اداکارہ یمنیٰ زیدی کا فلم ’’نایاب‘‘ کیلئے کرکٹ سیکھنے کا اعتراف

معروف اداکارہ یمنیٰ زیدی کا کہنا ہے کہ زندگی میں کبھی بیٹ، بال کو ہاتھ تک نہیں لگایا لیکن فلم ’’نایاب‘‘ کیلئے خصوصی طور پرکرکٹ کھیلنا سیکھی ہے۔یمنٰی زیدی کے ڈراموں ’’ڈر سی جاتی ہے صلہ‘‘، ’پیار کے صدقے‘،’بخت آور‘ اور ’صنفِ آہن‘ نہ صرف عوام میں مقبول ہوئے بلکہ انہیں بہترین اداکارہ کے متعدد ایوارڈ بھی ملے۔
نایاب ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو کرکٹر بننا چاہتی ہے، لیکن یہ سیٹ کسی کرکٹ کے میدان میں نہیں تھا بلکہ ایک باغ میں لگایا گیا تھا، کراچی کے تاریخی فریئر ہال کے لان میں لگے اس وسیع و عریض سیٹ پر ایک گانے کی فلم بندی کی جا رہی تھی، وہ اگرچہ بہت مصروف تھیں لیکن انہوں نے پروڈیوسرز سے کچھ وقت مانگ لیا۔اپنی پہلی فلم سے متعلق سوال پر پیلے جوڑے میں ملبوس یمنٰی نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ پہلے تو کہا کہ بس اچھا لگ رہا ہے، پھر کہا ’محنت کر رہی ہوں اور اس عمل کا لطف اٹھا رہی ہوں، لیکن کیونکہ یہ میری پہلی فلم ہے اس لیے کافی محتاط ہوں ایک ایک چیز کے لیے، باقی نتائج تو عوام کے پاس ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلم کی عکاسی کے دوران انہیں کوئی دباؤ محسوس نہیں ہو رہا البتہ فلم کی ریلیز پر ایسا ہونا ممکن ہے، نایاب کے انتخاب کے بارے میں یمنٰی کا کہنا تھا کہ اس فلم کی کہانی بہت اچھی ہے اور یہی سبب ہے کہ انہوں نے اس فلم کے لیے ہامی بھری، ان کی پوری کوشش ہے کہ جب عوام سینیما میں جائیں تو اس فلم کا بھرپور مزہ لیں۔یمنٰی کے مطابق انہوں نے فلم کی شوٹنگ سے قبل کبھی بلّا یا گیند نہیں پکڑی، اسی لیے انہوں نے فلم کے لیے باقاعدہ کرکٹ سیکھی، یمنیٰ نے بتایا کہ اداکاری میں کوئی لہجہ اختیار کرنا، کوئی انداز اپنانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ عوام کو محسوس ہونا چاہئے کہ یہ حقیقت ہے، فلمی دنیا میں فی الحال تو کوئی مقابلہ نہیں لہٰذا یہ کہنا ممکن نہیں کہ پاکستانی فلموں کا مستقبل کیا ہوگا، آپ اس کو مقابلہ کہتے ہیں، یہ مقابلہ نہیں، ابھی ہم سب مل کر اسے اس قابل بنا رہے ہیں کہ اسے مقابلہ کہا جا سکے۔
نایاب کے بارے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ فلم میں بہت مزے مزے کے سین ہیں، جسے عوام یقیناً پسند کریں گے، گانے کے سیٹ پر گفتگو ہو رہی تھی تو فلم میں رقص کے بارے میں سوال تو بنتا تھا۔یمنٰی نے کہا کہ وہ تو آپ سکرین پر ہی دیکھیں گے کہ کتنا اور کیسا کیا، آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی پر انہوں نے بہت مختلف نوعیت کے کردار کیے ہیں اور نایاب بھی ایک مختلف کردار ہے، لیکن اگر کوئی اچھی کہانی آئی تو وہ ایک روایتی ہیروئین کا کردار بھی ضرور کریں گی۔

Back to top button