اتحادی حکومت نے ڈیڑھ سالہ اقتدار میں کیا کھویا کیا پایا؟

اتحادی جماعتوں نے ایک ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا جب ملک ایک معاشی بحران سے دوچار تھا۔ اپنے دور میں اس حکومت نے کچھ ایسے اقدامات کیے جو ملک کے لیے سودمند ثابت ہوئے جبکہ چند محاذوں پر اسے ناکامی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے 11 اپریل کو پاکستان کے بطور 23ویں وزیر اعظم حلف لیا اور نو اگست کو صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کے ساتھ ہی اتحادی جماعتوں کی حکومت کا اختتام ہو چکا ہے۔اتحادی جماعتوں پر مشتمل حکومت کو معاشی، خارجہ و سیاسی محاذ سمیت کئی چینلجز کا سامنا رہا۔ حکومت میں آنے کے بعد مہنگائی پی ڈی ایم حکومت کے لیے سب سھ بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔
وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کی جب حکومت آئی تو ہر طرف سے یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ ملک کی جو صورتحال ہے یہ جلد ڈیفالٹ کر جائے گا۔ اتحادی حکومت ہونے کے ناطے انہوں نے کچھ فیصلے کیے جس سے ملک ڈیفالٹ سے بچا لیا گیا۔
سنیئیر صحافی اور تجزیہ کارسلمان غنی کے مطابق شہباز شریف کی حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان سے دیوالیہ پن کا خطرہ ٹل گیا۔اگر شہباز حکومت بروقت آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ کرتی تو ملک ڈیفالٹ کرجاتا کیونکہ جب عمران خان کی حکومت عدم اعتماد کے ذریعے گرائی گئی اس وقت عمران خان نے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے توڑ دئیے تھے جس کے بعد ملک میں مہنگائی کا طوفان آنا تھا اور وہ آیا لیکن یہ ایک کامیابی رہی کہ جو ڈیفالٹ کا خطرہ تھا وہ شہباز شریف کی کاوشوں سے ٹل گیا اور آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ معاہدہ ہوگیا۔
اس کے ساتھ ہی شہباز شریف حکومت نے چین سے تعلقات کی بحالی کا عمل شروع کیا اور 15 ماہ میں نہ صرف تعلقات بحال کیے بلکہ سی پیک جس پر کام رک چکا تھا اسے بھی دوبارہ نئی اسپرٹ کے ساتھ شروع کیا گیا۔
سینئیر صحافی سلمان غنی کی نظر میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنا بھی اتحادی حکومت کیلئے ایک چیلنج تھا۔ عمران خان نے سائفر کا الزام لگا کر Absolutely not نعرہ لگایا اور امریکہ کو اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا لیکن شہباز شریف نے اس سارے ماحول کو نارملائز کیا اور امریکا کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق بحال کیے۔
سینئیر صحافی سلمان غنی کے مطابق اس حکومت کی جو چوتھی کامیابی ہے وہ یو اے ای حکومت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہے ایک اتحادی حکومت ہونے کے ناطے انہوں سے اس محاذ پر کافی کام کیا اور یو اے ای نے آئی ایم ایف معاہدہ ہونے میں بھی پاکستان کا کیس لڑا اور معاہدہ کروانے میں گارنٹر بھی بنے یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ تعلقات جو بالکل خراب ہوگئے تھے اس کو دوبارہ بحال کرنا اور یو اے ای حکومت کی طرف سے پاکستان کی مدد کرنا یہ بڑی کامیابی ہے۔
سلمان غنی کی نظر میں اس حکومت کی 5 ویں بڑی کامیابی ملک کی خارجہ پالیسی بہتر بنانا ہے۔ سفارتی سطح پر بلاول بھٹو ہر چھوٹے بڑے ملک میں گئے اور تعلقات دوبارہ اچھے طریقے سے بحال کیے ہیں اور اس کا فائدہ آئندہ آنے والی حکومت ضرور اٹھائے گی۔
دوسری جانب سینیئر صحافی تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف حکومت کی ایک بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ انہوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کیا اور وہ ایک پیج پر آئے ہیں جس سے پالیسی سازی کی راہ میں رکاوٹیں دور ہوئیں۔
مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق اتحادی حکومت کی دوسری بڑی کامیابی انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کا قیام ہے جس کے ذریعے ٹیکنالوجی، انرجی سیکٹر، زراعت، لائیو اسٹاک وغیر میں دوسرے ممالک سے جو لوگ ان سیکٹر میں انوسٹمنٹ کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے آسانی کرنا ہے۔ یہ کونسل بنانا ایک بڑی کامیابی ہے۔تیسری کامیابی اس حکومت کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانا ہے اگرچہ مہنگائی کا طوفان ہے لیکن جو معاشی صورتحال ہوچکی تھی اس کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا شہباز حکومت کی کامیابی ہے، چوتھی کامیابی سیاست میں لچک دکھانا ہے کہ سیاست میں جو پرانے حریف تھے ملک کی خاطر ان کو ملا کر آگے چلنا اور سب کو حکومت میں شامل کرنا اور 15 ماہ میں کسی کا بھی کوئی خاص اختلاف سامنے نہ آنا یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
پی ڈی ایم نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی نااہلی اور ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان کے خلاف بھر پور احتجاج کیا تھا، مہنگائی کے خلاف ملک گیر لانگ مارچ کیے گئے اور عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے لیے آزادی مارچ بھی کیا گیا، اپریل 2022 کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پی ڈی ایم جماعتیں عمران خان کی حکومت کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے، تاہم حکومت ملنے کے بعد مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کی حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ اتحادی حکومت کی ناکامیوں بارے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ حکومت ملک میں جاری مہنگائی کو کنٹرول نہیں کر سکی بلکہ مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا، حکومت کی دوسری ناکامی یہ ہے کہ اپنی مدت کے آخری چند دنوں میں معیشت کو کچھ حد تک تو سنبھال لیا ہے تاہم کسی غریب یا عام آدمی کو ریلیف دینے میں یہ حکومت بری طرح ناکام ہوئی ہے۔مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ حکومت کی ایک اور ناکامی یہ ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ اچھے سیاسی تعلقات قائم نہیں کر سکی ہے۔ دور حکومت میں اپوزیشن کے ساتھ متعدد ہنگامے ہوتے رہے اور اپوزیشن شکایات کرتی رہی تاہم اپوزیشن کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹینشن مزید اضافہ ہوا۔
سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی کے مطابق موجودہ حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ رہی ہے کہ حکومت سنبھالتے ہی معیشت مزید کمزور ہو گئی، مہنگائی کا پہلے سے زیادہ خطرناک طوفان آ گیا۔حکومت کی دوسری ناکامی یہ ہے کہ حکومت کی گورننس بالکل ناکام رہی۔ اس دور میں کسی سرکاری ادارے کو بہتر نہیں کیا گیا۔حکومت کی تیسری بڑی ناکامی یہ ہے کہ جمہوریت کو فروغ دینے اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔انصار عباسی کے مطابق حکومت کی چوتھی ناکامی یہ ہے کہ حکومتی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کو کم نہیں کیا جا سکا بلکہ اب یہ مداخلت بڑھ گئی ہے۔ اس کی بنیادی ذمہ داری تو عمران خان پر عائد ہوتی ہے تاہم اس حکومت کو اس مداخلت کو ختم کرنا چاہیے تھا لیکن اب یہ بڑھ گئی ہے۔
حکومت کی پانچویں ناکامی یہ ہے کہ ملک میں احتساب کے عمل کو شفاف نہیں بنایا جا سکا ہے۔ پہلے کی طرح حکمرانوں نے اپنے کیسز معاف کرا لیے ہیں اور اپوزیشن کے خلاف مقدمات بنا کر انہیں جیلوں میں قید کر دیا ہے
