آئی جی کے اغوا اور کیپٹن صفدر کی گرفتاری میں ISI ملوث نکلی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے آئی جی سندھ کے اغوا اور پھر کیپٹن صفدر کی حیران کن انداز میں گرفتاری کی تحقیقات کور کماندر کراچی کے ذریعے کروانے کے اعلان کو ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کیس میں الزام براہ راست آئی ایس آئی پر لگایا گیا ہے۔
باخبر عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے لیے آرمی چیف نے آئی ایس آئی کو ذمہ داری دینے کی بجائے کورکمانڈر کراچی کو اس لیے چنا ہے کہ آئی جی سندھ اور کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے واقعات میں آئی ایس آئی کراچی کے سیکٹر کمانڈر اور ڈی جی رینجرز کے نام آرہے ہیں لہذا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری تھا کہ تحقیقات کسی غیر جانبدارشخص کے ذریعے کروائی جائیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس سارے معاملے میں مرکزی کردار آئی ایس آئی کراچی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر حبیب کا ہے جن کی جانب سے آئی جی مشتاق مہر پر 18 اکتوبر کی شام سے ہی کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ تاہم جب آئی جی نے پنجاب سے آئے ہوئے مہمان کو سندھ میں بھونڈے طریقے سے گرفتار کرنے سے معذوری کا اظہار کیا تو پھر 18 اور 19 اکتوبر کی رات کے پچھلے پہر 3 بجے کے قریب مشتاق مہر کی سرکاری رہائش گاہ پر رینجرز کا ایک خصوصی دستہ بھجوایا گیا جس نے آئی جی کو اپنی تحویل میں لے کر زبردستی سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کے کراچی دفتر پہنچا دیا جہاں ایڈیشنل آئی جی سندھ بھی پہلے ہی پہنچائے جا چکے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر حبیب نے آئی جی مشتاق مہر کو کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے احکامات جاری کرنے پر مجبور کیا کیا حالانکہ ان کا اصرار تھا کہ رات کے اس پہر ایسی کارروائی کا کوئی جواز نہیں کیونکہ مزار قائد کی بے حرمتی کا جرم قابل ضمانت ہے لیکن جواب میں انکو بتایا گیا کہ ایف آئی آر میں ایک شخص کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی دفعات بھی موجود ہیں جو کہ ناقابل ضمانت جرم ہے لہٰذا ان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ اس دوران آئی جی کے ساتھ بدزبانی بھی کی گئی اور ان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں جس کے بعد کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا معاملہ ایک انٹیلی جنس آپریشن تھا جس کا بنیادی مقصد پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی مرکزی قیادت کے مابین خلیج پیدا کرنا تھا۔ اس سارے معاملے میں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری کا کردار بھی نمایاں ہے جنہوں نے پہلے آئی جی سندھ مشتاق مہر کو اپنے ایک خصوصی دستے کے ذریعہ تحویل میں لیا اور پھر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے لیے کراچی کے فائیو سٹار ہوٹل کا گھیراؤ بھی کروایا۔ بعد ازاں گرفتاری کے لیے پولیس ٹیم کو بھی رینجرز کے دستے کی نگرانی میں ہوٹل بھجوایا گیا اور اس حوالے سے تمام احکامات ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے جاری کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید دونوں سے کیا تھا۔ لیکن آرمی چیف نے تحقیقات کی ذمہ داری کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز کو اس لیے سونپی کہ بنیادی طور پر آئی جی سندھ کو اغوا کرنے اور کیپٹن صفدر کو گرفتار کروانے کا الزام آئی ایس آئی کراچی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر حبیب پر لگایا جا رہا ہے۔ لہذا آرمی چیف کا یہ موقف تھا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ایک غیر جانبدار شخص کو تحقیقات کی ذمہ داری دی جائے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات کی ذمہ داری کورکمانڈر کو اس لیے دی گئی کہ معاملہ نہایت سنگین ہے اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے تمام تر کارروائی اپنے باس کی مرضی سے کی۔
پیپلزپارٹی کے حلقے یہ الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ آئی جی سندھ کے اغوا اور کیپٹن صفدر کی گرفتاری میں وزیراعظم عمران خان کا مرکزی کردار ہے اور باقی سب لوگ صرف استعمال ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا بنیادی مقصد اپوزیشن اتحاد میں دراڑیں ڈالنا تھا اور ایسا کرتے ہوئے عمران خان نے اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنایا جو انہوں نے چند روز پہلے ایک تقریر میں منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپوزیشن کو دی تھی۔ با خبر ذرائع اس امکان کو رد نہیں کرتے کہ آئی ایس آئی کے ذریعے کراچی میں جو کچھ کیا گیا وہ ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے عمران خان کے کہنے پر کیا ہو۔ یاد رہے کہ عمران خان فیض حمید کے پاس تو ہیں ہی لیکن اب کچھ عرصے سے دونوں کے قریبی تعلقات بھی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی چیف اب آرمی چیف سے بھی زیادہ وزیراعظم کے قریب ہیں۔ اسی لئے کراچی معاملے کی انکوائری آرمی چیف نے ایک لیفٹیننٹ جنرل رینک کے افسر یعنی کور کمانڈر کراچی ہمایوں عزیز کے ذمہ لگائی ہے کیوں کہ آئی ایس آئی چیف بھی ایک لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔
ذرائع کا کہنا یے آرمی چیف نے بلاول بھٹو کے مطالبے پر فوری تحقیقات کا اعلان اس لئے بھی کیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے حالیہ دنوں میں اپنے جلسوں کے دوران فوج کی سیاست میں مداخلت اور حکومت کے ساتھ ایک پارٹی بن کر چلنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے تو دو قدم آگے بڑھتے ہوئے براہ راست جنرل قمر باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے نام بھی لے لیے تھے اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی تمام تر خرابیوں اور عوام کے مسائل کی بنیادی وجہ یہی لوگ ہیں۔ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے واقعے کے بعد نوازشریف نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ ان کا ملک میں ریاست سے بالاتر ریاست چلنے کا موقف درست ثابت ہو گیا ہے۔ دوسری طرف بلاول نے اس واقعہ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ایجنسیز نے ریڈ لائن عبور کی اور ثابت کیا کہ ریاست کے اندر، اوپر اور نیچے بھی ریاست چل رہی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے۔ لیکن بلاول کی جانب سے سب سے سنگین بات یہ کی گئی کہ سندھ میں الگ قانون چل رہا ہے اور پنجاب میں الگ۔
لہذا ارمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسکی تحقیقات کا اعلان کیا۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے کراچی معاملے کا نوٹس لے کر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے اس حالیہ اعلان کے حوالے سے پر عزم ہیں کہ فوج یا اس سے متعلقہ کسی بھی ایجنسی کو سیاسی معاملات میں ملوث ہوکر اس قومی ادارے کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور یہ کہ ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
