کیا تحریک انصاف الیکشن میں عورت کارڈ کھیلنے والی ہے؟

پاکستان میں عام انتخابات آئندہ ماہ آٹھ فروری کو شیڈول ہیں جس کے لیے جہاں ایک طرف سیاسی جماعتوں نے تیاریاں شروع کر رکھی ہیں، وہیں دوسری طرف تحریک انصاف کی طرف سے الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ عام انتخابات میں اپنی شکست فاش کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کی طرف سے ایک طرف ریاستی اداروں اور خفیہ ایجنسی کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے وہیں یوتھیے رہنماؤں کی جانب سے اپنے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے الزامات بھی تواتر سے سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری طرف عمرانڈوز نے اپنے گھر کی خواتین کو بھی سیاست میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے کبھی پولیس پر گھریلو خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو کبھی خواتین کو ہراساں کرنے کا واویلا کیا جارہا ہے۔ سیالکوٹ سے پی ٹی آئی کے سابق رہنما عثمان ڈار کی والدہ نے پولیس پر اُن کے گھر میں داخل ہو کر ایک بار پھر توڑ پھوڑ کرنے اور ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ جبکہ مظفر گڑھ سے پی ٹی آئی کے اُمیدوار جمشید دستی نے تو حد ہی پارٹی کر دی ہے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں سابق رکن اسمبلی نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اور ریاستی اداروں کی جانب سے نہ صرف اُن کے اہلِ خانہ کو ہراساں کیا گیا ہے بلکہ اہلیہ کو پولیس والوں نے برہنہ کیا ہے۔ تاہم پولیس ذمہ داران ان واقعات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انھیں جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ عام انتخابات کے نزدیک آنے کے ساتھ تحریک انصاف کی جانب سے خواتین بارے الزام تراشیوں میں شدت آنے والی ہے کیونکہ لگتا یہی ہے کہ پی ٹی آئی نے ہمدردی کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے عورت کارڈ یا وکٹم کارڈ کھیلنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کرنے والی سٹریٹجی پی ٹی آئی شروع سے بناتی رہی ہے اور اب اس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے اور لگتا ہے کہ پی ٹی آئی الیکشن کے بعد کی حکمت عملی کے لیے سٹیج تیار کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں جمشید دستی سے بھی زیادہ دردناک واقعات رپورٹ ہوں گے۔
ایسے میں پاکستان میں یہ معاملہ موضوعِ بحث ہے کہ گزشتہ انتخابات میں میدان مارنے والی پی ٹی آئی کیا انتخابی دنگل میں شامل ہو سکے گی؟مبصرین کے مطابق اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، صدر چوہدری پرویز الہٰی سمیت متعدد رہنما پابند سلاسل ہیں۔پارٹی کے کئی رہنما نو مئی کے واقعات کے بعد سے ہی روپوش ہیں۔
سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں اپنا اپنا پورا زور لگا رہی ہیں کہ وہ اپنے بہترین امیدوار میدان میں اتاریں تاکہ جیت کو یقینی بنایا جا سکے۔تجزیہ کار اور کالم نویس سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایک سیاسی جماعت کے کاغذاتِ نامزدگی بڑے پیمانے پر مسترد ہوئے ہیں یہ کوئی مناسب بات نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کا کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی طرف جھکاؤ ہوتا ہے لیکن وہ عام طور پر خفیہ ہوتا ہے۔ لیکن گزشتہ انتخابات کی نسبت ان انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔سہیل وڑائچ مزید کہتے ہیں کہ جب تک سیاسی جماعتوں کی پوزیشن واضح نہیں ہوتی کہ کون کہاں کھڑا ہے اور کس کو کتنی لیول پلیئنگ فیلڈ مل رہی ہے، اس وقت تک انتخابات کے بارے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کار اور کالم نویس افتخار احمد سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی جن اُمیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوئے ہیں اُن کے پاس اپیلیں دائر کرنے کا موقع ہے۔ افتخار احمد کہتے ہیں کہ صوبہ سندھ میں گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس جی ڈی اےکے بیشتر امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہو گئے ہیں جبکہ زیادہ توجہ پنجاب میں مسترد ہونے والے کاغذاتِ نامزدگی پر دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان بھر سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر 25 ہزار 951 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ان میں سے تین ہزار 240 امیدواروں کے کاغذات منظور نہیں کیے گئے جبکہ 22 ہزار 711 امیدواروں کے کاغذات منظور کیے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق قومی اسمبلی کے ایک ہزار 24 اور صوبائی اسمبلیوں کے 2 ہزار 216 امیدواروں کے کاغذات منظور نہیں کیے گئے۔ای سی پی کے مطابق پنجاب سے قومی اسمبلی کے 521، اسلام آباد کے 93، سندھ کے 166 امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے، خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر 152، بلوچستان سے 92 سیٹوں پر امیدواروں کے کاغذات مسترد کیے گئے ہیں۔اِسی طرح صوبائی اسمبلی پنجاب سے 943، سندھ اسمبلی سے 520، صوبائی اسمبلی بلوچستان سے 386 اور خیبرپختونخوا اسمبلی سے 367 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی منظور نہیں کیے گئے۔
