آج کے صحافتی جبر کی مثال اگلے زمانوں میں دی جائے گی

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود نے عمران خان حکومت کے میڈیا دشمن اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور کے صحافتی جبر کی مثالیں آنے والے زمانوں میں دی جائیں گی، کپتان دور کی بدترین میڈیا سنسر شپ کی کہانیاں اگلے زمانوں کے نصاب میں پڑھائی جائیں گی، اس دور کی فیک نیوز پر زمانے ٹھٹھے لگائیں گے اور آج سچی خبر دینے والوں کے خلاف ہونے والی انتقامی کارروائیوں پر کتابیں لکھی جائیں گی۔
اپنے تازہ تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ یہ کہنا درست نہیں کہ عمرانی دور مارشل لاء سے بھی بدتر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ دور بھی مارشل لاء کا ہی دور ہے، موجودہ عہد بھی انہی مظالم کا عہد ہے، اسی لوٹ مار کا زمانہ ہے، اسی جبر و ستم کا وقت ہے۔ مارشل کے پہلے ادوار میں صحافیوں کو کوڑے مارے جاتے تھے، اب ہم اتنے ترقی کر گئے ہیں کہ کوڑے نہیں بلکہ گولیاں ماری جاتی ہیں، صحافیوں کو نوکریوں سے نکلوایا جاتا ہے، انکا معاشی قتل کیا جاتا ہے، خبر دینے کے جرم میں انہیں ’شمالی علاقہ جات کی سیر‘ کروائی جاتی ہے، گھروں میں گھس کر وطن پرستوں کو مارا جاتا ہے، صحافی دن دیہاڑے اغوا کیے جاتے ہیں، انہیں بچوں کی تصویر دکھا کر صحافت چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں لیکن آفرین ہے آج کے صحافیوں پر۔ وہ نوکریوں سے جاتے ہیں، ظلم و تشدد برداشت کرتے ہیں، خوف میں زندگی گزارتے ہیں مگر سچ بولنے سے باز نہیں آتے۔ انکا سچ ایوانوں کو لرزا دیتا ہے، جھوٹ کے قصر مسمار کر دیتا ہے اور گولی کی آواز پھر سے فضا میں گونجنے لگتی ہے، نامعلوم افراد پھر سرگرم عمل ہو جاتے ہیں، دھمکیاں پھر موبائل فونز پر جگمگانے لگتی ہیں۔ لیکن صحافی ہیں کہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ موجودہ دور میں صحافیوں نے بہت ظلم برداشت کیا لیکن اب یوں لگتا ہے کہ برداشت کی بھی حد ہو گئی ہے، اب صحافیوں نے بھی میدان عمل میں آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ صدر علوی کے جوائنٹ سیشن سے خطاب کے موقع پر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ نے پارلیمنٹ کے خلاف بھر پور احتجاج کیا ہے۔
صحافیوں کا عزم ہے کہ انکے مطالبات تسلیم ہونے تک انکا احتجاج جاری رہے گا۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کرنے والے صحافیوں کے بنیادی مطالبات کچھ یوں ہیں:
پہلا مطالبہ تو یہ ہے کہ جس طرح چن چن کر جمہوریت پسند صحافیوں کو چینلوں اور اخبارات سے جبری طور پر نکالا گیا ہے، ان کو بحال کیا جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے 2017 ء میں جن صحافیوں کی تنخواہوں میں چالیس فیصد سے زیادہ کمی گئی تھی، وہ ختم کی جائے اور ان صحافیوں اور اینکروں کو ان کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔
تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ جو صحافی کسی نہ کسی طرح ریاستی تشدد کا شکار ہوئے ہیں، ان کے مجرم پکڑے جائیں اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ وہ نام ور اینکر جنھوں نے اس ملک میں سچ بولنے کی کوشش کی اور زبردستی چینلوں سے نکلوا دیا گے، ان کے پروگرام بحال کیے جائیں۔ پانچواں مطالبہ پی ایم ڈی اے جیسے کالے قانون کو مکمل طور پر مسترد کرنے اور آزادی صحافت کے خلاف ہونے والی اس سازش کا قلع قمع کرنے کا ہے۔ چھٹا اور آخری مطالبہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلوں اور اخبارات سے سنسر شپ ختم کی جائے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ میری دانست میں ان مطالبات میں یہ مطالبہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ ہر ٹاک شو میں بیٹھے دفاعی تجزیہ کاروں کی پروگراموں میں شرکت پر پابندی لگائی جائے کیوں کہ یہ ان کے حلف کے بھی خلاف ہے اور آئین پاکستان کی روح کے منافی بھی ہے۔ سیاسی پروگراموں میں ریٹائرڈ جرنیلوں کا بیٹھنا توہین صحافت بھی ہے اور تضحیک آئین بھی ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ حالات کا کیسا جبر ہے کہ اس دور میں ڈیم فنڈ کے نام پر پیسے لینے والا متنازعہ جج ثاقب نثار، حسین نقی جیسے کہنہ مشق صحافی سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو۔ اسی طرح گرگٹ کے رنگ کی طرح پارٹیاں بدلنے والا وزیر اطلاعات فواد چودھری، ضیا دور میں کوڑے کھانے والے مینار صحافت ناصر زیدی سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو حالانکہ پیرانہ سالی کے باوجود ناصر زیدی آج بھی صحافیوں کے حقوق کے لیے سینہ سپر ہیں، انکے بالوں میں چاندی آ گئی، نظر کی عینک دبیز ہو گئی لیکن آزادی صحافت کے مطالبے پر اسی ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے ہیں جیسے دہائیوں پہلے ڈٹے ہوئے تھے۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ ناصر زیدی صحافیوں کے ہیرو ہیں، صحافت کے والی وارث ہیں۔ کل جب یہ سلیکٹڈ حکومت چلی جائے گی اور اس کے وزیروں کو چھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی تب بھی ناصر زیدی اسی طرح جمہوریت اور آئین کی حرمت کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں گے۔ ایسے لوگ نہ بوڑھے ہوتے ہیں، نہ وقت انھیں زوال کی طرف لے کر جاتا ہے، یہ زندہ لوگ ہیں اور ہر دور میں زندہ ہی رہتے ہیں کیونکہ ان کے ضمیر موجودہ دور کے حکمرانوں کی طرف مردہ نہیں ہوئے۔
