کیا اسٹیبلشمنٹ 12 صوبے بنانے میں کامیاب ہو جائے گی؟

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر آئینی ترامیم کے ذریعے اٹھارویں آئینی ترمیم کے خاتمے اور صوبوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش زور پکڑ رہی ہے۔ اصل فیصلہ سازوں کا موقف ہے کہ اختیارات و وسائل مقامی سطح پر منتقل کر دینا ہی گورننس کے مسائل کا واحد حل ہے تاکہ حکومت عام آدمی کے دروازے تک آ جائے۔ لیکن معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی کہتے ہیں کہ یہ آدھا سچ ہے۔ مرض کی تشخیص درست ہے، مگر نئے صوبوں کو واحد علاج قرار دینا نادانی بلکہ چالاکی ہے۔
حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں کہتے ہیں کہ دنیا کی جمہوریتوں نے مدت ہوئی توانا مقامی حکومتوں کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکال لیا تھا، بھارت میں اتر پردیش کی آبادی 25 کروڑ ہے، بہار اور مہاراشٹر کی آبادی بھی پنجاب سے زیادہ ہے، مگر وہاں مقامی حکومتوں کا نظام موجود ہے، اور اچھا خاصہ چل رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے روئے مبارک پر کبھی رونق ریش برپا کرتا ہے کبھی ویران کر دیتا ہے، کبھی سبیل سجاتا ہے اور کبھی سنسان کر دیتا ہے، یعنی تنوع ہی تنوع۔ مگر معنوی طور پر یہ ملک منجمد ہے، پاکستان یکسر ساکت اور سر تا پا بے حس و حرکت ہے۔ گردشِ رنگِ چمن پر نگاہ ڈالیں۔
حماد بتاتے ہیں کہ اپنے قیام کے 10 سال بعد بھی پاکستان آئین کی کھوج میں تھا، آخر کار آئین بنتا ہے، لیکن دو سال بعد توڑ دیا جاتا ہے، اس دوران گورنر جنرل اور وزیر اعظم اختیارات کی رسہ کشی جاری رکھے ہوئے ہیں، یوں سمجھ لیں پارلیمانی نظام اور صدارتی نظام کے درمیان کھینچا تانی چل رہی ہے، 1956 کے آئین نے پارلیمانی نظام دیا لیکن دو سال بعد ہی یہ ڈاڑھی منڈوا دی گئی۔ آئین بننے میں دو رکاوٹیں درپیش رہیں، ایک تو یہ کہ آئین کی اساس محمد علی جناح کی 11اگست کی تقریر ہو گی یا قرار داد مقاصد، دوسرا مسئلہ تھا مضبوط مرکز ہو یا مضبوط صوبے ہوں، ون یونٹ اسی مسئلے کے حل کیلئے بنایا گیا لیکن پھر توڑ دیا گیا۔
کہانی یونہی آگے بڑھتی گئی، پاکستان میں پہلا مارشل نافذ کرنے والے جنرل ایوب خان گئے تو مہہ نوش جنرل یحییٰ خان بھی جوتوں سمیت معبد ِآئین میں گھس آئے، 1962 کا آئین غیر معتبر ہی سہی مگر ایک بار پھر آئین ٹوٹا اور برہنہ مارشل لا آ گیا، ادھر مضبوط مرکز کی خواہش کا انجام یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔ طویل مارشل لاء کے بعد بھٹو صاحب آئے، 73 کا آئین بنایا گیا اور کاغذوں میں صوبائی خود مختاری بھی آئی، لیکن بھٹو صاحب نے ہی بلوچستان کی صوبائی حکومت توڑی اور ایک سیاسی جماعت پر پابندی لگا دی۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ جب بھٹو صاحب حکومت میں آئے تو انہوں نے چہرے پر مارکس کی ڈاڑھی سجا رکھی تھی، بعد میں جب جنرل ضیاء الحق کی شہہ پر مذہبی جماعتوں نے اپنے اُسترے تیز کیے تو بھٹو صاحب نے مارکسی ڈاڑھی پر مدنی مہندی لگا کر جان بچانے کی کوشش کی، مگر ناکام رہے۔ بھٹو اور جمہوریت گئی تو پاکستان کا پہلا متفقہ آئین بھی چلا گیا، ضیاءالحق کا مارشل لا آ گیا، صوبوں پر بم باریاں جاری رہیں اور جمہوریت کو اسلامی نفسیات سے متصادم قرار دیا گیا، لیکن 1988 میں ایک طیارہ حادثے میں آموں کی پیٹیوں سمیت جنرل ضیاء کے بھسم ہونے کے بعد انہی پیٹیوں سے جمہوریت کی گٹھلی برآمد ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں آج بھی جمہوریت چوسے ہوئے آم جیسی لگتی یے۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد آصف زرداری کے پہلے دور صدارت میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے نہ صرف پارلیمنٹ کے اختیارات اسے واپس لوٹائے گئے بلکہ صوبوں کے اختیارات اور وسائل بھی بڑھا دیے گئے۔ تب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ یہ پروپگینڈا کرتی آ رہی ہے کہ وفاق کو مالی طور پر کمزور اور کنگلا کر دیا گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا موقف ہے کہ صوبے بہت بڑے ہو چکے ہیں لہذا انتظامی طور پر غیر موثر ہیں، لہٰذا صوبوں کی تعداد بڑھا کر اختیارات و وسائل مقامی سطح پر منتقل کیے جانا ہی واحد حل ہے۔
بھائی لوگوں کا اعتراض ہے کہ اٹھارویں ترمیم سے اختیارات و وسائل صوبوں کے پاس آنے کے بعد آگے نچلی سطح پر جانے تھے، جو نہیں گئے۔ لیکن حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اس بات کا نئے صوبوں سے کیا تعلق ہے؟ آج کل یہ آوازیں بھی گونج رہی ہیں کہ اٹھارویں ترمیم سے مرکز کے وسائل بہت سکڑ گئے ہیں لہٰذا ایک مزید آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ پھر صدارتی نظام کا شوشہ بھی سننے میں آ رہا ہے۔
حماد کا کہنا ہے کہ آپ ڈاڑھی رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں، خط بنوانا چاہتے ہیں یا نہیں، آپ گھنیری مونچھیں رکھنا چاہتے ہیں یا مہین، قلمیں قلم کرنا چاہتے ہیں یا انہیں نشوونما دینے کی آرزو رکھتے ہیں، جو چاہتے ہیں کیجیے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑیگا۔ لیکن جو اصل سوال ہمیں پہلے دن سے درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ پاکستان پر حق حکمرانی کس کا ہے، یعنی یہ حق عوام کا ہے یا کہ اشرافیہ کا؟ اس ملک کے وسائل کس کے تصرف میں ہونا چاہئیں، عوام کے یا اشرافیہ کے؟ سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کی کہانی کا مرکزی کردار عام آدمی ہے یا اشرافیہ؟ ان سوالوں کا جواب دیجیے اور پھر خواہ 12صوبے بنائیں یا 120، شلوار قمیض پہنیں یا سوٹ ٹائی لگائیں، وحید مراد والا ہیئر سٹائل بنائیں یا ٹنڈ کروا لیں، ہمیں فرق نہیں پڑتا۔
