تحریک لبیک سے مذاکرات کی بجائے کریک ڈاؤن کیوں ضروری تھا ؟

 

 

 

فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں تحریک لبیک پاکستان کی پیدائش کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طاقت ور فیصلہ سازوں نے ٹی ایل پی کے کسی احتجاجی دھرنے کو مذاکرات اور معاہدے کی بجائے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے منتشر کیا ہے۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جانا ہو گا کہ تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی میں واضح تبدیلی کی علامت ہے۔

 

یاد رہے کہ آخری مرتبہ فیصلہ سازوں نے نومبر 2024 میں اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دینے والے تحریک انصاف کے مظاہرین کو بھی مذاکرات کی بجائے ریاست کی طاقت کے زور پر منتشر کیا تھا جس کے بعد سے پی ٹی آئی کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مریدکے میں تحریک لبیک کے دھرنا مظاہرین کے خلاف ہونے والا آپریشن کلین اپ بھی اسی طریقے سے کیا گیا جیسے کہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں کیا گیا تھا۔ پہلے رات کے دو بجنے کا انتظار کیا گیا، پھر اچانک علاقے کی لائٹس بند کر دی گئیں اور پھر رینجرز اور پولیس کی جانب سے آپریشن کلین اپ شروع کر دیا گیا۔

 

یاد رہے کہ ٹی ایل پی نے چند روز قبل بظاہر فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاج کا آغاز کیا تھا۔ تاہم اس دوران غزہ امن معاہدہ ہو گیا لیکن تحریک لبیک نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ وہ اسلام آباد میں امریکی ایمبیسی کے سامنے پہنچ کر مظاہرہ کریں گے۔ اس دوران فیصلہ سازوں کو مظاہرین سے مذاکرات کا مشورہ بھی دیا گیا لیکن بالاخر ایک بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ ہوا جس کے نتیجے میں احتجاج کرنے والے مظاہرین منتشر ہو گئے۔ اس دوران ایک ایس ایچ او سمیت چند پولیس والوں کی جانیں گئیں اور کچھ مظاہرین بھی مارے گئے، یہ اطلاع بھی ہے کہ تحریک لبیک کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کے بڑے صاحبزادے سعد رضوی پولیس سے جھڑپ کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہو چکے ہیں، تاہم وہ دھرنا منتشر ہونے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے اور انکے حوالے سے صورت حال واضح نہیں ہے۔

 

سیکیورٹی تجزیہ کار اگرچہ متفق ہیں کہ مذہبی انتہا پسند گروہوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، تاہم وہ حکام کے طرزِ عمل پر اختلاف رکھتے ہیں۔ کچھ کا ماننا ہے کہ اس وقت کارروائی کی ضرورت نہیں تھی اور معاملہ کسی اور طریقے سے حل کیا جا سکتا تھا، جبکہ دیگر کے مطابق یہ ایک نایاب موقع ہے جب ریاست نے مذہبی بنیادوں پر کیے جانے والے احتجاج کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا اور ریاست کی کھوئی ہوئی رٹ بحال کی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تحریک لبیک کے دھرنے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ عسکری قیادت کی منظوری سے ہوا اور اس کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ اب پاکستان میں جتھوں کو اپنی طاقت دکھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

سیکیورٹی تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے تحریک لبیک والے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مذہبی اقلیتوں کے خلاف سرگرم ہو چکے تھے۔ اس کے کارکنان اللہ اور اس کے رسول کے نام لیوا ہونے کے باوجود گلی محلوں میں بدمعاشی کر رہے تھے۔ لوگوں کو گستاخ رسول قرار دے کر نہ صرف بلیک میل کیا جاتا تھا بلکہ انہیں گرفتار بھی کروایا جاتا تھا۔ ایسے میں ٹی ایل پی کو ریاستی رٹ دکھانا ضروری ہو گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر  ریاست نے اب واقعی فیصلہ کر لیا ہے کہ ایسے عناصر کی پرورش نہیں کی جائے گی، تو اسے اس مؤقف پر ڈٹ کر قائم رہنا چاہیے اور ماضی کی طرح انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا خیال دوبارہ ذہن میں نہیں لانا چاہیے۔

 

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان واحد انتہا پسند جماعت نہیں جو ایسے شدت پسند رجحانات رکھتی ہے۔ پاکستان میں بہت ساری ایسی جماعتیں اور لوگ موجود ہیں جو خود کو دوسروں کے عقائد پر سوال اٹھانے کا مجاز سمجھتے ہیں اور خود کو بہتر مسلمان قرار دیتے ہوئے دوسروں پر کفر کے فتوے عائد کر دیتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہی ذہنیت عدم برداشت کو بڑھاوا دیتی ہے۔

معروف دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کے مطابق کسی کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ دوسروں کے عقائد پر سوال اٹھائے یا خود کو یہ سمجھ لے کہ وہی یہ طے کرنے کا مجاز ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے کہ انتہا پسند گروہ دوسروں کی نیتوں پر شک کریں اور خود کو درست سمجھیں۔

 

اس حوالے سے سینئیر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نظریاتی جنگ کو نظریاتی بنیادوں پر ہی لڑنا ہو گا، یہی اس مسئلے کا طویل المدتی حل ہے۔ حکام کو اب کھل کر یہ بحث کرنی چاہیے کہ آخر کس بنیاد پر کوئی خود کو بہتر مسلمان سمجھ کر دوسروں پر برتری جتاتا ہے، اس سوچ پر کھلے عام بات اور بحث ہونی چاہیے۔ تحریک لبیک کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ کارروائی مذہبی شدت پسندوں کے حوالے سے ریاستی پالیسی میں واضح تبدیلی کی علامت ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ آیا حکومت طویل المدت بنیادوں پر اپنے اس مؤقف پر قائم رہتی ہے یا نہیں۔

 

Back to top button