کینیا کے صحافی نے ارشد شریف کی ہلاکت مشکوک قراردے دی


کینیا کے معروف تحقیقاتی صحافی برائن اوبویو نے پولیس کی جانب سے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے قتل کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کینیا کی پولیس کی جانب سے فائرنگ کے جس مقام کی نشاندہی کی گئی ہے اصل میں لاش اس مقام سے 78 کلومیٹر دور سے ملی ہے۔صحافی نے دعویٰ کیا کہ ارشد شریف کے ڈرائیور پر سڑک پر موجود جس ناکے پر نہ رکنے کا الزام لگایا گیا ہے وہ رات کے اندھیرے میں پتھروں سے بند کی گئی تھی جس کو مشکوک جانتے ہوئے ڈرائیور نے گاڑی روکنے کی بجائے تیزی سے بھگا دی۔

صحافی نے بتایا کہ پاکستانی ارشد کے جسم پر کم از کم گولیوں کے دو نشانات پائے گئے ہیں، برائن اوبویو کا کہنا تھا کہ رات کے اندھیرے میں ارشد شریف اور اس کے ساتھی کو نیروبی کی جانب جاتے ہوئے سڑک پتھروں سے بلاک نظر آئی لہٰذا انھوں نے اس پراسرار ماحول میں گاڑی نہ روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب علاقہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھا، ارشد شریف کی گاڑی پر کم و بیش 9 فائر کیے گئے، جن میں سے چار گولیاں کار کی بائیں طرف لگیں، انکا کہنا ہے کہ ارشد شریف کو سر میں لگنے والی جان لیوا گولی زبردست نشانے کے ساتھ چلائی گئی تھی جو گاڑی کے پچھلے شیشے سے داخل ہوتے ہوئے ان کی سیٹ اور سر کو چیرتے ہوئے سامنے والے شیشے سے پار ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنا درست نشانہ تو کوئی سنائپر ہی لگا سکتا ہے۔

دوسری طرف کینیا کی پولیس نے فائرنگ میں ملوث افسران بارے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، صحافی برائن اوبویو نے بتایا کہ پولیس نے تو اس قتل کی وجہ شناختی غلط فہمی کو قرار دے دیا ہے، لیکن بھاگنے والے کے لیے اتفاقیہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ارشد شریف پاکستان میں کرپشن کی منظم کہانی ’’کرپشن بیہائنڈ کلوزڈ ڈورز‘‘ ریلیز کرنے والے تھے، اور اپنے ملک کے کچھ اعلیٰ عہدیداروں کو انتہائی مطلوب تھے۔

ارشد شریف کی کینیا میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کے علاوہ ملک کی اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے جہاں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے وہیں اس واقعے کی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ ارشد شریف اتوار کی شب کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں مارے گئے تھے۔ ارشد نے رواں سال اپریل میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھیں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔ بعدازاں وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق خود ساختہ جلا وطنی کے دوران وہ دبئی اور لندن میں مقیم رہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ارشد شریف کینیا میں کیا کر رہے تھے۔

ارشد شریف کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ سوالات بھی کیے جا رہے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اگر نیروبی پولیس انکا پیچھا کر رہی تھی تو گولی انکے سر میں ہی کیوں ماری گئی؟ اگر گاڑی رکی نہیں تو پولیس نے اسکے ٹائروں کو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟ سوال یہ بھی ہے کہ ارشد شریف کی لاش فائرنگ کے مقام سے 78 میل دور کیوں برآمد ہوئی؟ کینیا کی پولیس نے ابھی تک کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج ریلیز کیوں نہیں کی؟ سوال یہ بھی ہے کہ کار کے ڈرائیور کو گولی مارنے کی بجائے ساتھ بیٹھے ارشد شریف کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ آخری سوال یہ ہے کہ اگر پولیس موقف کے مطابق ان کو یہ شک تھا کہ کار میں ایک اغوا ہونے والا بچہ بھی موجود ہے تو پھر اس پر اندھا دھند گولیاں کیوں برسائی گئیں۔

Back to top button