آئی ایم ایف کا پھر پاکستان سے ڈومورکا مطالبہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے اسٹاف لیول معاہدہ کرنے کیلئے پاکستان سے پارلیمنٹ سے بجٹ کی منظوری سے قبل 2023-24 کے بجٹ کے فریم ورک پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا ہے اور واضح کیا ہے کہ بجٹ میں تبدیلی کے بغیر آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کا معاہدہ نہیں ہو سکتا۔
خیال رہے کہ پاکستان، آئی ایم ایف سے بجٹ فریم ورک سے متعلق معاہدے کیلئے کوششیں کررہا ہے اور اگر یہ فریم ورک طے پاگیا تو اس کے نتیجے میں سالانہ بجٹ کی منظوری کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جس میں نظر ثانی کرتے ہوئے ایف بی آر کے ٹیکس اہداف کو بڑھانا اور خزانے کے اخراجات کو کم کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے۔
واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان ہونے والے وڈیو اجلاس میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات سے آگاہ ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ پاکستانی فریق نے آئی ایم ایف کے ساتھ آئندہ مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ کے تخمینے شیئر کئے ہیں لیکن ابھی تک وسیع تر معاہدہ ہونا باقی ہے۔ اسی لیے وزیر خزانہ کی اختتامی تقریر میں تاخیر ہوئی جیسا کہ پہلے یہ جمعہ کو ہونا تھی، اب یہ آج یا پیر کو کی جا سکتی ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے مزید بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی شب منعقدہ ورچوئل مذاکرات کے آخری دو راؤنڈ میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان گھنٹوں طویل مذاکرات ہوئے جس میں اسلام آباد نے آئی ایم ایف کے سامنے نظرثانی شدہ بجٹ کا فریم ورک پیش کیا لیکن ابھی تک وسیع تر معاہدہ حاصل نہیں ہوسکا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف کے ایم ڈی سے پیرس میں ملاقات کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ورچوئل مذکرات کے دو ادوار ہوئے ہیں تاکہ اسٹاف لیول معاہدے کیلئے آخری کوشش کی جاسکے۔ رابطہ کرنے پر ایک عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید مصروفیات جاری ہیں لہٰذا کچھ مثبت نتائج کی امید ہے لیکن ابھی تک کسی نتیجے پر پہنچنا کہ آیا معاہدہ ہو گا یا نہیں، کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان گھنٹوں پر مبنی ورچوئل مذاکرات کے مثبت نتائج آسکتے ہیں اور فریقین اسٹاف لیول معاہدے کیلئے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ کی سہولت کے جاری 6.7 ارب ڈالر کا جاری پروگرام 30 جون 2023 کو مکمل ہونا ہے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے بجٹ کے حوالے سے تین بڑے مسائل کو اجاگر کیا تھا جن میں بجٹ فریم ورک میں ٹیکس بڑھانے میں ناکامی، ٹیکس اخراجات کو ختم کرنا، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم، بیرون ملک سے معاشی خلا کو پورا کرنا اور تھرڈ مارکیٹ پر مبنی ایکسچینج ریٹ مقرر کرنا شامل ہے۔
دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے درآمدات یعنی امپورٹس پر عائد تمام پابندیاں ختم کردی ہیں۔اسٹیٹ بینک نے امپورٹ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا سرکلر جاری کرتے ہوئے بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے6ہزار سے زائد کنٹینرز ریلیز کرنے کیلئے بینکوں کو زرمبادلہ کی فراہمی کی اجازت دے دی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باوجود گزشتہ برس دسمبر میں عائد کردہ درآمدی پابندیوں میں نرمی کردی۔ اس سے قبل بینکوں کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر اور بڑے تجارتی خسارے کے پیشِ نظر مختلف کیٹیگریز کے تحت بعض مخصوص قسم کی درآمدات کو ترجیح حاصل تھی۔تاہم بڑے پیمانے پر درآمدات کی اجازت کا یہ تازہ ترین فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب ملک دیوالیہ پن جیسی صورتحال سے بچنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔اسٹیٹ بینک کے سرکلر میں کہا گیا کہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کو دیکھتے ہوئے 27 دسمبر 2022 کو جاری کی گئی مذکورہ بالا ہدایات فوری طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایک اعلیٰ عہدے پر فائز سرکاری عہدیدار نے کہا کہ پاکستان ان اشیا کی درآمد کی اجازت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے، رواں مالی سال کے ابتدائی 11 میں یہ پہلے ہی 49 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، بظاہر یہ فیصلہ بھی آئی ایم ایف کے دباؤ پر کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق درآمد کنندگان گرے مارکیٹوں سے ڈالر کا بندوبست کرتے رہیں گے کیونکہ بینکوں کے پاس ڈالر موجود نہیں ہے۔قبل ازیں اسٹیٹ بینک نے درآمد کنندگان کو اپنے طور پر ڈالر کا بندوبست کرنے کی اجازت دی تھی جس کے نتیجے میں گرے مارکیٹ سے مہنگے ڈالر خریدنے کی وجہ سے درآمدات کی لاگت بڑھ گئی تھی لیکن اس سے بہت سے لوگوں کو اپنا کاروبار جاری رکھنے میں مدد ملی۔
واضح رہے کہ تجارتی قرضوں کے طور پر موصول ہونے والی 30 کروڑ ڈالر کی آمد کے بعد اسٹیٹ بینک کے کُل زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب 80 کروڑ ڈالر ہوچکے ہیں جو 3 ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی نہیں ہیں۔
