حکومت اورجنرل باجوہ کے مابین کیا پھڈا چل رہا ہے؟


نئے آرمی چیف کی تقرری پر شہباز شریف کی اتحادی حکومت اور جنرل قمر باجوہ کے باہمی اختلافات کی افواہیں عروج پر ہیں، لیکن باخبر ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کے نئے فوجی سربراہ کے نام پر سنیارٹی اصول کے تحت اتفاق رائے ہو چکا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ہی جنرل باجوہ کی جگہ لیں گے۔ اسلام آباد میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مسئلہ کچھ اور ہے جس کی وجہ سے معاملات الجھے ہوئے ہیں لیکن وہ بھی سلجھنے جا رہے ہیں۔ لیکن فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ اس نے اپنی من مانی کرنی ہے یا جنرل باجوہ کو راضی کرنا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مرضی کا چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف لگوانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ سنیارٹی کی بنیاد پر جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف لگانے کا فیصلہ کرنے کے بعد حکومت کا یہ خیال تھا کہ وہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بھی اپنی مرضی کا لگائی گئی لیکن اس معاملے پر جنرل باجوہ نے پھڈا ڈال رکھا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ اگر فوجی سربراہ کا انتخاب سنیارٹی کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے تو پھر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی سلیکشن بھی سنیارٹی کی بنیاد پر کی جائے۔ حکومت کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت سنیارٹی لسٹ میں جنرل عاصم منیر کے بعد دوسرے نمبر پر کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کا نام آتا ہے۔ ساحر شمشاد اپنے چکوال کنکشن کی بنیاد پر نہ صرف سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دوست گردانے جاتے ہیں بلکہ وہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کے بھی قریب تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ تمام جرنیل اس وقت فوج کے اس دھڑے کے سرخیل تصور کیے جاتے ہیں جس نے پراجیکٹ عمران خان کھڑا کیا تھا اور اسکے مسمار ہونے کے بعد دوبارہ عمران کو برسراقتدار لانا چاہتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ عمران خان بھی فیض حمید کے آرمی چیف بننے کے امکانات ختم ہونے کے بعد اب سنیارٹی کی بنیاد پر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو نیا فوجی سربراہ بنوانا چاہتے ہیں اور اسی لئے انہوں نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

لہذا پی ڈی ایم حکومت نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے لیے ساحر شمشاد کے نام پر غور کرنے کی بجائے موجودہ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، چیئرمین نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل نعمان اور کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل عامر کے نام شارٹ لسٹ کیے تھے۔ یہ تینوں موجودہ جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں ساحر شمشاد کے بعد تیسرے چوتھے اور پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔ یاد رہے کہ موجودہ حکومت نے اس مہینے ایک نہیں بلکہ دو اہم ترین عہدوں پر تعیناتیاں کرنی ہیں، یعنی اسے آرمی چیف کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا بھی تقرر کرنا ہے کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا بھی اسی مہینے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی جانب سے ساحر شمشاد کو نیا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف لگانے پر اصرار کے بعد اب حکومت کے پاس دو ہی راستے باقی بچے ہیں۔ پہلا یہ کہ جنرل باجوہ کی بات مان لے اور دوسرا یہ کہ اپنی من مانی کرے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ جنرل باجوہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ جب حکومت کو دونوں فوجی عہدوں پر تعیناتی کے لیے جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ بھیجیں تو اس میں عاصم منیر کا نام نہ ڈالیں اور یہ موقف اپنا لیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ 27 نومبر کو ہونی ہے جبکہ نئے آرمی چیف کا انتخاب 29 نومبر کو ہونا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ حکومت پر ساحر شمشاد کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بنانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر حکومت بدل جائے تو پھر یہ اختیار وزیر اعظم کا ہے کہ وہ اپنی مرضی کا آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مقرر کرے۔ وزیر اعظم کو صرف اتنا کرنا ہوگا کہ وہ جنرل عاصم منیر کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نوٹیفکیشن جاری کردیں کہ وہ 29 نومبر کو نئے آرمی چیف کا چارج سنبھالیں گے۔ یہی طریقہ کار وہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کے لیے بھی اپنا سکتے ہیں اور یہ سب عین آئینی طریقہ ہو گا۔ لیکن کچھ اتحادی جماعتیں حکومت کو دھیرج رکھنے اور جنرل قمر باجوہ کا مطالبہ تسلیم کرنے کا مشورہ بھی دے رہی ہیں تاکہ کوئی نئی واردات نہ پڑ جائے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے پر ڈٹ جاتی ہے یا سرنڈر کرتی ہے۔

Back to top button