انتخابات اب آئین کی خلاف ورزی کر کے ہی منعقد ہوں گے؟

حالیہ ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج کے اجرا کے بعد آئیندہ  الیکشن اب آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے بغیر ممکن نہیں نئی مردم شماری کے نتائج آنے کے بعد بھی انتخابات اگر پرانی مردم شماری کے بنیاد پر سیٹیوں کی تقسیم کے مطابق ہی ہوۓ تو یہ   آئین کی خلاف ورزی ہوگی، دوسری جانب قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد نئی مردم شماری کے مطابق طے کرنے کے لیے بھی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے لہذا قومی اسمبلی کی غیر موجودگی میں  آئینی ترمیم کے بغیر  الیکشن کمیشن ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج کے مطابق نئی حلقہ بندیاں کرے گا تو بھی یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی  اس لیے آئین کی خلاف ورزی ہونا تو تقریباً طے ہی ہوگیا ہے، اب کونسی شق کی خلاف ورزی کرنی ہے اور کونسی شق کی خلاف ورزی نہیں کرنی ہے، یہی طے کرنا باقی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ قومی اسمبلی اپنی مدت سے پہلے جا رہی ہے۔ آئین کے مطابق نوے دن میں عام انتخابات ہونے ہیں۔ لیکن آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب نئی مردم شماری کے نتائج منظور ہو جائیں تو پھر انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہوںگے۔ اب آئین کی کس شق پر عمل ہوگا اور آئین کی کس شق پر عمل نہیں ہوگا، یہ بڑا سوال بن گیا ہے۔ کیا نئے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کرانے کی شق نوے دن میں انتخابات کرانے کی شق سے کم اہم ہے؟  اگر مردم شماری کے نتائج منظور ہو جائیں تو پھر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں نئی مردم شماری کے مطابق ہونی چاہیے، ملک میں انتخابی حلقہ بندیاں نئی نشستوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ لیکن قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کو نئی مردم شماری کے مطابق کرنے کے لیے بھی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے . ہمارے آئین کے مطابق سیٹوں کی تعداد میں کمی یا اضافہ آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ نئی مردم شماری کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کا نوٹیفکیشن کر دے، نہ ہی یہ اختیار حکومت کے پاس ہے۔

مزمل سہروردی بتاتے ہیں کہ قومی اسمبلی کی نشستوں میں ردو بدل اور ان کو نئی مردم شماری کے مطابق کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 51 کے سیکشن 3میں ترمیم کرنا ہوگی۔ اس کے بغیر سیٹوں میں ردو بدل ممکن نہیں۔ کس صوبے میں قومی اسمبلی کی کتنی نشستیں ہوںگی، یہ آئین میں لکھا ہے، اس لیے آئین میں ہی ترمیم کرنا ہوگی۔ اسی طرح کس صوبے کی صوبائی اسمبلی میں کتنی سیٹیں ہوں گی، یہ بھی آئین کے آرٹیکل 106میں درج ہے۔ نئی مردم شماری کے نتائج کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں ردو بدل کے لئے  آئین کے آرٹیکل 106میں ترمیم کرنا لازمی ہے۔  ایک طرف تو نئی مردم شماری کے نتائج قومی مفادات کونسل نے متفقہ طو رپر منظور کر لیے ہیں، لیکن اس کے بعد نئی حلقہ بندیوں اور ان نتائج کے مطابق سیٹوں کی تقسیم کے لیے آئینی ترمیم نہیں ہوئی ہے۔ سب کہہ رہے ہیں کہ انتخابات میں تاخیر اس لیے ہوگی کہ نئی حلقہ بندیاں ہونی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر حلقہ بندیاں کیسے ہوں گی؟ یہاں تو آئین کی شقیں آپس میں ٹکرا گئی ہیں . ایک طرف آئین میں لکھا ہے کہ جب نئی مردم شماری کے نتائج آجائیں تو انتخابات نئی مردم شماری کے مطابق ہوںگے دوسری طرف آئین میں ہی رکاوٹ ہے کہ بے شک نئی مردم شماری کے نتائج آبھی جائیں پھر بھی جب تک آئین میں ترمیم نہ ہو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں کسی بھی سیٹ کا ردو بدل ممکن نہیں۔ اب یہاں بھی آئین کی کونسی شق چلے گی؟ کیا نئی مردم شماری کے نتائج آنے کے بعد بھی ہم پرانی مردم شماری کے مطابق سیٹیوں کی تقسیم کے مطابق ہی انتخابات کرائیں گے جو آئین کی خلاف ورزی ہوگی؟ کیا ہم الیکشن کمیشن کو کہیں گے کہ اب جب نئی مردم شماری کے نتائج آگئے ہیں تو پھر وہ نئی مردم شماری کے نتائج کے مطابق حلقہ بندیاں کرے جو کسی بھی آئینی ترمیم کے بغیر آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔

مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ اب ایک منظر نامہ یہ ہے کہ الیکشن نئی مردم شماری کے مطابق ہوں لیکن سیٹوں کی تقسیم پرانی مردم شماری کے مطابق ہی رہے ۔ اس طرح آئین کی دونوں شقوں کی پاسداری ہو جائے گی۔ لیکن نوے دن میں انتخابات کا کیا کریں گے، اس کی خلاف ورزی تو ہونی ہی ہے۔ لیکن یہ سب آئین سے کھیلنا ہے۔ یہ سب آئین کو مرضی کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ کچھ لوگوں کی راۓ ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ چلا جائے گا۔ لیکن کب؟ موجودہ چیف جسٹس کے دور میں جائے گا یا اگلے چیف جسٹس کے دور میں۔ دونوں میں بہت فرق ہے۔ موجودہ چیف جسٹس شاید دلیرانہ فیصلہ نہ کرپائیں جب کہ اگلے چیف جسٹس مضبوط ہوںگے ممکن ہے وہ فوری فل کورٹ بنا دیں  اور سپریم کورٹ کے فل کورٹ سے جو بھی فیصلہ آجائے گا وہ سب کو ماننا پڑے گا۔ قیاس ہے کہ  آئینی تشریح کے معاملے پر  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا رویہ بہت سخت ہوگا۔ وہ انتخابات میں تاخیر کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دیں گے۔  اس لیے عین ممکن ہے کہ سپریم کورٹ ملک میں بروقت انتخابات کا حکم دے دے اور وہ لوگ جو ملک میں انتخابات کی تاخیر کا جو اندازہ لگائے بیٹھے ہیں، ان کے تمام اندازے غلط ثابت ہو جائیں۔

مزمل سہروردی پوچھتے ہیں کہ اگر الیکشن کمیشن نے سیٹوں میں ردو بدل نہیں کرنا تو نئی حلقہ بندیاں کونسی کرنی ہے جس کے لیے تاخیر ہوگی۔ یہ تو ممکن ہے کہ کچھ ووٹرز کو ایک حلقہ سے نکال کر دوسرے حلقہ میں ڈال دیا جائے۔ لیکن کوئی نئے حلقے  نہیں بنانے ہیں۔ یہ کام نئے حلقہ بنانے سے کہیں کم ہے۔ اس لیے اگر نوے دن میں انتخابات ہونے ہیں اور یہ ووٹرز کو ادھر ادھر کرنے کا کام بھی شامل کرلیں تو چار چھ ہفتے مزید لگ سکتے ہیں۔ پھر بھی انتخابات اسی سال ہو جانے چاہیے۔ کہا جارہا ہے کہ  جب پنجاب اور کے پی کے انتخابات میں اتنی تاخیر ہو گئی ہے اور کوئی کچھ نہیں کر سکا۔ تو پھر آگے بھی انتخابات میں تاخیر ہو جائے گی تو کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔ اس لیے بعض تجزیہ کاروں کی  رائے میں دو سال انتخابات نہیں ہوں گے جب کہ کچھ کا خیال ہے کہ الیکشن  مارچ تک بالکل نہیں ہوںگے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ قومی اسمبلی نے پنجاب اور کے پی کے انتخابات کے لیے پیسے دینے سے انکار کیا۔ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس قومی اسمبلی کے اس انکار کے آگے بے بس ہو گئے۔ قومی اسمبلی پر توہین عدالت نہیں لگ سکتی،  اسی طرح اگر پارلیمان  آئین کی خلاف ورزی کرے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک عجیب صورتحال تھی۔ لیکن آگے آئین میں تاخیر کے لیے کوئی پارلیمان موجود نہیں۔ اس لیے کس کو استعمال کیا جائے گا؟ ۔ سپریم کورٹ اس کام کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ اگر  سپریم کورٹ انتخابات میں تاخیر کا کوئی حکم دے دے تو الیکشن  میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسا کوئی حکم ممکن نظر نہیں آرہا۔ اس لیے  انتخابات میں کوئی طویل تاخیر ممکن نظر نہیں آرہی۔ چار چھ ہفتوں پر بات ہو سکتی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ تاخیر نہیں ہو

ملک کے ممتاز صنعت کار اور کالم نگار مرزا اشتیاق بیگ نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں سزا عمران خان کیلئے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے جبکہ 190 ملین پائونڈ کا القادر ٹرسٹ کیس اور فارن فنڈنگ کیس بھی ناقابل تردید ثبوت و شواہد پر مبنی ہیں ان میں عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ عدالت سے 5 سال کی نااہلی اور پارٹی قیادت سے محرومی کے نتیجے میں عمران خان کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ سیاسی میدان کے بجائے عدالتوں کے چکر کاٹتے نظر آئیں گے۔

