اسٹیبلشمینٹ تحریک لبیک پر پابندی کیوں لگانے جا رہی ہے؟

وزیراعلی مریم نواز کی پنجاب حکومت نے کابینہ اجلاس کے بعد متفقہ طور پر حالیہ پرتشدد مظاہروں میں ملوث تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سفارش وفاقی حکومت کو بھجوا دی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ پابندی ایک وقتی ردعمل ہے یا اسٹیبلشمنٹ نے واقعی ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دلوانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے؟ یاد رہے کہ ماضی میں عمران خان حکومت نے بھی تحریک لبیک پر پابندی عائد کی تھی لیکن پھر ملک گیر مظاہروں کے بعد اسے فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر قیادت پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پر پابندی کی منظوری دی ہے۔ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جماعت نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کی، املاک کو نقصان پہنچایا، اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا۔ ان کے مطابق، پاکستان ایسے احتجاج کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب تحریک لبیک نے امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کے لیے لاہور سے اسلام آباد کی جانب "غزہ مارچ” کی کال دی۔ مذاکرات ناکام ہونے پر پولیس نے مریدکے میں ریلی کو روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کے ایک ایس ایچ او شہید ہوئے جبکہ ٹی ایل پی نے اپنے کارکنوں کی اموات کا دعویٰ کیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں کسی سیاسی جماعت پر پابندی آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت لگائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد 15 دن کے اندر سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا ہوتا ہے۔ اگر عدالت کو ثبوت کافی لگیں تو وہ الیکشن کمیشن کو جماعت تحلیل کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ اسکے علاوہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت شدت پسندی میں ملوث افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جا سکتا ہے، جو ان کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کو محدود کرتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹی ایل پی پر پابندی کی بات ہو رہی ہے۔ 2021 میں عمران خان حکومت نے بھی جماعت کو کالعدم قرار دیا تھا، لیکن چند ماہ بعد ایک معاہدے کے تحت پابندی ختم کر دی گئی تھی۔
ماضی میں کمیونسٹ پارٹی، جماعت اسلامی، عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی اور جسقم جیسی جماعتوں پر بھی پابندیاں لگیں، مگر اکثر یہ پابندیاں عدالتوں یا سیاسی معاہدوں کے ذریعے ختم ہو گئیں۔ خاص طور پر جماعت اسلامی پر 1964 میں ایوب خان کے دور میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں پابندی لگی، لیکن سپریم کورٹ نے یہ پابندی ختم کر دی تھی۔
حکومت کے لیے تحریک لبیک پر پابندی لگانا آسان کیوں نہیں؟
سیاسی تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق، پاکستان میں ماضی میں انتہا پسند جماعتوں پر پابندیاں عائد کرنے سے شدت پسندی کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے قوانین اکثر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوئے، اور اصل مسائل پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق، تنظیمیں راتوں رات بنائی جاتی ہیں اور جب ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو انہیں ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ٹی ایل پی کو بھی بعض تجزیہ کار اسٹیبلشمنٹ کا پریشر گروپ قرار دیتے ہیں، جو مخصوص سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت، جسے ہائبرڈ نظام کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، اگر واقعی ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دلوانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ اسٹیبلشمنٹ کے ماضی کے کردار سے ایک واضح انحراف ہو گا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہ پابندی صرف وقتی ردعمل ہے یا شدت پسندی کے خلاف کوئی سنجیدہ پالیسی تبدیلی؟ تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی، نظریاتی اور ادارہ جاتی سطح پر بھی ایک اہم موڑ ہو سکتا ہے۔ اگر سپریم کورٹ پابندی کی توثیق کرتی ہے، تو یہ اسٹیبلشمنٹ کے ماضی کے کردار پر بھی سوال اٹھا سکتا ہے، اور شدت پسندی کے خلاف ریاستی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
