PTI امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جان بوجھ کر مسترد کروائے

آٹھ فروری کے الیکشن کے لئے سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت تحریک انصاف کے درجنوں رہنمائوں اور کارکنوں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے ہیں عمران خان کے حوالے سی تو یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ لاہور کے ایک حلقے سے ان کے تجویز اورتائید کنندہ افراد متعلقہ حلقے کے بطور ووٹر رجسٹر ہی نہیں ہوئے ہوں گے . ایسی ہی کچھ فاش اور کچھ باریک غلطیاں پی ٹی آئی کے دیگر امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال میں بھی سامنے آئیں اور انہیں الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا . جس کے بعد یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا یہ غلطیاں امیدواروں کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہیں یا ایسا دانستہ طور پر کیا گیا ہے؟ سینئر صحافی نصرت جاوید اپنی ایک تحریر میں کہتے ہیں کہ 8فروری 2024ء کے انتخاب میں حصہ لینے کے خواہش مند تحریک انصاف کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی تھوک کے حساب سے مسترد کردئیے گئے ہیں۔ آئندہ دس دنوں تک مسترد شدہ کاغذات والے عدالتوں سے انصاف کی دہائی مچائیں گے تاہم یہ خدشہ لاحق ہے کہ انصاف کے خواہاں افرا د کی کثیر تعداد انتخابی ریس سے باہر رکھی جائے گی۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ چند افراد نے کاغذات نامزدگی کے عمل کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔یہ طے ہونا بھی باقی ہے کہ جو غلطیاں کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی بنیاد ہیں وہ دانستہ تھیں یا غیر ارادی۔ یہ سوال عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد سامنے آیا ہے . انتخابی سیاست میں عمران خان نو وارد نہیں۔1996ء سے اس عمل میں حصہ لینا شروع ہوگئے تھے۔ بالآخر 2002ء میں قومی اسمبلی کے لئے منتخب بھی ہوگئے تھے۔ 2008ء کے انتخاب کا انہوں نے افتخارچودھری کی محبت میں بائیکاٹ کیا۔2013ء اور 2018ء میں تاہم وہ انتخابی عمل میں متاثر کن حد تک متحرک رہے۔ انتخابی عمل کی حرکیات سے کلی طورپر آگاہ اور پاکستان کے وزیر اعظم رہے تحریک انصاف کے بانی سے ہرگز توقع نہیں تھی کہ لاہور کے ایک حلقے سے ان کے تجویز اورتائید کنندہ افراد متعلقہ حلقے کے بطور ووٹر رجسٹر ہی نہیں ہوئے ہوں گے۔ تحریک انصاف کے بانی کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے والوں کو جبلی طورپر یہ خوف لاحق ہونا چاہیے تھا کہ ان کے قائد کی جانب سے جمع شدہ کاغذات کو محدب عدسے کے نیچے رکھ کر بارہا جانچا جائے گا۔ ذرا سی غلطی بھی برداشت نہیں ہوگی۔ تجویز وتائید کنندہ افراد تو کلیدی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ان کے حوالے سے اتنی فاش کوتاہی کیوں برتی گئی۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ کلیدی کوتاہی کا ارتکاب سازشی ذہنوں کو یہ سوچنے کو اکساسکتا ہے کہ جو کوتاہی سرزد ہوئی وہ دانستہ تھی۔سوال مگر یہ بھی اٹھتا ہے کہ وہ کون لوگ تھے جو بانی تحریک انصاف کے کاغذات نامزدگی تیار کر نے کے ذمہ دار تھے۔بظاہر نامور وکلاء کا ایک بڑا اور طاقت ور گروہ ہمہ وقت تحریک انصاف کی مشاورت کو خدائی خدمت گاروں کی طرح میسر ہے۔ان دنوں اس جماعت کے چیئرمین بھی ایک بیرسٹر ہیں۔وہ اپنی نگرانی میں وکلاء کی ایک ٹیم تیارکرسکتے تھے جو ایک نہیں مختلف نگاہوں سے بانی تحریک انصاف کے کاغذات نامزدگی کا جائزہ لیتی۔ اس جانب مگر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ ضرورت سے زیادہ اعتماد پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ فرض کرلیا گیا کہ عمران خان جیسے قد آور رہ نما کے کاغذات نامزدگی کا باریک بینی سے جائزہ لینے سے ریٹرننگ افسر اجتناب برتے گا۔ ان پر سرسری نگاہ ڈالتے ہی منظوری کے دستخط کردے گا۔جو بے نیازی برتی گئی وہ ضرورت سے زیادہ اعتماد کے علاوہ اس امر کا عندیہ بھی دے رہی ہے کہ تحریک انصاف کے قائد سمیت اس جماعت کے حامیوں اور سرکردہ رہ نماوں کی اکثریت یہ سمجھ ہی نہیں پائی ہے کہ ریاست کے سب سے زیادہ طاقت ور ادارے کا رویہ ان کے خلاف 9مئی 2023ء کے بعد سے کس حد تک معاندانہ ہوچکا ہے۔سوشل میڈیا پر نظر آتی تحریک انصاف کی بے پناہ مقبولیت اور راہ چلتے افراد سے سرسری گفتگو کے ذریعے ہوئے ’’سروے‘‘ اس جماعت سے وابستہ افراد کو قائل کرچکے تھے کہ 8فروری 2024ء کے انتخاب تقریباََ یک طرفہ ہوں گے۔تحریک انصاف ان کے ذریعے سادہ نہیں بلکہ دو تہائی اکثریت سے آئندہ حکومت بناسکتی ہے۔ نصرت جاوید کے مطابق عمران خان کی ذاتی مقبولیت سے مغلوب ہوئے اذہان ابھی تک یہ سمجھ نہیں پائے کہ ہمارے ہاں وزیر اعظم کا انتخاب امریکی صدر کی طرح ون آن ون مقابلے کی صورت نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم کا ’’انتخابی حلقہ‘‘ قومی اسمبلی ہوتا ہے۔وہاں پہنچے اراکین کی اکثریت اسے منتخب کرتی ہے۔اس حقیقت کا سنجیدگی سے احساس ہی تحریک انصاف کو مجبور کرتا کہ وہ کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے انتخابی عمل کے منجھے ہوئے کھلاڑیوں کی فراست سے رجوع کرتے۔ کائیاں اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا ذکر چھیڑتے ہی ذہن میں راولپنڈی کی لال حویلی سے اٹھے بقراط عصر کا چہرہ بھی نمودار ہوتا ہے ۔شیخ رشید احمد 1985ء سے قومی اسمبلی کے ہر انتخاب میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد ہوگئے۔ وجہ مری کے ایک ریسٹ ہائوس کے واجبات بتائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ زمین کے’’ایک ٹکڑے‘‘ کا ذکر بھی ہے جسے موصوف اپنے مبینہ اثاثوں میں شمار نہیں کرپائے۔
