کیا سروائیکل کینسر کی ویکسین بچیوں کو بانجھ کر دے گی؟

 

 

 

عقل کے اندھے اور جہالت کے مارے پاکستانیوں نے اب یہ پروپگینڈا شروع کر دیا ہے کہ کافروں نے ایک گھناؤنی سازش کے تحت پاکستان میں مسلمان بچیوں کو بانجھ بنانے کیلئے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ایک مہلک ویکسین لگانا شروع کردی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پہلے جو کام پولیو کے قطروں اور کرونا کی ویکسین سے لیا جاتا تھا وہ اب کینسر کی ویکسین سے لیا جا رہا ہے جو سندھ اور پنجاب کے سکولوں میں 9 سے 14 سال کی بچیوں کو مفت لگائی جا رہی ہے۔

 

تاہم سچ یہ ہے کہ یہ ایک نایاب اور مہنگی ترین ویکسین ہے جو کہ بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت یا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس ویکسین کی ایک بڑی کھیپ پاکستان کو مفت فراہم کی ہے کیونکہ پاکستانی خواتین میں سروائیکل کا کینسر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس حوالے سے معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ اس ویکسین کے استعمال سے اپنی بچیوں کی زندگی محفوظ بنانے کےلی بجائے عقل کے اندھے اور جاہل پاکستانی یہ سوال کر رہے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت ہمیں یہ ویکسین مفت کیوں فراہم کر رہا ہے؟ انکے مطابق کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

 

بلال غوری کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بونگے سوالات سے شکوک و شبہات پھیلائے جارہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ فاتح جلال آباد مرحوم جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ گل نے تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک پرانی ویڈیو بھی یہ لکھ کر شیئر کردی کہ ہمارے سکولوں میں بچیوں کو زبردستی ویکسین لگائے جانے پر کچھ طالبات کی طبیعت بگڑ گئی۔ چنانچہ میں نے سوچا کیوں نہ ان اندیشہ ہائے دور دراز کی حقیقت معلوم کرنیکی کوشش کی جائے تاکہ سروائیکل کینسر سے بچانے والی ویکسین بارے پھیلائی جانے والی غلط فہمی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

 

بلال غوری بتاتے ہیں کہ HPV نامی ایک مہلک وائرس خواتین میں سروائیکل کینسر کا باعث بنتا ہے جس کا نتیجہ موت کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ خواتین میں پائے جانیوالے سرطان کی اقسام میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اگر اس موذی مرض کے باعث اموات کی بات کریں تو سروائیکل کینسر ہر دو منٹ میں ایک خاتون کو مار ڈالتا ہے۔ اگر پاکستان کی بات کریں تو یہاں 73ملین خواتین میں سے کم ازکم 20 ملین خواتین اس جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں۔ہر روز صرف پاکستان میں 10 خواتین سروائیکل کینسر کے باعث زندگی ہار جاتی ہیں۔شروع میں کینسر لاعلاج مرض تھا مگر انسان برسہا برس کی محنت کے بعد اسے شکست دینے میں کامیاب ہوگیا لہٰذا ویکسین تیار کرنے کے منصوبے پر کام ہونے لگا۔ آسٹریلیا وہ پہلا ملک تھا جس نے اپنی بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کیلئےHPV ویکسین لگانا شروع کی اور اب 150ممالک اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔پاکستان بھی کچھ عرصہ قبل جب اس کارخیر میں شامل ہوا تو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 49000 ہیلتھ ورکرز کو تربیت دی تاکہ 9 سے 14 سال کی 13 ملین پاکستانی بچیوں کو پہلے مرحلے میں ویکسین لگا کر محفوظ کیا جاسکے۔

 

لیکن بلال غوری بتاتے ہیں کہ جب 15ستمبر 2025 سے ملک بھر میں HPV ویکسین لگانے کی مہم شروع ہوئی تو لاعلمی اور جہالت کے باعث غیر ملکی سازش کا پراپیگنڈا شروع کردیا گیا۔ یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی بچی کواسکے والدین کی تحریری اجازت کے بغیر سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگائی جارہی۔ سینیئر صحافی بتاتے ہیں کہ میری بیٹی اپنے سکول سے یہ ویکسین لگانے کے اجازت نامے کا جو فارم لیکر آئی تھی، وہ ساتھ لیجانا بھول گئی چنانچہ متعلقہ سٹاف نے ویکسین لگانے سے انکار کردیا۔ اسکے علاوہ جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ گل سمیت نے طالبات کے بیہوش ہونے کی جو ویڈیو شیئر کی وہ حقائق کے منافی ہے۔ یہ گزشتہ برس تب کی ویڈیو ہے جب آزاد کشمیر میں احتجاج کے باعث پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا تھا۔

 

بلال غوری کہتے ہیں کہ اس ویکسین بارے سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے کفار ہماری بچیوں کو بانجھ بناناچاہتے ہیں۔ انکی خواہش ہے کہ مسلمانوں کی افزائش نسل کو روکا جائے۔ اس سے پہلے پولیو کے قطروں سے متعلق بھی یہی کہا جاتا تھا۔ بلال غوری کہتے ہیں کہ 1990 سے پاکستان بھر میں پولیو کے قطرے پلائے جارہے ہیں، جن بچوں نے یہ قطرے پیئے، آج انکے ہاں بچوں کی قطار لگی ہوئی ہے لہذا لوگ ان باتوں پر کان کیوں دھرتے ہیں؟چلیں HPV ویکسین کی بات کرلیتے ہیں۔آسٹریلیا نے 2007ء میں یہ ویکسین لگانا شروع کی اور آج وہاں Cervical Cancerکا مرض ختم ہونے کو ہے۔14سال کی جن بچیوں نے 2007ء میں یہ ویکسین لگوائی تھی،آج وہ 32 سال کی ہوچکی ہیں،ان کا ڈیٹا نکلواکردیکھ لیں،اگر وہ بانجھ نہیں ہوئیں اور بچوں کو جنم دے رہی ہیں تو پھر ہمارے ہاں اس طرح کی بے بنیاد باتیں کیوں کی جارہی ہیں؟جب یہ سب دلائل رد ہو جاتے ہیں تو حالت اِنکار میں رہنے والے اپنے موقف پراصرار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ انگریز ہمارے سگے ہیں کیا؟ آخر انہیں ہماری بچیوں کی اتنی فکر کیوں ہے؟یہ ہمیں مفت ویکسین کیوں دے رہے ہیں؟

 

بلال غوری کہتے ہیں کہ آپ کو کرونا کی وبا تو یاد ہوگئی، تب بھی اسی قسم کی باتیں کی گئیں۔ لیکن جب لاکھوں لوگ کرونا کے ہاتھوں مارے گئے تو پاکستانی مسلمانوں کو بھی سمجھ آ گئی کہ جان بچانے کے لیے یہ ویکسین لگوانا ضروری ہے۔ دراصل پاکستان کو ویکسین فراہم کرنے والوں کو ہماری نہیں بلکہ اپنی فکر ہے۔ دنیا اب گلوبل ویلج بن چکی ہے، اگر کوئی مرض یا کسی قسم کا وائرس، کسی ایک خطے، کسی ایک ملک میں باقی ہے تو دنیا محفوظ نہیں ہے اسلئے وہ اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے پولیو کے قطرے اور ویکسین فراہم کرتے ہیں،غیر ترقی یافتہ ممالک کو اپنے ساتھ ان مہمات میں شامل کرنیکی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کافر وں کے ہاں انسانیت کا جذبہ بہرحال بہت زیادہ ہے۔

Back to top button