پنجاب کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی داشتہ کیوں قرار دے دیا گیا؟

عمران خان کے لیے ہمدردیاں رکھنے والے لکھاری اور تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے پنجاب کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی داشتہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجابی ہمیشہ سے امراؤ جان ادا کا کردار ادا کرتے آئے ہیں اور آج بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز میر اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ پنجاب کے ساتھ ایک حادثہ رونما ہوا جس کے اثرات پوری ریاست پر پڑے۔ پنجاب کے تاریخی تجربے میں ایک کمی یہ رہی ہے کہ اسے کبھی حق حکمرانی نہیں مل سکا۔ سکھوں کے دور کے علاوہ سکندرِ اعظم سے لے کر مغل بادشاہوں تک پنجاب میں کبھی کوئی بادشاہت قائم نہیں ہوئی اور نہ ہی پنجاب نے دوسرے علاقوں پر حکمرانی کی۔ یہ تو 1947 کا حادثہ تھا کہ ریاستِ پاکستان کی تشکیل اس طرح ہوئی کہ آبادی اور وسائل کے لحاظ سے پنجاب کا حصہ باقی اکائیوں کی نسبت سب سے بھاری رہا۔ لہذا ایک نئی ریاست وجود میں آ گئی۔ اس نئی ریاست میں بھی عددی اکثریت تو بنگالیوں کی تھی لیکن ریاست کے معاملات میں اُنکا عمل دخل اتنا نہ تھا جتنا کہ ہونا چاہیے تھا۔ لہٰذا نئی ریاست کی کرتا دھرتا پنجاب والی اشرافیہ ہی رہی۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کہتے ہیں کہ ایک پنجاب کی اشرافیہ تھی اور دوسری اشرافیہ ہندوستان سے یا یو پی سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے لوگوں پر مشتمل تھی۔ یو پی اور دِلی ہندوستان میں مسلمان تہذیب کے گہوارے تھے۔ تعلیم وتہذیب کے حوالے سے وہ باقی قوموں سے آگے تھے۔ جو خیالات وہ اشرافیہ لے کر آئی اور جو اُس اشرافیہ کی خاص نفسیات تھی وہی خیالات اور نفسیات ریاستِ پاکستان کے بن گئے۔ ان ہی نظریات نے بعد میں نظریۂ پاکستان اور ہندوستان دشمنی کی صورت اختیار کی۔ یہ تصورات یہاں کی دھرتی کے نہیں تھے بلکہ یہ اُس ہجرت کا نظریاتی سامان تھا۔ انہی خیالات کی روشنی میں نئی ریاست کا ذہنی ارتقا ہوتا گیا۔ پاکستان کا امریکی کیمپ میں جانا‘ امریکی فوجی معاہدوں کا حصہ بن جانا اور اندرونِ ریاست بنیادی معاشرتی اصلاحا ت سے گریز کرنا‘ یہ نئی ریاست کے نظریاتی اساس کا حصہ تھے۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز میر کہتے ہیں کہ پاکستان نامی نئی ریاست کی ڈرائیور سیٹ پر پنجاب اور یو پی کی اشرافیہ بیٹھی تھی۔ نوکرشاہی اور عسکری اداروں کی سوچ بھی انہی خطوط پر استوار ہوتی گئی۔ شروع کے سالوں میں سیاستدانوں کی خاصی اہمیت حاصل تھی، گو کہ انکے ساتھ بھاری بھرکم بیورو کریٹ بھی تھے جنکا کردار ریاست کی سمت متعین کرنے میں نمایاں رہا۔ عسکری اداروں نے طاقت بعد میں پکڑی۔ جب براہ راست مارشل لا لگانے کا رواج شروع ہوا تو پھر فوجی اداروں کی چھاپ سیاست اور معاشرتی زندگی پر بڑھتی گئی۔

