زمان پارک میلہ ختم، مرشد چوک مکمل اجڑ گیا

زمان پارک میں جہاں کچھ روز قبل ایک میلے کا سا سماں تھا۔ علاقہ پارٹی ترانوں اور نعروں سے گونجتا تھا۔ اب وہاں خاموشی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ زمان پارک کا مرشد چوک اب اجڑے چمن کی طرح نوح خواں دکھائی دیتا ہے۔ زمان پارک جہاں ٹکٹ کے خواہش مندوں کے خیمے لگے تھے جبکہ پارٹی رہنماؤں کی بھی آمدورفت جاری رہتی تھی۔ لیکن نو مئی کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کےنتیجے میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد اب زمان پارک میں سناٹے کا راج ہے۔اب زمان پارک میں کہیں کارکنوں کی گہما گہمی تو دکھائی نہیں دیتی تاہم ابھی تک عمران خان زمان پارک میں اپنی اہلیہ بشرٰی بی بی کے ساتھ مقیم ہیں۔

لاہور کا علاقہ زمان پارک اب صرف اسی وجہ سے مشہور ہے کہ یہاں چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا گھر ہے۔ ویسے تو ان کا گھر پچھلے 50 سال سے یہیں ہے لیکن جو شہرت پچھلے سات مہینوں سے اس علاقے کو ملی اس کی بھی ایک الگ کہانی ہے۔ گذشتہ برس نومبر کے مہینے میں جب لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد کے قریب عمران خان فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئی تو اس کے بعد شوکت خانم ہسپتال سے علاج کے بعد زمان پارک منتقل ہوگئے۔اس سے پہلے گذشتہ کئی سالوں سے انھوں نے اسلام آباد بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر سکونت اختیار کر رکھی تھی۔

زمان پارک میں ان کے رہائش اختیار کرنے کے فیصلے نے اس علاقے کو ایک سیاسی میلے کی شکل دے دی۔ کینال روڈ پر کارکنوں نے خیمے نصب کر لیے۔ٹکٹوں کے امیدوار نت نئے آئیڈیاز کے ساتھ ایک دوسرے کو مات دینے کے لیے اشتہار ایسے لگاتے کہ مقابلہ صاف دکھائی دیتا۔ایچی سن کالج کی دیوار سے دھرم پورہ نہر کے پل تک یہ سیاسی میلہ 7 مہینے جاری رہا۔ جن لوگوں کے گھر کینال روڈ پر مغل پورہ، غازی آباد اور دیگر سوسائیٹیز جو زمان پارک کے بعد آتی ہیں، میں تھے انھیں بھی اس عرصے میں ایک مختلف تجربے کا سامنا کرنا پڑا۔کیونکہ سیاسی میلے کے وجہ سے اس جگہ سے گزرنا ایک امتحان تھا اور کم از ایک ایک گھنٹہ صرف زمان پارک کے آگے سے گزرنے کے درکار ہوتا تھا۔

پیر 22 مئی کو جب پولیس نے گزشتہ کئی دن کے واقعات کے بعد زمان پارک کی ناکہ بندی ختم کی اور کینال روڈ کو عام ٹریفک کے لئے کھولا تھا تو ایک بڑے لمبے عرصے کے بعد پرانے زمان پارک کی شکل دیکھنے کو ملی۔کارکنوں کے لگائے ٹینٹ اکھاڑ کے عارضی رہائش گاہیں بھی ختم کر دی گئی تھیں۔ ابھی کہیں کہیں بلدیہ کے ملازمین صفائی ستھرائی میں مصروف تھے۔ گذشتہ تین دنوں سے ضلعی انتظامیہ کے لوگ زمان پارک کو بحال کرنے میں مصروف تھے۔

گرین بیلٹ جس کو عارضی خیمہ بستی نے بنجر کر دیا تھا وہاں ایک مرتبہ پھر نئے درخت اور پودے لگائے جا رہے ہیں۔ کارکن مکمل طور پر زمان پارک سے غائب ہو چکے ہیں چند ایک پولیس اہلکار عمران خان کے گھر کے باہر پہرہ دے رہے ہیں۔فضا میں عجیب سی خاموشی ہے جیسے کسی طوفان کے گزرنے کے بعد کی موسم میں ٹھہراؤ آگیا ہو۔ نہ تو پولیس اہلکاروں کے چہروں پر ایسا کوئی تاثر ہے کہ کہیں سے کارکن نہ نکل آئیں نہ پی ایچ اے کے ملازمین کسی فکر میں دکھائی دیتے ہیں۔کیونکہ پچھلے سات مہینوں میں اسی جگہ پر کئی پولیس کی گاڑیاں اور کئی پی ایچ اے کے پانی کے ٹینکر جلائے گئے اور سرکاری عملہ زمان پارک میں ڈیوٹی پر اضطراب کا شکار تھا۔

