جنرل فیض حمید دوبارہ نواز لیگ کے ریڈار پر کیوں آ گئے؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد سابق آئی ایس آئی سربراہ اور موجودہ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ نون کے ریڈار پر آگئے ہیں اور بالواسطہ یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ نواز لیگ کے اراکین قومی اسمبلی پر کپتان کے خلاف ووٹ نہ ڈالنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد ہر سیاسی جماعت کا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں اور خیبر پختون خوا سے ایک شخص ارکان اسمبلی کو دباؤ میں لانے کی کوششں کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اس وقت کور کمانڈر پشاور ہیں۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمان کو دباؤ میں لانے کی کوشش اس حقیقت کے باوجود جاری ہے کہ ادارے کو سیاست میں گھسیٹنے کی وجہ سے پہلے ہی اسکی ساکھ اور اسکا وقار کافی متائثر ہو چکا ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آپ سیاست کے میدان میں سیاسی انداز میں اپوزیشن کا مقابلہ کریں، انہوں نے اراکین اسمبلی پر دباؤ ڈالنے والے شخص کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور ادارے کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش جاری رکھی تو ہم آپ کا نام لینے پر مجبور ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر آئینی حرکتیں عمران کے خوف اور شکست کا واضح ثبوت ہیں۔
اسلام آباد پہنچ کر حکومت کو نقصان پہنچائیں گے
دوسری جانب حکومتی ذرائع نے مریم اورنگزیب کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلاوجہ اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم جس شخص کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اگر وہ اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا تو خیبر پختون خوا کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج مختلف ہوتے اور وہاں کپتان مخالف اپوزیشن جماعتیں اکثریت حاصل نہ کرتیں۔
لیکن دوسری جانب حکومتی موقف پر ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے انعقاد سے چند ہفتے پہلے پیشاور کی اہم ترین غیر سیاسی شخصیت نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کے حق میں اپنا اثر رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد ان کی شکایت کی گئی اور ادارے کے سربراہ نے اسکا نوٹس لیتے ہوئے موصوف کو مکمل غیر سیاسی ہو جانے کی ہدایت کی تھی۔
مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم اورنگزیب کی جانب سے یہ بیان نواز شریف اور شہباز شریف کی مرضی کے بغیر جاری نہیں ہو سکتا جس کا مطلب یہ ہے کہ پشاور سے واقعی کچھ نہ کچھ حرکت ضرور ہو رہی ہو گی۔ یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو پاکستانی تاریخ کا سب سے ذیادہ سیاسی جرنیل قرار دیا جاتا ہے جنہیں اب بھی وزیراعظم عمران خان کے نہایت قریب خیال کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ وہ کپتان کے اگلے آرمی چیف ہیں۔
ماضی میں فیض حمید پر یہ الزام لگتا تھا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے اپنی ایجنسی کا بے دریغ استعمال کرتے تھے اور سیاسی جوڑ توڑ میں بھی فعال کردار ادا کرتے تھے۔ تاہم فیض حمید کے برعکس آئی ایس آئی کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے مکمل طور پر غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور میڈیا پر بھی نظر نہیں آتے۔
