صدر ٹرمپ کو افغانستان کی بگرام ایئر بیس کیوں واپس چاہیئے؟

 

 

 

ایک ایسے وقت میں کہ جب پاکستان اور افغانستان کے مابین سفارتی تعلقات کشیدگی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں، صدر ٹرمپ نے اچانک یہ اعلان کر دیا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں واقع بگرام ایئر بیس دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ادھر طالبان کی عبوری حکومت نے صدر ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ طالبان نے اپنی سرزمین پر کبھی غیر ملکی افواج کو تسلیم نہیں کیا۔

 

افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ذاکر جلالی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے دوران ایسے امکان کو یکسر مسترد کر دیا گیا تھا۔ جلالی نے کہا کہ ’امریکہ کی افغانستان کے کسی بھی حصے میں فوجی موجودگی کے بغیر واشنگٹن اور کابل باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی اقتصادی اور سیاسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔ افغان عبوری حکومت کی جانب سے یہ بیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ بیان کے ردعمل میں آیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں موجود بگرام ایئر بیس کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ کو چین کے نزدیک واقع اس فوجی اڈے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ٹرمپ نے برطانوی دورے کے اختتام پر برٹش وزیراعظم کے ہمرار ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کی تھی۔

 

ٹرمپ نے سابق امریکی صدر پر  تنقید کرتے ہوئے کہا ’بغیر کسی وجہ کہ افغانستان سے امریکی افواج کا اچانک انخلا بہت ہی شرمناک فیصلہ تھا کیونکہ ہم افغانستان سے با عزت طریقے سے بھی نکل سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اچانک فوجی انخلا کی وجہ سے جو امریکی اسلحہ پیچھے رہ گیا وہ اب خطے میں خطرناک دہشتگردی کا موجب بن رہا ہے۔ چنانچہ ’ہم بگرام ایئر بیس کو، جو دنیا کے بڑے فوجی اڈوں میں ایک ہے، واپس لینے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کے لیے ایک چھوٹی سی بریکنگ نیوز ہو سکتی ہے۔ ہم بگرام ائیر بیس اس لیے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ افغانستان بھی ہماری ضرورت ہے۔ اس فوجی اڈے کو واپس لینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ بگرام چین کے جوہری ہتھیار بنانے کے مقام سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

 

یاد رہے کہ افغانستان میں موجود بگرام فوجی اڈے کا شمار امریکہ کے دنیا بھر میں قائم بڑے فوجی اڈوں میں ہوتا تھا۔ سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے وقت امریکہ نے یہ اڈا خالی کر دیا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ جب ٹرمپ نے بگرام اییر بیس کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے اسے دوبارہ حاصل کرنا کی بات کی ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے صدارت سنھبالنے کے فوری بعد امریکی افواج کی جانب سے بگرام کا فوجی اڈہ خالی کرنے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں بگرام فوجی اڈہ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔

 

یاد رہے کہ ماضی میں ٹرمپ نے جب بھی کابل کے شمال میں واقع صوبہ پروان میں بگرام کے فوجی اڈے کا ذکر کیا تو اس کے فوراً بعد ہی چین کا ذکر بھی کیا اور دعویٰ کیا کہ ’چین نے بگرام پر قبضہ کر لیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں بھی کہا تھا کہ اگر میں ہوتا تو بگرام کا بڑا فوجی اڈہ اپنے پاس ہی رکھتا، جو کہ اب چین کے کنٹرول میں ہے۔ بگرام دنیا کے سب سے طاقت ور رن ویز میں سے ایک ہے، جو کہ کنکریٹ اور سٹیل سے بنا ہوا ہے۔ یہ سینکڑوں کلو میٹر طویل مضبوط دیواروں سے گھرا ہوا تھا، اس کے ارد گرد کا علاقہ محفوظ تھا، اور کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔

 

بی بی سی نے جولائی 2025 میں سیٹلائٹ استعمال کرتے ہوئے بگرام کے فوجی اڈے کا تفصیلی جائزہ لیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ اڈہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اب کس صورتحال میں ہے۔

امریکی انخلا سے پہلے اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد کی سیٹلائٹ تصاویر میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق مثال کے طور پر 24 ستمبر 2020 کو لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر میں اس فوجی اڈے پر 35 طیارے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم طالبان کے اقتدار میں آنے کے تقریباً ایک سال بعد پورے بیس میں ایک بھی طیارہ نظر نہیں آیا۔ دیگر سیٹلائٹ تصاویر میں دو بڑی تبدیلیاں نظر آئی تھیں۔ایک تو یہ کہ بگرام بیس کے کئی مقامات سے سینکڑوں کنٹینرز کو بگرام ایئر بیس سے یا بیس کے اندر کے علاقوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

 

بگرام ائیر بیس میں کم از کم دو مقامات پر موجود تقریباً 40 کنٹینرز کو منتقل کیا گیا تھا۔اڈے کے ایک اور مقام پر سو سے زیادہ مختلف گاڑیاں کھڑی دیکھی جا سکتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ گاڑیاں طالبان کے قبضے کے بعد اڈے کے مختلف حصوں سے اکٹھی کر کے ایک جگہ کھڑی کی گئی تھیں۔ بگرام کے فوجی اڈے کی پچھلے تین سالوں میں مختلف اوقات میں لی گئی سیٹیلائٹ تصاویر میں بہت ہی کم مواقع پر کوئی گاڑی بیس کی اندرونی سڑکوں پر حرکت کرتی نظر آتی ہے۔ ان تصاویر کے مطابق بگرام کے فوجی اڈے میں کوئی بڑی سٹرکچرل تبدیلیاں نہیں ہوئی۔ 2025 کے اوائل میں لی گئی کچھ تصاویر میں بگرام ہوائی اڈے کے کچھ حصوں میں زمین پر کچھ سیاہ نشانات دکھائی دیے تھے، جو کہ تیل کے ذخائر ہو سکتے ہیں۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ انڈیا کے لیے کتنا بڑا دھچکا ہے؟

دفاعی ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ بگرام ایئر بیس کی صورتحال کا سب سے اہم پہلو اس کے رن وے کی حالت ہے۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہر فعال رن وے کو ملبے سے پاک رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بظاہر بگرام ایئر بیس بالکل اُسی حالت میں موجود ہے جس حالت میں امریکی افواج وہاں سے نکلی تھیں۔

Back to top button