اگر یو پی اور پنجاب کے حکمران طبقات میں حکمرانی کا وصف ہوتا‘ اگر اُن میں دُور کی سوچ اور ریاست کے نظم ونسق کو سنبھالنے کی صلاحیت ہوتی‘ تو کوئی پرابلم نہیں تھا‘ لیکن مسئلہ یہ بنا کہ یو پی سے آئے حضرات تقسیمِ ہند کی نفسیات سے کبھی باہر نہ نکل سکے اور اُن کا جو اثر نوکر شاہی کے اداروں خاص طور پر دفترخارجہ اور اخبارات ورسائل پر رہا اُس کی وجہ سے ہندوستان سے دائمی دشمنی نئی ریاست کی سوچ کا حصہ بن گئی۔

دوسرا مسئلہ پنجاب کے حکمران طبقات کا تھا کہ وہ اپنے طبقاتی مفادات سے کبھی باہر نہ نکل سکے۔ اور اپنے مفادات کے تحفظ میں ریاست کی دوسری اکائیوں کو خاطر خواہ اہمیت کبھی نہ دے سکے ۔ 14 اگست 1947ء کے کچھ ہی دنوں بعد ڈاکٹر خان صاحب کی منسٹری صوبہ سرحد میں برطرف کر دی گئی اور کچھ عرصہ بعد ایوب کھوڑو کو سندھ کی چیف منسٹری سے ہٹا دیا گیا۔ بلوچستان میں ریاستِ قلات کچھ زور آزمائی کے بعد پاکستان کاحصہ بنی اور جہاں تک مشرقی پاکستان کا تعلق ہے وہاں کے باسیوں کو شروع دن سے سیکنڈ کلاس شہری سمجھا گیا۔ جہاں یہ بنیاد تھی تو آگے جا کے وفاق اور جمہوریت نے کہاں سے مضبوط ہونا تھا۔ یعنی جمہوری اصولوں کے بجائے آمرانہ اصولوں کی بساط شروع سے بچھائی جاتی رہی۔ اس سلسلے میں عسکری اداروں پر تہمت ناحق لگتی ہے۔ پاکستان میں آمرانہ اصولوں کی دریافت ان اداروں نے نہیں کی بلکہ جو اصول وضع ہو چکے تھے اُنہی اصولوں کو ان اداروں نے پروان چڑھایا۔ لہٰذا آج اگر قوم حاکمانہ انداز کی ایک نئی شکل دیکھ رہی ہے تو اس میں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ایک ارتقا ہے جو پرانی بنیادوں پر جاری ہے۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کہتے ہیں کہ اگر آج عدلیہ کی بے توقیری اور سیاست کی تابعداری کا رونا رویا جا رہا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انصاف اور جمہوریت کے تناظر میں عدلیہ کا کردار کب مثالی رہا؟ چیف جسٹس منیر سے لے کر انصاف کے کتنے ہی علمبردار آئے جنہوں نے عدلیہ کی بے توقیری میں اپنا حصہ ڈالا۔ لہٰذا چھبیسویں آئینی ترمیم پر اتنا کیا رونا۔ طالع آزماؤں کے پہلے زمانوں میں اعلیٰ عدلیہ کو اپنی جگہ میں رکھنے کیلئے پی سی او نافذ ہوا کرتے تھے۔ اور بیشتر جج صاحبان اُن پی سی اوز کے تحت عائد تابعداری کو بخوشی قبول کرتے تھے۔ اور جہاں تک سیاست کا تعلق ہے کون سی بڑی سیاسی جماعت ہے جو دعویٰ کر سکتی ہے کہ اپنے زمانے میں اُس نے امراؤ جان ادا کا کردار ادا نہیں کیا؟ شروع دن سے پاکستان میں حاکمیت کا ماڈل تھانیداری طرز کا رہا ہے۔ تھانیدار بدلتے رہے ہیں‘ لیکن تصورِ حاکمیت وہی رہا۔ اسی طرح فوجی سربراہ بدلتے رہے لیکن پنجاب بدستور امراؤ جان ادا کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

Back to top button