آئندہ انتخابات میں عمران خان کا مائنس ہونا یقینی کیوں؟

سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد یہ بحث اب بھی جاری ہے کہ کیا وہ آٹھ فروری کو الیکشن لڑ سکیں گے یا نہیں؟ عمران کے الیکشن لڑنے کی اہلیت پر تو اسی وقت سوال اٹھنا شروع ہو گئے تھے جب یہ خبر سامنے آئی تھی کہ وہ میانوالی، لاہور اور اسلام آباد سے انتخابات لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔لاہور سے مسترد کیے گئے امیدواروں کی فہرست جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی اس لیے مسترد کیے گئے کیونکہ وہ حلقے کے رجسٹرڈ ووٹر نہیں اور عدالت کی طرف سے سزا یافتہ ہیں اسی لیے انھیں نااہل قرار دیا گیا۔
ان تمام پیچیدگیوں کے درمیان یہ سوال اب بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا عمران خان آٹھ فروری کو انتخابات لڑنے کے اہل ہوں گے یا نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو آج کل پاکستان کی سیاست میں دلچسپی رکھنے والا ہر شخص ہی پوچھ رہا ہے۔ موجودہ صورتحال اور عمران خان کی توشہ خانہ مقدمے میں سزا سے قانونی طور پر یہی رائے پائی جاتی ہے کہ وہ آٹھ فروری کو الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ اگر سپریم کورٹ ان کی سزا ختم کر دے، تب بھی قانونی ماہرین کے مطابق کئی سقم موجود ہیں۔
سینیئر قانون دان شاہ خاور کے مطابق عمران خان کے کاغذات نامزدگی آرٹیکل ترسٹھ کے تحت مسترد ہوئے ہیں، جس کے مطابق ’اخلاقی بدنیتی کے کسی بھی مقدمے میں اگر کسی شخص پر جرم ثابت ہونے کے بعد اسے تین سال تک کی سزا ہو گئی ہو تو وہ آئندہ پانچ سال تک الیکشن لڑنے کا اہل نہیں۔‘وہ مزید کہتے ہیں کہ عمران خان کے کیس میں الیکشن ایکٹ 2018 کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں کرپٹ پریکٹسز یعنی بدعنوانی کی سزا متعیّن ہے۔’ان میں سے ایک یہ ہے کہ صوبائی یا قومی اسمبلی کا رکن اپنی مدّت کے دوران اگر الیکشن کمیشن کے سامنے ہر سال اثاثہ جات کی تفصیل جمع نہیں کراتا، خفیہ رکھتا ہے یا غلط بیانی کرتا ہے تو یہ الیکشن کمیشن کے ایکٹ کی بھی خلاف ورزی تھی اور اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دیا تھا۔‘
شاہ خاور کے مطابق آج بانی تحریک انصاف عمران خان کے پاس صرف ایک آپشن ہے ’اور وہ یہ کہ توشہ خان کیس میں ان کی سزا ختم ہو جائے تو پانچ سال کی پابندی بھی ختم ہو جائے گی۔‘وہ کہتے ہیں کہ عمران خان نے ’سزا معطلی کی اپیل کی تھی جسے سماعت کے لیے منظور کر لیا گیا لیکن ابھی سزا ختم نہیں ہوئی کیونکہ ان پر جرم ثابت ہوا۔ ہائیکورٹ نے اسی لیے انکار کیا اور امکان یہی ہے کہ سپریم کورٹ بھی یہی کہے گی کیونکہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو سزا کو ختم کرے۔‘کیا سزا کے خاتمے کے بعد عمران خان آٹھ فروری کو الیکشن لڑ سکیں گے؟
اس کا جواب بھی بیشتر قانونی ماہرین کی رائےمنفی ہی ہے۔ اس کی وجہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی کی تاریخ ہے۔ شاہ خاور یہاں سابق رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا کے کیس کی مثال دیتے ہیں۔شاہ خاور کہتے ہیں کہ ’فیصل واوڈا کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کاغذات نامزدگی کی فائلنگ کے موقع پر آپ اہل نہیں تھے۔ کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور جانچ پڑتال کے دن تک عمران خان پر جرم ثابت تھا، جس کے بعد وہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں۔ اگر چار دن کا وقت گزر گیا اور کوئی امیدوار پانچویں دن کوالیفائی ہو بھی جاتا ہے تو اب وہ ریس سے باہر ہو گیا ہے۔‘
سابق سیکرٹری کنور دلشاد کے مطابق بھی عمران خان کے پاس کوئی آپشن نہیں۔ ’سزا معطلی میں انھیں ضمانت حاصل ہو سکتی ہے مگر جو جرم کیا وہ تو قائم ہے۔ اب وہ ایپلٹ ٹربیونل چلے جائیں یا سپریم کورٹ، اصل بات تو سزا خاتمے کی ہے۔‘ عمران خان کی سزا کے خاتمے کی درخواست پر فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے تاہم تاحال ان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کا آغاز نہیں ہوا۔ اسی دوران الیکشن کمیشن پندرہ جنوری تک انتخابی نشانات الاٹ کر دے گا۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمران خان کی آٹھ فروری سے پہلے سزا ختم ہو جائے اور انھیں بے قصور قرار دے دیا جائے تو ان کے کاغذات نامزدگی تسلیم سمجھے جائیں گے اور وہ اس دن الیکشن لڑ سکیں گے؟ اس سوال کا جواب بھی بظاہر نہیں ہے تاہم یہ سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے پر بھی منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ دیتی ہے۔
دوسری جانب شاہ خاور اپنی دلیل پر قائم ہیں کہ چاہے سپریم کورٹ انھیں یکم فروری کو ہی باعزت بری کر دے ’تب بھی عمران خان یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے دسمبر میں جمع ہونے والے کاغذات نامزدگی کی بنیاد پر وہ یہ الیکشن لڑیں گے۔ اس لیے ایسا لگتا ہے کہ عمران خان آٹھ فروری کے انتخابات کی ٹرین اب مِس کر چکے ہیں‘ لیکن اس میں کوئی ابہام نہیں کہ عمران خان سزا کے خاتمے کی صورت میں ضمنی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔
