خواتین کے ٹائٹ لباس سے بہروز سبزواری کو کیا تکلیف ہے؟

سینئر اداکار جاوید شیخ کی صاحبزادی اداکارہ مومل شیخ نے کہا ہے کہ اگر ان کے پھوپھا بہروز سبزواری نے خواتین کے ٹائٹ لباس پہننے پر تنقید کی ہے تو اس میں ان کا کیا قصور ہے۔ اگر خواتین کے لباس سے متعلق انہوں نے کوئی غلط بات کی ہے تو اسکا جواب بھی ان سے ہی لیا جائے۔ یاد ر ہے کہ بہروز سبزواری نے دسمبر 2022 میں ایک شو میں خواتین کے لباس سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی مرد حضرات کی آنکھوں کے اندر ریڈار لگے ہوتے ہیں اور وہ برقع میں جاتی ہوئی خواتین کو بھی گھورتے ہوئے ان کے اندر تک گھس جاتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر شخص کے پاس گاڑی نہیں ہے، اس لیے موٹر سائیکلیں بہت ہیں اور اس میں کوئی برائی کی بات بھی نہیں۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھی خواتین مناسب لباس نہیں پہن کر بیٹھتیں جو کہ غلط بات ہے۔ بہروز سبزواری نے کہا تھا کہ کچھ خواتین ایسا لباس پہنتی ہیں جو بہت ٹائٹ ہوتا ہے اور ان کے جسم کے خدوخال ظاہر ہورہے ہوتے ہیں۔

ان کی اس بات پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ حال ہی میں اداکارہ مومل شیخ ایکسپریس ٹی وی کے شو ’دی ٹاک ٹاک شو‘ میں شریک ہوئیں، جہاں میزبان نے ان سے بہروز سبزواری کی بات سے متعلق پوچھا۔

مومل شیخ نے کہا کہ ممکن ہے کہ جس وقت بہروز سبزواری نے پوڈکاسٹ میں یہ بات کہی، اس سے کچھ وقت پہلے انہوں نے کوئی ایسا منظر دیکھا ہو۔ اداکارہ نے کہا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے کبھی ایسی کوئی چیز دیکھی ہو اور بہروز سبزواری کے ذہن میں وہ بات رہ گئی  جو انہوں نے کہہ دی۔ مومل شیخ کے مطابق چوں کہ شوز میں کوئی بھی شخص ڈراموں کے سکرپٹ کی طرح تول کر نہیں بولتا، اس لیے ممکن ہے کہ بہروز سبزواری کے ذہن میں ایسی کوئی بات رہ گئی ہو، جس کا اظہار انہوں نے کردیا۔ اداکارہ نے کہا کہ لوگوں کو اِدھر اُدھر کی باتوں کو ایک دوسرے سے نہیں جوڑنا چاہئے اور یہ کہ جس شخص نے جو بات کہی ہو اس متعلق اسی سے ہی پوچھا جانا چاہئے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بہروز سبزواری نے خواتین کے لباس سے متعلق جو بات کہی، اس کا جواب بھی ان ہی سے لیا جائے، انہیں کیوں جوابدہ ٹھہرایا جا رہا ہے؟

اسی پروگرام میں انہوں نے اداکاراؤں کے لباس پر لوگوں کی تنقید کے حوالے سے بھی کھل کر بات کی اور کہا کہ اداکاراؤں کو مداحوں کی باتوں کا برا نہیں منانا چاہئے اور انہیں سب کی باتیں سننی چاہئے۔ مومل شیخ کا کہنا تھا کہ وہ بھی سب کی باتیں سنتی ہیں لیکن کسی کی باتوں پر عمل نہیں کرتیں، وہ وہی کرتیں ہیں جو انہیں کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کہ شوبز شخصیات کو اسٹار بنانے والا بھی عوام ہوتا ہے، اس لیے اداکاراؤں کو ان کی باتیں سننی چاہئے، عین ممکن ہے کہ بعض مداحوں کو کچھ اداکارائیں کسی خاص طرح کے لباس میں پسند آتی ہوں، جس وجہ سے وہ ان کے دوسرے لباس پر تنقید کرتے ہوں۔ مومل شیخ نے واضح کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر خود پر ہونے والی تنقید کی طرف توجہ نہیں دیتیں اور نہ ہی ایسی باتوں کا برا مناتی ہیں، کیوں کہ وہ کسی کے کہنے پر خود کو تبدیل نہیں کرتیں، وہ وہی کرتی ہیں جو ان کا دل اور دماغ کہتا ہے۔

تین شادیاں کرنے والی نادیہ خان نے طلاقوں کی کیا وجہ بتائی؟

Back to top button