وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کےلیے فکس ٹیکس سکیم متعارف کرادی

وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کےلیے فکس ٹیکس سکیم لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہےکہ فکس ٹیکس سکیم تاجروں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے، جس کا اطلاق 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سالانہ ٹرن اوور والے دکانداروں پر ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے نیوز کانفرنس کرتےہوئے کہا ہےکہ حکومت ٹیکس نظام میں وسعت لانے کےلیے اقدامات کررہی ہے اور ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے پر توجہ دی جارہی ہے تاکہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کیا جاسکے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ گزشتہ سال سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کے باوجود ملکی معیشت مستحکم رہی اور حکومت نے مختلف چیلنجز کا مقابلہ اپنے وسائل سے کیا،کسی بیرونی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی،ملک میں ایک منصفانہ اور مؤثر ٹیکس نظام کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہاکہ حکومت نے چھوٹے دکانداروں کےلیے فکس ٹیکس سکیم متعارف کرادی ہے،جو تاجروں اور انجمنِ تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے،اس سکیم کا اطلاق ایسے دکانداروں پر ہوگا جن کا سالانہ ٹرن اوور 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے،جب کہ دکاندار اپنی مرضی سے موجودہ ٹیکس نظام میں بھی رہ سکتے ہیں۔سکیم میں شامل دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے خصوصی شناختی پلیٹ جاری کی جائے گی،جس پر دکان کا نام، این ٹی این اور ٹیکس سے متعلق معلومات درج ہوں گی۔
انہوں نے بتایاکہ پلیٹ پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے ایف بی آر انسپکٹر تصدیق کرے گا اور کیو آر کوڈ سکین کیےبغیر کسی انسپکٹر کو دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔سکیم میں شامل دکانداروں کو عمومی آڈٹ سے استثنا حاصل ہوگا،جب کہ کسی خصوصی آڈٹ سے قبل تاجر تنظیموں سے مشاورت کی جائے گی۔
پاکستان کا تجارتی خسارہ34 ارب 76 کروڑ ڈالرزسےتجاوزکرگیا
خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہاکہ آڈٹ معاملات کےلیے ایک باقاعدہ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی،ملک میں 30 سے 40 لاکھ چھوٹے دکاندار موجود ہیں اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
ان کاکہنا تھاکہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ کی حمایت سے اس سکیم کو نافذ کیا جارہا ہے، جب کہ ایف بی آر حکام اور تاجر برادری کے تعاون سے اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔تاجروں کے ساتھ مل کر اس سکیم کو کامیاب بنایا جائےگا۔
