مریم نواز کو ہر شے پر اپنی تصویر لگوانے کا شوق کیوں ہے؟

آج کل چند ناشکرے وزیراعلی پنجاب مریم نواز پر اس وجہ سے بے جا تنقید کیے جا رہے ہیں کہ انہوں نے عوام اور حکومت میں فاصلہ ختم کرنے کے لیے آٹے کے تھیلوں سے لے کر کوڑے کے کنٹینرز تک اپنی تصاویر چسپاں کروا دی ہیں۔ انہوں نے حکومت اور عوام کے مابین فاصلوں کا گلہ ختم کرنے کے لیے مسجدوں کی دیواروں، میڈیکل کیمپس کے تنبووں، ہر سڑک کے موڑ، پلوں، چوراہوں، کھمبوں، درختوں، جنگلوں، اور بسوں سمیت ہر ساکت و غیر ساکت شے پر اپنی مسکراتی تصویر چسپاں کروا دی ہے تاکہ عوام کو حکومت کیساتھ قربت کا احساس ہو اور وہ اسے کسی اور کی بجائے اپنی ہی حکومت سمجھیں۔

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان بی بی سی اردو کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب حکمران خاردار چار دیواری کے پیچھے اپنی ذات کے خول میں بند ہوں تب بھی عوام ناخوش ہوتے ہیں کہ انھیں تو کسی کی پرواہ ہی نہیں۔ لیکن جب حکمران عوامی انداز اختیار کر کے لوگوں میں گھل مل جائیں اور ایفیشنسی دکھانے کے لیے ہر شے پر اپنی تصویر لگوائیں تب بھی ہمارے لوگ حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ دیکھو وزیرِ اعلی کیسی خود پسندی اور خود پرستی کا شکار ہے۔ مریم نواز اپنی عوامی خدمت کی تشہیر کرتی ہیں تو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ فوٹو کھنچوانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتیں۔ مختصر یہ کہ ناشکرے عوام کو بس بات کا بتنگڑ بنانے کا موقع ملنا چاہیئے۔

 

وسعت اللہ خان بتاتے ہیں کہ میرے محلے میں دو مین ہولز کے آہنی ڈھکن بہت عرصہ پہلے نشہ بازوں نے چرا لیے۔ بچوں کی سلامتی کے لیے اہلِ محلہ نے ان مین ہولز میں جھاڑیاں لگا دیں تاکہ دور سے نظر آ جائیں۔ پھر ایک خدا ترس کونسلر نے بھاگ دوڑ کر کے ان مین ہولز پر سیمنٹ کے ڈھکن لگوا دیے اور ان ڈھکنوں کے افتتاح کا فیتہ کاٹ کر تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی۔ لیکن وہی لوگ جو پہلے کھلے مین ہولز کی مذمت کر رہے تھے، اب اس فیتے والی افتتاحی تصویر کو چھچھورا پن قرار دے کے غریب کاؤنسلر کے پیچھے پڑ گئے۔ بے شک انسان ناشکرا ہے۔

 

اب اسی قماش کے سوشل میڈیائی ناقدین مریم نواز کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ جب پنجاب سپیڈ کے بانی شہباز شریف وزیرِ اعلی تھے تو بھی اعتراض کیا جاتا تھا کہ بارش رُکتے ہی یہ بندہ ربڑ کے لمبے بوٹ پہن کے رُکے ہوئے پانی میں کیوں چلنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ اعتراض بھی کیا جاتا تھا کہ کسی بھی ہسپتال اور سکول کے اچانک ہنگامی دورے کی خبر فوٹو گرافروں کو پیشگی کیسے مل جاتی ہے؟ یہ اعتراض بھی کیا جاتا تھا کہ پنجاب کے ہر موڑ پر خادمِ اعلی کے بڑے بڑے بورڈز کیوں لگے ہوئے ہیں؟ زمانہ بدل گیا، شہباز شریف وزیراعظم بن گئے اور مریم نواز وزیراعلی بن گئیں لیکن ناقدین کے اعتراضات ختم نہیں ہوئے۔

 

آج یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بارش کے بعد جب مریم نواز شہر کا دورہ کرتی ہیں تو شعیب کو فون کر کے یہ کیوں پوچھتی ہیں کہ پانی کہاں کہاں کھڑا ہے؟ ناقدین یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ سیلاب متاثرین کے لیے راشن پیکج کے تھیلوں پر حکومتِ پنجاب کے سرکاری ٹھپے کے ساتھ مریم نواز یا نواز شریف کی تصویر کیوں موجود ہے؟ ناقدین کی جانب سے یہ بے تکا اعتراض بھی کیا جا رہا ہے کہ ہر نئے طبی مرکز، ہسپتال یا کلینک کا نام نواز شریف یا مریم نواز کے نام پر کیوں رکھا جا رہا ہے؟ مختص یہ کہ سرکاری پیسے کی مٹھائی پر دادا جی کی فاتحہ کیوں پڑھی جا رہی ہے؟

 