اپنے ایک کالم میں مرزا اشتیاق بیگ لکھتے ہیں کہ عمران خان پہلے سابق وزیراعظم ہیں جنہیں توشہ خانہ میں بدعنوانی کے الزام میں جیل جانا پڑا۔ توشہ خانہ میں ہونے والی لوٹ مار کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ سابق وزیراعظم کو پونے چار سالہ دور حکومت میں مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے مجموعی طور پر 112 تحائف ملے جن میں شوپارڈ، رولیکس گھڑیاں، سونے اور ہیرے جڑے زیورات، سونے کے قلم، ہیرے سے جڑے کف لنکس، سونے کی کلاشنکوف اور دیگر بیش بہا قیمتی تحائف شامل تھے مگر عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے اِن قیمتی تحائف کو سرکاری توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے اپنے پاس رکھا جبکہ وزیراعظم کی تشکیل کردہ ویلیو ایشن کمیٹی نے کروڑوں روپے کے تحائف کی مالیت کا اندازہ صرف 14.2 کروڑ روپے لگایا جو حقیقی مارکیٹ ویلیو پر مبنی نہ تھا جنہیں عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی 4 کروڑ روپے کی ادائیگی کرکے بنی گالہ لے گئے۔

اشتیاق بیگ بتاتے ہیں کہ اِن تحائف میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دی گئی شوپارڈ گھڑی کا سیٹ جس میں قیمتی پین اور کفلنکس بھی شامل تھااور ان پر خانہ کعبہ کی شبیہ کندا تھی، 2 ملین ڈالر (57.5کروڑ روپے) میں دبئی میں فروخت کیے گئے .  یہ قیمتی سیٹ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی پرائیویٹ چارٹرڈ طیارے میں لے کر دبئی گئیں اور اُسے عمر فاروق نامی شخص کو 2 ملین ڈالر میں فروخت کرکے رقم کیش کی صورت میں پاکستان لائیں۔ کسی بھی ملک کے حکمراں عام طور پر بیرون ملک کے سربراہان مملکت سے ملنے والے تحائف کو اپنے لئے اعزاز تصور کرتے ہیں اور اُنہیں یادگار کے طور پر محفوظ رکھتے ہیں۔ سعودی حکمرانوں کی جانب سے دیئے گئے تحائف خاص طور پر شاہی خاندان کیلئے تیار کئے جاتے ہیں جن پر شاہی خاندان کا مونوگرام کندا ہوتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا عمران خان کو قیمتی تحفہ دینے کا مقصد شاید یہ تھا کہ برادر اسلامی ملک کا وزیراعظم اُسے زیب تن کریگا مگر افسوس کہ شاہی خاندان کے تحفے کی قدر نہ کی گئی اور اُسے کھلے عام مارکیٹ میں فروخت کردیا گیا۔ عمران خان کو دی گئی بیش قیمت گھڑی دبئی میں جب فروخت کیلئے منظر عام پر آئی تو شوپارڈ کمپنی نے شاہی محل سے دریافت کیا کہ کہیں یہ گھڑی چوری تو نہیں کی گئی جس سے نہ صرف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور شاہی خاندان کو دلی صدمہ پہنچا بلکہ یہ پاکستان کیلئے بھی شرمندگی کا سبب بنا۔

مرزا اشتیاق بیگ کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کیس عدالت کیلئے بھی ایک سادہ سا  کیس تھا۔ عمران خان نے نہ صرف توشہ خانہ کے تحائف فروخت کی غرض سے اپنے پاس رکھے بلکہ اُن کی تشکیل کردہ ویلیوایشن کمیٹی نے تحائف کی مالیت کا اندازہ بہت کم لگایا اور پھر اُسے مہنگے داموں فروخت کردیا گیا جو عمران خان کی سزا اور نااہلی کا سبب بنا. توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی حالیہ گرفتاری اور 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتاری میں فرق یہ ہے کہ اِس بار اُن کی گرفتاری پر پارٹی کارکنوں کی جانب سے کوئی مظاہرہ یا ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ آج عمران خان اٹک جیل کے کمرے میں بیٹھے یقیناًیہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب مکافات عمل ہے۔ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے اور کرپشن کے خاتمے کا بیانہ لے کر اقتدار میں آئے تھے اور عوام نے اُن کے جھوٹے بیانئے پر یقین کیا تھا مگر توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیسزنے اُنہیں کرپٹ ثابت کردیا ہے۔ اس طرح عمران خان توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد صاد ق اور امین نہیں رہے۔

Back to top button