ایسے بھی کئی واقعات ہوئے کہ سرکاری ملازمین چاہے وہ پولیس کے اہلکار ہوں یا کسی اور ادارے کے انہوں نے زمان پارک ڈیوٹی دینے سے صاف انکار کر دیا۔ جن کی پیشیاں ابھی بھی چل رہی ہیں۔ عمران خان اب بھی اندر موجود ہیں لیکن ان کو ملنے کے لئے آنے والوں کی تعداد اب نہ ہونے کے برابر ہے۔چند وکلا اور پیر کے روز پارٹی رہنما شفقت محمود نے عمران خان سے ملاقات کی۔ گذشتہ کچھ روز سے عمران خان کے ملاقاتی صرف یہی رہے۔پولیس نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے لگائی گئی تمام تجاوزات تقریبا ہٹا دی ہیں۔ تاہم سکیورٹی کے لئے بنائے گئے مورچے اور گھر کے بیرونی طرف بنائی گئی لوہے کی دیوار کو ہٹانے کے بجائے پولیس نے اور مضبوط کر دیا ہے۔جو اس بات کا واضع پیغام ہے کہ عمران خان کی سکیورٹی پر کمپرومائز نہیں کیا گیا اس سے یہ بھی صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اب پولیس زمان پارک کے باہر کارکنوں کو دوبارہ مورچہ زن ہونے کا موقع فراہم نہیں کرے گی۔

عمران خان اب عدالتوں کی پیشیاں بھی اکیلے صرف سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بھگتتے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ماضی میں وہ لاہور اور اسلام آباد کی عدالتوں میں پیشی کے لیے پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ ایک قافلے کی صورت میں جایا کرتے تھے۔ ابھی چند دِن پہلے کی بات ہے کہ عمران خان کے گھر کے چاروں اطراف بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے کارکن ہر وقت موجود رہتے تھے جن کا کھانا پینا وہیں ہوتا تھا۔اِسی طرح کینال روڈ پر مال روڈ انڈر پاس سے لے کر دھرم پورہ انڈر پاس تک یہ تقریبا ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے۔ سٹرک کے ایک جانب پی ٹی آئی کے رہنماوں اور ٹکٹ کے امیدواروں کے باقاعدہ کیمپ لگے ہوئے تھے جہاں باقاعدہ ایک خیمہ بستی آباد تھی۔

ہر امیدوار کے لوگ زمین پر اور چارپائیوں پر اِن خیمہ بستیوں میں رہتے تھے جہاں پر ہر کیمپ میں پارٹی کا رہنما وہاں رہنے والے لوگوں کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کرتا تھا۔ اِسی جگہ پر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اجتماعی طور پر سب کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کیا کرتے تھے جہاں پر کھانا کھلانے کے لیے لوگ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔لاہور سے پی ٹی آئی کے ایک تاجر رہنما زمان پارک میں روزانہ کی بنیاد پر حلوہ پوری اور چنے کے ناشتے کا بندوبست کرتے تھے۔ یہ ناشتہ صبح سات بجے سے نو بجے تک جاری رہتا تھا۔ اِسی طرح کچھ لوگ وہاں باری باری رات کے کھانے کا بندوبست کرتے تھے۔اِس مقصد کے لیے وہاں پر روٹیوں کے لیے عارضی تندور بھی لگائے تھے جس کے بعد کچھ لوگ رات کو چائے کا دور چلاتے تھے۔ پی ٹی آئی کے قصور کے ایک رہنما رات کو وہاں پر قصوری اندرسوں کا بندوبست کیا کرتے تھے۔ اِسی طرح پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا سے رہنما کارکنوں کے لیے دودھ کی سبیل لگاتے تھے یہاں سے کسی کو بھی کھانے پینے کی اجازت تھی۔لیکن آج وہ تمام خیمے خالی ہیں اور خیموں میں پڑا سامان بھی کارکن اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ زمان پارک میں عمران خان کے گھر سے چند گز کے فاصلے پر ایک گول باغیچہ ہے۔ جہاں پی ٹی آئی کے دوسرے صوبوں سے آئے کارکن ایک بڑے خیمے میں رہتے تھے جن کے لیے رفع حاجت اور غسل کے لیے عارضی غسل خانے اور واش رومز بنائے گئے تھے۔ تاہم اب وہ بھی ختم کر دئیے گئے ہیں۔

9 مئی کے بعد کارکنان کا جوش و جذبہ ختم ہو چکا ہے۔صرف یہی نہیں نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد سے پی ٹی آئی کے سابق ارکانِ اسمبلی اور موجودہ ٹکٹ ہولڈر باری باری جماعت کو چھوڑ رہے ہیں اور اپنی نئی منزل کی تلاش میں ہیں۔اِن افراد میں اکثریت اُن لوگوں کی ہے جن کو 2018 کے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی میں شامل کرایا گیا تھا جس کے لیے پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر خان ترین کا جہاز استعمال ہوتا تھا۔

عمران خان کے گھر کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں نے خود سے ایک جگہ کو مرشد چوک کا نام دے رکھا تھا۔ یہ مرشد چوک 9 مئی تک آباد تھا، تاہم 9 مئی کو عسکری املاک میں جلاو گھیراؤ اور سیکیورٹی اداروں کے ایکشن کے بعد مرشد تو وہی ہیں لیکن ‘مریدین’ غائب ہو چکے ہیں۔

Back to top button