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ان کے گنہگار کانوں نے اس حوالے سے ایسے ایسے ناقابلِ تحریر اور گھٹیا تبصرے سنے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ زیادہ تر تبصرے باز وہی ویہلے ہیں جن کی اپنے گھروں میں اتنی ہی اوقات ہے کہ سارا سارا دن باہر تھڑے پر ہر فارغ شخص سے باتیں کر کے اس انتظار میں ٹائم پاس کرتے ہیں کہ رات کو جب سب سو جائیں تب وہ دبے پاؤں گھر میں داخل ہوں۔ ان کے بقول پہلے ناشکرے یہ اعتراض کرتے تھے کہ حکمرانوں اور عوام میں بہت فاصلہ ہے۔ اب وہی لوگ گلہ کرتے ہیں کہ مسجد کی دیوار سے لیکر کوڑے کے کنٹینر سمیت ہر ساکت شے پر وزیرِ اعلی مریم کی تصویر کیوں چسپاں کر دی گئی ہے۔ یہ لوگ شکر نہیں کرتے کہ اب بھی پاکستان میں اتنی آزادی ہے کہ آپ کو جو بات اچھی نہیں لگ رہی آپ اس کا برملا اظہار کر پاتے ہیں۔ آگر آپ آج بھینکسی عرب، ملک، کسی کیمونسٹ سلطنت، کسی نظریاتی و غیر نظریاتی، لبرل و غیر لبرل فاشسٹ دیس میں کسی حکمران پر ایسی تنقید کرنے کا سوچتے بھی تو آپ کی گردن تن سے جدا کر کے آپ کے ہاتھوں پر رکھ دی جاتی۔

عمران کی ہمشیرہ کو انڈا مارنا کیا مکافات عمل کا نتیجہ ہے؟

 

وسعت اللہ خان گلہ کرتے ہیں کہ اس سے پہلے مریم حکومت کی شاندار کارکردگی کی پہلی سالگرہ پر چینلز پر اشتہارات کی بھرمار اور اخبارات میں نوے نوے صفحات کے ضمیمے بھی یار لوگوں کو ہضم نہیں ہوئے تھے۔ پھر وزیرِ اعلی کے دورۂ جاپان پر تو یوٹیوبروں نے گویا ایسی ہا ہا کار مچائی گویا وہ ٹوکیو نہیں نئی دلی چلی گئی ہوں۔ حاسدین یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اتنی مصروف وزیر اعلی محض سیر و تفریح کے لیے کسی ترقی یافتہ ملک میں ایک ہفتہ کیوں گزارے گی؟ کیا مریم بی بی نے اپنے ذاتی پیسے سے کبھی کوئی ملک نہیں دیکھا؟ کچھ تو خدا کا خوف کیجیے۔ اتنا ہی خیال کیجئیے کہ اندھی مخالفت آپ کی صحت کے لیے بھی مضر ہے۔

 

موجودہ اور سابقہ پنجاب حکومتوں نے کچھ تو کام کیے ہوں گے جن کا بار بار ذکر از بس ضروری ہے۔ دیگر صوبائی حکومتوں کو اپنی شاندار کارکردگی شو کیس کرنے سے کس ایجنسی نے روکا ہے؟ ہو سکتا ہے دوسری صوبائی حکومتوں نے بھی چند اچھے کام کیے ہوں مگر ان کے محکمۂ اطلاعات و نشریات کا پبلسٹی اور سوشل میڈیا ونگ ہی نااہل ہو۔ یہ نیکی کر دریا میں ڈال کا دور نہیں۔ کچھ کرنا بھی پڑتا ہے اور پھر کوڑھ مغز جنتا کو باور کرانے کے لیے ہر ممکنہ چینل استعمال کر کے بار بار اور بہت زیادہ بتانا اور سمجھانا بھی پڑتا ہے۔

 

وسعت اللہ خان کے مطابق ایک اہم نکتہ یہ سمجھنے کا ہے کہ موجودہ تیز رفتار حکومت اپنی مثالی محنت کی تشہیر کے مثبت نتائج سے بھی حوصلہ پکڑتی ہے۔ میں نے سوشل میڈیا پر ایک پرائمری سکول کے کلاس روم کی ریل دیکھی۔ استاد نے ایک بچے سے پوچھا پاکستان کس نے بنایا؟ جواب ملا مریم نواز نے۔ پھر سوال ہوا کہ پاکستان کا وزیرِ اعظم کون ہے؟ جواب آیا مریم نواز۔ عین ممکن ہے کہ تاریخی اعتبار سے یہ جوابات درست نہ ہوں۔ مگر کم ازکم یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ بچہ بچہ مریم کی کارکردگی اور شخصیت کے سحر سے بفضلِ مارکیٹنگ برائے کارکردگی کتنی محبت کرتا ہے۔ پاکستان میں ویسے بھی پتا نہیں ہوتا کہ کس منتخب یا چنتخب حکومت کی کب قضا آ جائے۔ لہذا اس سے پہلے کہ کسی ٹرک کے پیچھے دھندلی سی تصویر پر لکھا ہو ’تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد۔ جلنے والے کا منھ کالا‘، ’تم اپنی کرنی کر گزرو، جو ہو گا دیکھا جائے گا۔‘ ویسے بھی کچھ تو لوگ کہیں گے، لوگوں کا کام ہے کہنا۔ چھوڑو بیکار کی باتوں کو۔ کہیں بیت نہ جائے رینا۔

Back to top button