2036 سے پہلے عمران خان کی رہائی کا امکان کیوں نہیں رہا؟

توشہ خانہ کرپشن کیس اور 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں بالترتیب 10 برس اور 14 برس قید کی سزائیں پانے والے عمران خان کے مسلسل فوج مخالف بیانیے نے انہیں بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے اور اگر کوئی انہونی نہ ہوئی تو زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ اپنی قیدیں کاٹنے کے بعد ہی رہائی پا سکیں گے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصلہ ساز حلقوں کا عمران خان کے ساتھ کسی ڈیل کا امکان اب صفر ہو چکا ہے چونکہ ان کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے اور اب وہ موجودہ سیٹ اپ کے لیے خطرہ بھی تصور نہیں کیے جا رہے۔
ذرائع کا دعوی ہے کہ اگلے چند ماہ میں عمران خان کو توشہ خانہ ٹو کیس اور جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی دس سے 14 برس قید تک کی سزائیں ملنے جا رہی ہیں جس کے بعد ان کی قید مزید لمبی ہو جائے گی۔ اس وقت توشہ خانہ ٹو کیس اپنے آخری مراحل میں ہے جبکہ جی ایچ کیو حملہ کیس کی عدالتی کاروائی شروع ہو چکی ہے اور عمران خان بار بار اس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی بہت بڑا کرشمہ رونما نہ ہوا یا عدالتوں سے غیر متوقع ریلیف نہ ملا، تو اگلے کئی برسوں تک عمران خان کی رہائی کا امکان نظر نہیں آتا، اگر انہیں توشہ خانہ ٹو کیس اور جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی سزائیں ہو جاتی ہیں تو وہ اگلے دس برس جیل میں قید رہ سکتے ہیں۔
تحریک انصاف کے معتدل مزاج اور صلح پسند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان کی فوج سے ٹکراؤ کی پالیسی کا نتیجہ ہے جس سے زیادہ تر مرکزی قائدین اتفاق نہیں کرتے۔ ویسے بھی عمران خان نے تحریک انصاف کی مرکزی لیڈرشپ کو کھڈے لائن لگاتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینٹ میں مجلس وحدت المسلمین اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہان کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا ہے جس کے بعد پی ٹی آئی کی رہی سہی مزاحمت بھی ختم ہو گئی ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ عمران نے اپنی ریاست مخالف پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر ان کی جگہ شدت پسند پرو طالبان سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلی بنوا دیا ہے جو دوبارہ سے اسلام آباد پر لشکر کشی کے منصوبے بنا رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سخت گیر عناصر بھی خان کی طرح تصادم کی اس پالیسی پر قائم ہیں جس نے عمران خان اور ان کی جماعت کو تباہی اور بربادی کے علاوہ اور کچھ نہیں دیا، عمران خان کی اسی ٹکراؤ کی پالیسی کے نتیجے میں 9 میں 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملے کیے گے اور پھر 26 نومبر 2025 کو اسلام آباد پر لشکر کشی کی گئی جس کے نتیجے میں ریاست نے اپنی طاقت دکھائی اور نتیجہ یہ نکلا کہ پی ٹی آئی اپنی سٹریٹ پاور سے محروم ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اب عمران خان کی احتجاجی کالز پر درجن بھر لوگ بھی سڑکوں پر نہیں نکلتے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے تحمل مزاج رہنما عمران خان کی ریاست اور فوج مخالف شدت پسند پالیسی پر سخت مضطرب ہیں۔ اُن کا موقف ہے کہ جب تک محاذ آرائی ختم نہیں کی جاتی، عمران خان کی رہائی بھی ممکن نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کی مشکلات جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتیں۔ ویسے بھی عمران خان اور ان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف زیر سماعت مقدمات اور سزائوں کی نوعیت پیچیدہ ہے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ کی 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں ملنے والی سزا کیلے خلاف اپیلیں تاحال اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئیں۔ اس سے پہلے انکی سزا معطلی کی درخواست کی سماعت ضروری ہے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی طے شدہ ’’فکسیشن پالیسی‘‘ کے مطابق اب اپیلوں کی سماعت کیس دائر ہونے کی ترتیب کے حساب سے کی جاتی ہے۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی تشکیل کردہ اس پالیسی میں پرانے اور سنگین مقدمات، خصوصاً سزائے موت اور عمر قید کے کیسز پہلے سننے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 14؍ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، ان کی اپیل 31؍ جنوری 2024ء کو دائر کی گئی تھی، لیکن تاحال اسکی کوئی عدالتی سماعت نہیں ہوئی۔ موجودہ عدالتی بیک لاگ اور ترجیحی پالیسی کو دیکھتے ہوئے، اس اپیل پر رواں سال سماعت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ پرانے مقدمات ترجیحی بنیاد پر پہلے زیر سماعت ہیں۔
پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ’’سخت گیر عناصر‘‘ جنہوں نے مذاکرات کی مخالفت کی، انہوں نے عمران کی جیل یاترا لمبی کر دی ہے۔ جب تک 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس اور توشہ خانہ کرپشن کیس میں عمران کی سزائیں برقرار ہیں، وہ ضمانت پر بھی جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔ ادھر ان کے مسائل میں اضافہ کرتے ہوئے، توشہ خانہ ٹو کیس بھی اب آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے جس میں انہیں سزا ملنے کا قوی امکان ہے۔ ان ممکنہ سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ کو مزید قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کے حملہ کیسز اور جی ایچ کیو حملہ کیس بھی زیر سماعت ہیں۔
ٹی ایل پی پر پابندی کے بعد مریم نواز کی سکیورٹی ٹیم کی سکریننگ شروع
حکومتی ذرائع کے مطابق عمران کے خلاف زیر سماعت کیسز میں استغاثہ کے پاس ایسے قانونی حربے موجود ہیں جن سے کیسز کو طول دیا جا سکتا ہے، اور عمران خان کی رہائی ناممکن ہو سکتی ہے؛ پھر چاہے وہ کچھ کیسز میں ضمانت یا بریت ہی کیوں نہ حاصل کر لیں۔ عمران کے خلاف استغاثہ کا کہنا ہے کہ اگر بانی تمام بڑے کیسز میں ہائی کورٹ سے بری بھی ہو جائیں تب بھی ان کی رہائی کو کئی برس لگ جائیں گے۔ انکے مطابق، جب تک کوئی غیر معمولی عدالتی یا سیاسی پیش رفت نہیں ہوتی، عمران خان کی قید 2036 تک، یا اس سے بھی آگے جا سکتی ہے۔
