سرکاری تحفے بیچ کر منافع کمانے والا پہلا وزیر اعظم

الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نا اہل قرار پانے والے عمران خان پہلے پاکستانی وزیر اعظم تھے جنہوں نے توشہ خانہ کے قیمتی تحائف کم قیمت پر خریدنے کے بعد منافع کی خاطر زیادہ قیمت پر بیچ کر دس کروڑ روپوں سے زائد کی کمائی کی۔ انہیں نااہل بھی اسی لیے قرار دیا گیا ہے کہ موصوف نے توشہ خانہ کے تحفے بیچ کر جو کمائی کی تھی اسے اپنے اثاثوں میں دو برس تک ظاہر نہیں کیا۔ لیکن خان صاحب کا یہ سکینڈل تب سامنے آیا جب انہوں نے سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے تحفے میں دی گئی قیمتی گھڑی کو اونے پونے داموں توشہ خانہ سے خریدنے کے بعد کروڑوں کے منافع پر باہر فروخت کر دیا۔
یہ بات جب حکومتی ایوانوں سے باہر نکلی تو طرح طرح کے لطیفے بننا شروع ہو گئے۔عمران کی فراغت اور نئی حکومت بننے کے بعد یہ لطیفہ وائرل ہو گیا کہ جب شہباز شریف بطور وزیر اعظم اپنے وفد کے ہمراہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے گئے تو نہ میزبان نے اور نہ ہی مہمان نے اپنی اپنی گھڑیوں کی جانب دیکھا، انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ ایک دوسرے کو شرمندہ نہ کر دیں۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر بہت مزاحیہ میمز بھی شیئر ہوئیں جن میں دونوں معزز شخصیات کے مابین اس بیش قیمت گھڑی کے مستقبل کے حوالے سے مزاحیہ اور طنزیہ جملے لکھے جسے عمران نے بیچ دیا تھا۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں الزامات ثابت ہونے پر عمران خان کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کے علاوہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس قانونی کارروائی کے نتیجے میں عمران خان کو تین برس قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ توشہ خانہ دراصل ایک ایسا سرکاری محکمہ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے۔یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے قوانین کے مطابق اگر کوئی تحفہ 30 ہزار روپے سے کم مالیت کا ہے تو تحفہ حاصل کرنے والا شخص اسے مفت میں اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ جن تحائف کی قیمت 30 ہزار سے زائد ہوتی ہے، انھیں مقررہ قیمت کا 50 فیصد جمع کروا کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سنہ 2020 سے قبل یہ قیمت 20 فیصد تھی تاہم تحریک انصاف کے دور میں اسے 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا تھا۔ ان تحائف میں عام طور پر مہنگی گھڑیاں، سونے اور ہیرے سے بنے زیوارت، مختلف ڈیکوریشن پیسز، سوینیرز، ہیرے جڑے قلم، کراکری اور قالین وغیرہ شامل ہیں۔حکمرانوں کی جانب سے توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے تحائف حکومت کے بنائے ہوئے قواعد کے تحت ہی فروخت کیے جا سکتے ہیں۔
اگر کوئی سربراہِ مملکت چاہے تو وہ ملنے والے کسی تحفے کو مخصوص رقم ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتا ہے مگر پاکستان اور انڈیا میں ایسے تحائف کی نیلامی بھی کی جاتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والا پیسہ ریاست کے خزانے میں جاتا ہے۔کابینہ ڈویژن کے حکام کے مطابق یہ نیلامی ہر سال ہونا ہوتی ہے لیکن سالانہ بنیادوں پر ایسا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ایک برس کے دوران سربراہان مملکت اور وزرا کے دوروں میں اتنے تحائف نہیں ملتے کہ ہر برس نیلامی کا انعقاد کیا جا سکے۔ سربراہان مملکت اور وزرا کو ملنے والے تحائف اور توشہ خانہ میں ان کے اندراج کے بعد سٹیٹ بینک سے باقاعدہ ان کی مارکیٹ قیمت کا تعین کروایا جاتا ہے اور نیلامی کی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق اگر سربراہان مملکت یا وزرا یہ تحائف نہیں رکھتے تو پھر ان تحائف کی فہرست تیار کر کے انھیں توشہ خانہ قوانین کے مطابق سرکاری ملازمین اور فوج کے افسران کو نیلامی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
نیلامی کی قیمت کا تعین دوبارہ ایف بی آر اور سٹیٹ بینک سے کروایا جاتا ہے اور ان میں سے چند اشیا کی قیمت کو مارکیٹ ویلیو سے کچھ کم رکھا جاتا ہے جبکہ چند ایسے تحائف جو کسی خاص سربراہ ملک کی جانب سے ملے ہو ان کی اہمیت اور اعزازی مالیت کے تحت ان کی قیمت مارکیٹ سے زیادہ رکھی جاتی ہے۔ توشہ خانہ قوانین کے مطابق ان تحائف پر پہلا حق اس کا ہے جس کو یہ تحفہ ملا ہوتا ہے، اگر وہ اسے نہیں لیتے تو پھر سرکاری ملازمین اور فوج کے اہلکاروں کے لیے نیلامی کی جاتی ہے۔ اگر اس نیلامی سے جو اشیا بچ جائیں تو انھیں عام عوام کے لیے نیلامی میں رکھ دیا جاتا ہے۔
جو بھی فوجی یا سرکاری ملازم ان قیمتی اشیا کو خریدتے ہیں انھیں اپنی ذرائع آمدن ڈیکلیئر کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر لاگو ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ تاہم عمران نے یہ حرکت کی کہ پہلے کوئی رقم دیئے بغیر تحائف حاصل کیے اور پھر انہیں بیچنے کے بعد انکی سرکاری قیمت قومی خزانے میں جمع کروائی۔ عمران کو بطور وزیراعظم 58 مختلف مواقع پر 100 سے زائد تحائف ملے جن میں سے بعض تو سرکاری خزانے میں جمع ہی نہیں کروائے گئے، یہ بذات خود ایک جرم ہے اور پھر جو تحائف جمع کروائے گئے انہیں 20 فیصد تک کی قلیل رقم کے عوض خریدا گیا، ایسا کرنا خواہ قانونی جرم نہ ہو مگر حب الوطنی اور ریاست مدینہ کا درس دینے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ سرکاری خزانے کو اس بے دردی سے لوٹیں۔ ویسے بھی اخلاقی طور پر کسی سربراہ مملکت کا دیا ہوا تحفہ فروخت کرنا کوئی باعزت، باوقار یا قابل فخر کام نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ نوبت سرکاری تحفے بیچ کر مال بنانے تک آ گئی؟
