھی اس میں شامل کیا جا سکے۔ اگرچہ پاکستان میں حکومتیں اکثر سیاسی اختلافات کی بنیاد پر مخالف جماعتوں پر پابندی کی کوشش کرتی رہی ہیں، لیکن کسی سیاسی جماعت پر حتمی طور پر پابندی عائد کرنے کا اختیار حکومت کے پاس محدود ہے۔
صوبائی حکومت کسی جماعت پر پابندی کی سفارش کر سکتی ہے، جیسا کہ ٹی ایل پی کے معاملے میں کیا گیا۔ تاہم، آئین کے آرٹیکل 17(2) کے مطابق، وفاقی حکومت یہ سفارش سپریم کورٹ کو بھجوا سکتی ہے۔ لیکن حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ متعلقہ جماعت ’ پاکستان کی خودمختاری یا سالمیت کے خلاف سرگرم عمل ہے۔’
قانونی ماہرین کے مطابق، کسی سیاسی جماعت پر پابندی کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کرتی ہے۔ آئین کے مطابق وفاقی حکومت کسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے پندرہ روز کے اندر یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجے گی، جس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔’
یعنی وفاقی حکومت کسی جماعت پر پابندی لگانے کے لیے یا تو آئین کے آرٹیکل 17(2) کے تحت کارروائی کر سکتی ہے یا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 212 کے تحت جماعت کی تحلیل کرنے کی درخواست دے سکتی ہے۔ دوسرے طریقہ کار میں بھی حکومت اعلان کرتی ہے لیکن معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اکثر سیاسی جماعتوں پر پابندی کی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان میں کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔
گزشتہ سال اکتوبر میں پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی لگانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ تحریک خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پشتونوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہے۔ جولائی 2024 میں وفاقی حکومت نے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، جب وہ قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بننے کے قریب تھی۔
اس سے پہلے، شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ پر مارچ 1971 میں پابندی عائد کی گئی تھی اور اس کے 160 میں سے 76 منتخب اراکین کو غدار قرار دے کر نااہل کیا گیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف احتجاج ایک بڑے عوامی تحریک میں تبدیل ہوا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا، جہاں شیخ مجیب الرحمان پہلے وزیر اعظم بنے تھے۔
