تاریخ میں پہلی مرتبہ پولیس کی ISI اور رینجرز کے خلاف بغاوت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے آئی جی سندھ کو یرغمال بنا کر ان سے زبردستی کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے احکامات جاری کروانے کے واقعے کی تحقیقات کا ایک بنیادی مقصد فوج کے ادارے کی ساکھ کو خراب ہونے سے بچانا بھی ہے کیونکہ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی صوبے کی پولیس نے آئی ایس آئی اور رینجرز کی جانب سے ریڈ لائن کراس کرنے پر اتنی کھلی بغاوت کی ہو۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے اس واقعے کے بعد نہ صرف بلاول بھٹو سے فون پر بات کی بلکہ آئی جی سندھ مشتاق مہر سے بھی بھی تفصیلی گفتگو کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور زیادتی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ آرمی چیف کی اس یقین دہانی کے بعد آئی جی سندھ نے نہ صرف خود دو ماہ کی چھٹی پر جانے کے فیصلے پر نظر ثانی کی بلکہ اپنے ساتھی پولیس افسران کو بھی فی الحال کام جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ کے اغوا اور کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے واقعات نے فوج کے ادارے کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دئیے تھے اور بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس کے بعد آرمی چیف نے مناسب یہی سمجھا کہ ادارے کی ساکھ بچانے کے لیے وہ فوری طور پر تحقیقات کا حکم جاری دیں۔ سندھ پولیس کے ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے فون پر آئی جی سندھ مشتاق مہر کو یہ یقین دہانی کروائی کہ وہ سندھ پولیس کی عزت بحال کرنے کے معاملے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں گے۔ اس یقین دہانی کے بعد سندھ پولیس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کہا گیا کہ ‘آئی جی سندھ نے اپنی چھٹی موخر کر دی ہے اور تمام افسران سے کہا ہے کہ وہ سب بھی ویسع تر قومی مفاد میں اپنی چھٹی کی درخواستیں 10 دن کے لیے روک دیں جب تک کہ انکوائری کے نتائج سامنے نہیں آ جاتے۔ ` اس کے ساتھ یہ بھی امید ظاہر کی گئی کہ ‘ہم امید کرتے ہیں کہ سندھ پولیس کے ساتھ انصاف کیا جائے گا تاکہ پولیس فورس کا مورال اور انتظامی آزادی آئندہ کے لیے بحال ہو سکے۔’
اس معاملے پر وزیراعلی سندھ نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تو بنائی تھی لیکن اس کا مینڈیٹ محدود تھا اور بڑی مشکل یہ تھی کہ واقعے کے ذمہ داران سینئر انٹیلی جنس اور رینجرز افسران کو کس طرح شامل تفتیش کیا جائے۔ اب آرمی چیف کی طرف سے کور کمانڈر کراچی کی قیادت میں تحقیقاتی کمیٹی بنائے جانے کے بعد اب اس بات کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ واقعے میں ملوث سینئر ترین آئی ایس آئی اور رینجرز کے افسران بھی شامل تفتیش کیے جائیں گے اور اگر وہ قصوروار نکلے تو ان کے خلاف ایکشن بھی لیا جائے گا۔
تحقیقاتی کمیٹی بننے سے پہلے بلاول بھٹو نے ایک پریس کانفرنس میں یہ الزام لگایا تھا کہ اس واقعے میں اداروں کے سینئر لوگ شامل ہیں اور آئی جی کے اغوا سے نہ صرف سندھ پولیس کا مورال گرا ہے بلکہ وہ بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس میں بھی اداروں پر واضح الزامات لگائے گئے۔
یہ بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی صوبے کی پولیس نے آئی ایس آئی اور رینجرز کے اختیارات سے تجاوز کرنے ہر ردعمل دیا ہو۔ سندھ کے 100 سے زائد سینئر پولیس افسران نے ’ایک فورس‘ کا ثبوت دے کر کسی بھی قسم کے دباؤ سے انکار کرتے ہوئے ایک ساتھ چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا۔ یہی نہیں ایک ایک کر کے پولیس افسران کی چھٹی کی درخواستیں اسی ہیش ٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔
ایک ٹوئٹر صارف عبدالمجید نے ٹویٹ کی ‘سندھ کی بہادر بیٹی جنھوں نے چینی سفارتخانے پر حملے کو ناکام بنایا ایس ایس پی سوہائے عزیز تالپور نے بھی احتجاجاً 30 دن کی چھٹی کی درخواست دے دی ہے۔ ‘ تاہم بعد میں یہ فیصلہ موخر کر دیا گیا۔ جس کی وجہ آرمی چیف کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کو قرار دیا گیا۔
سندھ پولیس کے مطابق فوجی سربراہ نے یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ وہ سندھ پولیس کی عزت بحال کرنے کے معاملے میں غیر جانب داری کا مظاہرہ کریں گے۔ اس معاملے کے بعد پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو نے آئی جی سندھ سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ‘میں سندھ پولیس کے ساتھ ہوں کیا آپ لوگ ہیں؟’ جس کے بعد یہی ہیش ٹیگ آئی سٹینڈ ود سندھ پولیس ٹرینڈ کرنے لگا۔ ماضی میں بھی شاید پولیس کے بارے میں ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرتے رہے ہوں گے لیکن تب پولیس کی اچھی یا بری کارکردگی یا کوئی تنازع زیر بحث آتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ یہ ٹرینڈ پولیس اور عسکری سکیورٹی اداروں کے درمیان واضح اختلاف ظاہر کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکن کپل دیو کے خیال میں یہ کسی بڑی تبدیلی کا پیشہ خیمہ ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا ‘سویلین بالادستی کے ہزاروں میل کا سفر آج سے شروع ہو چکا ہے۔ تمام جمہوری آوازیں واضح طور پر ایک نعرہ لگا رہی ہیں کہ جبری طاقت کو مسترد کرتے ہوئے ہم سندھ پولیس کے ساتھ ہیں۔ ‘ سینئیر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے پولیس ایک خاموش ہڑتال کی طرف جا رہی ہے اور سب جانتے ہیں ہڑتال کس کے خلاف کی جا رہی ہے۔ اب کسی انکوائری کی ضرورت نہیں پھر بھی اس انکوائری کو جلد مکمل کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے’۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا ‘تمام سرکاری ملازمین کو آج سے سندھ پولیس کی مثال کی پیروی کرتے ہوئے تمام غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کرنا چاہیے اور جناح کی جانب سے اپریل سنہ 1948 میں پشاور میں سرکاری ملازمین کو دی نصیحت پر عمل کرنا چاہیے۔‘ صحافی مبشر زیدی کا کہنا تھا کہ ’اگر آج ہم نے سندھ پولیس کا ساتھ نہ دیا تو ہمیں مستقبل میں بھی کوئی شکایت کرنے کا حق نہیں۔‘
تاہم اس واقعے کے بعد سے اس امید کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ سندھ پولیس کے سخت ترین ردعمل اور آرمی چیف کی جانب سے تحقیقات کرانے کے اعلان کے بعد کراچی میں فوج اور اس سے وابستہ وہ ادارے اور ایجنسیاں اب بیک فٹ پر چلی جائیں گی جنہوں نے پچھلی کئی دہائیوں سے سندھ پولیس کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔
