پیکا قانون کپتان حکومت کے اپنے ہی گلے کیوں پڑ جائے گا؟

کپتان حکومت کی جانب سے پیکا قانون میں ترامیم شدہ ڈریکونین صدارتی آرڈیننس جاری کئے جانے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل قریب میں یہ قوانین عمران اینڈ کمپنی کیخلاف استعمال ہوں گے لہٰذا حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئے اور ن لیگ والی غلطی نہیں دہرانی چاہئے۔

خیال رہے کہ صدر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر پری وینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 میں ترمیم کر دی یے جسکے بعد حکومت، عدلیہ یا فوج مخالف خبر دینے یا انکی کردار کشی کرنے پر پانچ سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔ تاہم فیک نیوز یا کردار کشی کی کیا تعریف ہوگی، اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل نہیں بتایا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر شکنجہ سخت تر کر دیا جائے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کی بھر پور مخالفت کے باوجود ن لیگ کی حکومت نے 2016 میں پیکا نامی کالا قانون متعارف کروایا تھا جو بعد ازاں ن لیگ کے ہمدردوں کے خلاف ہی استعمال ہوا۔ اب کپتان حکومت نے الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کو لگام دینے کے لئے اس قانون کو مزید سخت کرنے کے لئے بزریعہ صدارتی آرڈیننس ترامیم متعارف کروائی ہیں جنہیں ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان ترمیم کردہ قوانین کو ’جمہوریت کے منافی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکی ہیں۔ تاہم تحریک انصاف کے وزراء اور حامی پیکا کے ترمیم شدہ قانون کا دفاع کرتے نظر آرہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما اور وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی سینیٹر فیصل جاوید خان نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ جعلی خبریں قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پیکا میں نئی ترامیم آزادی اظہار پر سمجھوتہ کیے بغیر.

سوشل میڈیا پر حکومتی شکنجہ مذید تنگ کرنے کی کارروائی تب شروع کی گئی جب ایک ٹی وی پروگرام کے پینل نے وزیر مواصلات مراد سعید کو عمران خان کی جانب سے بہترین کارکردگی دکھانے کا ایوارڈ دیے جانے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ غریدہ فاروقی کے اس پروگرام میں محسن بیگ اور دیگر شرکاء نے یہ تاثر دیا کہ ایوارڈ کے پیچھے مراد سعید کی وزارت کی کارکردگی کے علاوہ بھی کچھ عوامل پوشیدہ ہیں جن کا ذکر ریحام خان نے اپنی کتاب میں تفصیل سے کیا ہے۔

اس پروگرام پر حکومتی عہدیداروں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی اور ‘نیوز ون’ کو کیبل نیٹ ورکس سے آف ایئر کردیا گیا تھا۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے وفاقی وزیر کے بارے میں ‘غیر اخلاقی’ ریمارکس نشر کرنے پر چینل کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ وفاقی وزیر مراد سعید نے پینلسٹ میں سے ایک میڈیا شخصیت محسن جمیل بیگ کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جس میں کہا گیا کہ انہوں نے ایک ٹاک شو میں غیر اخلاقی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرکے ان کی کردار کشی کی، ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بیگ نے تضحیک آمیز ریمارکس کے ساتھ ایک بے بنیاد کہانی منسوب کی جسے بعد میں سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا اور عوام میں وفاقی وزیر کی ساکھ اور تاثر کو تباہ کر دیا گیا۔

اس ایف آئی آر کے بعد ایف آئی اے نے محسن بیگ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا اور چھاپہ مار ٹیم کے ارکان پر مبینہ طور پر گولی چلانے اور ان سے بدتمیزی کرنے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ تاہم اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے سربراہ ڈی آئی جی بابر بخت قریشی نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے محسن بیگ کے گھر چھاپہ مارنے سے پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا تھا جو کہ غیر قانونی حرکت ہے۔ اس اعتراف کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز ہو سکے۔

جنرل فیض حمید دوبارہ نواز لیگ کے ریڈار پر کیوں آ گئے؟

ناقدین کی جانب سے پیکا آرڈیننس کو حکمران جماعت تحریک انصاف کا ایک اور مضحکہ خیز اقدام قرار دیا جارہا ہے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق پر بیڑیاں ڈال دی گئی ہیں اور اظہار رائے اور اختلاف رائے کی آزادی کو سلب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ میڈیا اور صحافتی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی آزادی سلب کرنے والے اس آرڈیننس کے خلاف نہ صرف قانونی کارروائی کریں گے بلکہ اس کے خلاف ایک احتجاجی تحریک بھی چلائیں گے۔

آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اور نیوز ڈائریکٹرز پر مشتمل میڈیا کی مشترکہ ایکشن کمیٹی نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ یعنی پیکا قانون میں ’ظالمانہ ترامیم‘ کو مسترد کر دیا اور اسے میڈیا کی آزادی، اظہار رائے اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے ایک صریح اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا، اگر ضرورت پڑی تو کمیٹی اپنی انتظامی باڈی کی بھرپور طاقت کے ساتھ ایسے اقدام کی مخالفت کرے گی۔

پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے ایک علیحدہ بیان میں آرڈیننس پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ قوانین میں ترمیم کی جا رہی ہے تاکہ حقوق کو سلب کرنےکے لیے انہیں مزید سخت بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ آئین میں عدلیہ اور مسلح افواج کی سالمیت اور وقار کے تحفظ کے لیے پہلے ہی واضح دفعات موجود ہیں تو مزید زبردستی اقدامات کی ضرورت کیوں ہے؟ جب عدالتیں موجودہ قوانین کو استعمال کر سکتی ہیں تو کسی بھی شخص یا ادارے کو بدنام کرنے میں ملوث شخص کو سزا دینے کے لیے پیکا میں ترمیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اپوزیشن جماعتوں حتیٰ کہ حکومتی اتحادیوں کی جانب سے بھی اس آرڈیننس کی کھلی مخالفت کی جا رہی ہے۔ مرکز میں حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے بھی متنازع آرڈیننس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی جانب سے رعایت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے حالانکہ اس قانون کے محرک وفاقی وزیر قانون برسٹر فروغ نسیم کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے تاہم ایم کیو ایم والے انہیں اسٹیبلشمنٹ کا خاص بندہ قرار دیتے ہیں۔

جماعت کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم صورتحال کا باریک بینی سے تجزیہ کر رہی ہے لیکن ہم واضح ہیں کہ ایسے آرڈیننس سے مسائل حل نہیں ہوں گے، یہ ایک طرح سے شکست تسلیم کرنے اور پھر اس کا عوامی طور پر اعلان کرنے کے مترادف ہے۔ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ جلد ہی پی ٹی آئی خود ان نئے قوانین کا شکار ہو جائے گی۔

اس حکومت کی جانب سے جو قانون سازی کی جا رہی ہے اس کا مقصد میڈیا اور اپوزیشن کی آوازوں کو دبانا ہے لیکن یہ قوانین عمران اینڈ کمپنی کے خلاف استعمال ہونے والے ہیں، انہون نے کہا کہ پھر مت کہنا کہ آپ کو اس کے بارے بتایا نہیں گیا۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے الیکٹرانک کرائمز لا اور الیکشن ایکٹ میں ترامیم قومی سطح پر بحث و مباحث سے انکار اور پارلیمنٹ کو قانون سازی کے آئینی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

Back to top button