ایران امریکہ مجوزہ امن معاہدہ اسرائیل کیلئے ڈراؤنا خواب کیوں؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبریں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ اگرچہ ابھی مذاکرات جاری ہیں، لیکن اسرائیل میں بحث اس سوال سے آگے بڑھ چکی ہے کہ معاہدہ ہوگا یا نہیں۔ اب اصل تشویش یہ ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کسی مفاہمت پر پہنچ جاتے ہیں تو اسرائیل کے پاس کیا آپشنز باقی رہ جائیں گے۔
اسرائیلی سیاسی اور سکیورٹی حلقوں کے مطابق ایک ممکنہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام پر کچھ پابندیاں تو عائد کر سکتا ہے، لیکن اس کے میزائل پروگرام، ڈرون صلاحیت اور خطے میں موجود اتحادی نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے اندر ایسے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ برسوں کی سفارتی اور عسکری کوششوں کے باوجود ایران اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
بعض اسرائیلی ماہرین کے نزدیک یہ صورتحال وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے ایک "ڈراؤنا منظرنامہ” بن سکتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر مذاکرات طویل ہو گئے اور امریکہ نے فوجی دباؤ کم کر دیا تو اسرائیل خود کو ایسی صورتحال میں پا سکتا ہے جہاں ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر محدود نہ ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو جائے۔
مبصرین کے مطابق اس صورت میں اسرائیل کے سامنے پہلا راستہ یہ ہے کہ وہ ممکنہ معاہدے کی شرائط پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے۔ تل ابیب چاہتا ہے کہ ایران کی یورینیم افزودگی، میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ اسی مقصد کے لیے اسرائیل امریکی سیاسی حلقوں، کانگریس اور لابنگ گروپس کے ذریعے دباؤ بڑھا سکتا ہے تاکہ کسی بھی معاہدے کو تہران کے لیے زیادہ سخت بنایا جا سکے۔
دوسرا راستہ عسکری کارروائیوں کی آزادی برقرار رکھنے کا ہے۔ اسرائیل یہ یقینی بنانا چاہے گا کہ معاہدے کے باوجود وہ ایران یا اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت نہ کھوئے۔ تاہم اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ پر اسرائیل کا فوجی اور سیاسی انحصار ہے۔ اگر واشنگٹن سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے تو اسرائیل کے لیے یکطرفہ فوجی اقدامات کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے زیادہ قابلِ عمل آپشن خفیہ جنگ کی طرف واپسی ہو سکتا ہے۔ سائبر حملے، خفیہ آپریشنز، سبوتاژ اور انٹیلی جنس سرگرمیاں ماضی میں بھی اسرائیلی حکمتِ عملی کا حصہ رہی ہیں۔ اگر براہِ راست فوجی کارروائی محدود ہو جاتی ہے تو اسرائیل ممکنہ طور پر انہی ذرائع کو مزید فعال بنا سکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے بقول اس تمام صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود ایران کا سیاسی اور ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا ہے۔ نہ تو نظام میں کوئی بڑی دراڑ پیدا ہوئی اور نہ ہی اقتدار کے مراکز میں واضح تقسیم سامنے آئی۔ اس کے برعکس ایران نے یہ بھی دکھایا کہ وہ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کے ذریعے عالمی معیشت پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ناقدین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر آخرکار امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں جو کسی حد تک 2015 کے جوہری معاہدے سے مشابہ ہو، تو پھر برسوں کی کشیدگی، سفارتی تنازع اور عسکری دباؤ کا حاصل کیا رہا؟ کیا اسرائیل اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا یا اس نے صرف ایک ایسے بحران کو جنم دیا جس نے ایران کی بعض طاقتوں کو مزید نمایاں کر دیا؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ایک بات واضح دکھائی دیتی ہے: امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ صرف دو ممالک کے تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ اسرائیل کی مستقبل کی حکمتِ عملی، خطے کے طاقت کے توازن اور عالمی سفارت کاری کے لیے بھی ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اور اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ نیتن یاہو اس نئی حقیقت کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔
