آرمی چیف غدارہےتوان سے چھپ کرکیوں ملتے ہیں

ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نےکہا ہے میر جعفر کہنا، غدار کہنا، نیوٹرل کہنا، جانور کہنا یہ سب اس لیے نہیں ہے کہ میں نے، میرے ادارے نے یا آرمی چیف نے کوئی غداری کی، یہ اس لیے بھی نہیں کہ انہوں نے کوئی غیر آئینی غیرقانونی کام کیا ہے، بلکہ یہ اس لیے ہے کہ ادارے نے غیر آئینی اور غیر قانونی کام کرنے سے انکار کردیا،آرمی چیف غدار ہےتو ان سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں۔
تحریک انصاف کےچیئرمین وسابق وزیر اعظم عمران خان کے فوج مخالف بیانیے،صحافی ارشد شریف کےقتل سمیت مختلف اہم نوعیت کے قومی امور پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کے ہمراہ غیرمتوقع ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نےکہا مجھے احساس ہے کہ آپ سب مجھے اپنے درمیان دیکھ کر حیران ہیں، میں آپ سب کی حیرانی کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں، میری ذاتی تصاویر اور تشہیر پر میری پالیسی ایک سال سے واضح ہے جس پر میں اور میری ایجنسی سختی سے پابند ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا منصب اور میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے اور میری ایجنسی کو پس منظر میں رہنا ہے، لیکن آج کا دن کچھ مختلف ہے، آج میں اپنی ذات کے لیے نہیں اپنے ادارے کے لیے آیا ہوں، جس کے جوان دن رات اس وطن کی خاطر اپنے جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں، پوری دنیا میں پاکستان کی دفاع کا ہراول دستہ بن کر کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا جب ان جوانوں کو جھوٹ کی بنیاد پر بلاجواز تضحیک اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا، لہٰذا اس ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے میں خاموش نہیں رہ سکتا، جب ایک جانب سے جھوٹ اتنی روانی سے بولا جائے کہ ملک میں فساد کا خطرہ ہو تو سچ کی طویل خاموشی بھی ٹھیک نہیں ہے، میں کوشش کروں گا کہ بلا ضرورت سچ نہ بولوں، قوم نے میرے منصب اور مجھ پر یہ بوجھ ڈالا ہے کہ میں ان رازوں کو اپنے سینے میں لے کر قبر میں چلا جاؤں لیکن جہاں ضرورت محسوس ہوگی میں وہ راز آپ کے سامنے رکھوں گا تاکہ اپنے جوانوں اور شہدا کا دفاع کر سکوں، آپ نے دیکھا کہ لسبیلا میں ہمارے جوان اس مٹی کی خاطر شہید ہوئے لیکن ان کا بھی مذاق بنایا گیا، اس لیے میر جعفر، میر جعفر صادق اور غدار جیسے القابات کے پس منظر سے متعلق آپ کے پہلے سوال کا میں جواب دے دیتا ہوں،اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آپ کسی کو شواہد کے بغیر میر جعفر میر صادق کہیں تو اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، یہ بالکل 100 فیصد جھوٹ پر بنایا گیا نظریہ ہے، لیکن آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ نظریہ کیوں بنایا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نےکہا میر جعفر کہنا، غدار کہنا، نیوٹرل کہنا، جانور کہنا یہ سب اس لیے نہیں ہے کہ میں نے، میرے ادارے نے یا آرمی چیف نے کوئی غداری کی، یہ اس لیے بھی نہیں کہ انہوں نے کوئی غیر آئینی غیرقانونی کام کیا ہے، بلکہ یہ اس لیے ہے کہ ادارے نے غیر آئینی اور غیر قانونی کام کرنے سے انکار کردیا، میں یہ بھی آپ کو بتادوں کہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ چاہتے تو اپنے آخری 6 سے 7 ماہ بہت سہولت کے ساتھ گزار سکتے تھے، وہ یہ فیصلہ نہ کرتے اور اپنے آپ کو مقدم رکھ کر آرام سے نومبر میں ریٹائر ہو کر چلے جاتے، نہ کسی نے تنقید کرنی تھی نہ اتنی غلاظت ہونی تھی، لیکن انہوں نے ملک اور ادارے کے حق میں فیصلہ دیا اور اپنی ذات کی قربانی دی۔
انہوں نے کہاآپ کو معلوم ہے کہ آرمی چیف پر اور ان کے بچوں پر کتنی غلیظ تنقید کی جاتی رہی لیکن انہوں نے یہ فیصلہ کیا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ جب وہ چلے جائیں تو ان کی لیگیسی میں ایک ایسا ادارہ ہو جس کا آئینی رول ہو، اس کا ایسا رول نہ ہو جسے متنازع بنایا جاسکے، لہٰذا اس چیز کی خاطر انہوں نے یہ فیصلہ کیا،میں یہ بھی آپ کو بتادوں کہ مارچ میں آرمی چیف کو ان کی مدت ملازمت میں غیرمعینہ مدت تک توسیع کی بھی پیشکش کی گئی، یہ پیشکش میرے سامنے کی گئی، یہ بہت پرکشش پیشکش تھی، لیکن انہوں نے اس بنیادی فیصلے کی وجہ سے یہ پیشکش بھی ٹھکرادی کہ ادارے کو متنازع رول سے ہٹا کر آئینی رول پر لانا ہے،میں یہ ضرور پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کو حق ہے اپنی رائے دینے کا، میں اس حق کا احترام کرتا ہوں، بحیثیت سپاہی میں اس حق کا احترام کرتا ہوں اور اس حق کا ہر ممکن حد تک تحفظ کروں گا، لیکن میں یہ ضرور پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ آپ کا سپہ سالار غدار ہے اور میرجعفر ہے تو ماضی میں آپ اتنی تعریفوں کے پُل کیوں باندھتے تھے، اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ آپ کا سپہ سالار غدار ہے اور میرجعفر ہے تو آپ اس کی مدت ملازمت میں اتنی توسیع کیوں کررہے تھے؟
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ سپہ سالار غدار ہے اور میرجعفر ہے لیکن آپ ان کو کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ کو ساری زندگی اس ملازمت پر رہنا ہے تو رہیں، اگر وہ واقعی آپ کی نظر میں غدار ہیں تو پھر آج بھی ان سے پس پردہ کیوں ملتے ہیں، مجھے آپ کے ملنے پر اعتراض نہیں ہے، آپ ملیے، ہمارا فرض ہے اس ملک کے ہر شہری کی آواز پر لبیک کہنا، لیکن یہ نہ کریں کہ آپ رات کی خاموشی میں بند دروازوں کے پیچھے ہم سے ملیں اور اپنے آئینی و غیرآئینی خواہشوں کو اظہار کریں، یہ بھی آپ کا حق ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ دن کی روشنی میں آپ اسی شخص کو غدار کہیں، آپ کے قول و فعل اور فکر و تدبر میں اتنا بڑا تضاد ٹھیک نہیں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم بھی حکومت کے نیچے ایک ادارہ ہیں اور قانون کے مطابق ہمارے پاس جو چیزیں ہیں اس کے مطابق ہم کام کرتے ہیں، ہم نے پہلے بھی ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر کوئی فوج کے خلاف بات کرتا ہے یا کوئی تہمت لگاتا ہے تو جیسے آزادی اظہار رائے کا حق پاکستان کا آئین دیتا ہے اسی طرح کردار کشی کی اجازت آئین بالکل نہیں دیتا، خاص طور پر اداروں پر بات کرنے کی اجازت بھی پاکستان کا آئین نہیں دیتا، اس قانون پر عملدرآمد حکومت پاکستان کو کرنا ہوتا ہے، اگر کسی ادارے پر کوئی انگلیاں اٹھا رہا ہے تو حکومت وقت نے اس کے خلاف ایکشن لینا ہے، اس مد میں جب بھی کوئی اس طرح کی چیز ہوئی ہے تو ہم نے حکومت کے ذریعے اس کو اپروچ کیا ہے، حکومت ان کے بارے میں جو بھی ایکشن لیتی ہے یہ ان کی صوابدید ہے، کسی کو گرفتار یا کچھ کرنا ہماری صوابدید نہیں ہے، ہم صرف حکومت سے درخواست کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہمارے پاس اس طرح کی کوئی انفارمینش نہیں تھی، جب خیبرپختونخوا حکومت نے تھریٹ الرٹ جاری کیا تو ہمارے پاس ایسی کوئی انفارمیشن نہیں تھی، ادارے کی جانب سے ایسی کوئی انفارمیشن نہیں شیئر کی گئی، اس کو بعد میں جانچا بھی گیا کہ یہ انفارمیشن کہاں سے آئی،(فیصل واڈا کی) کل والی پریس کانفرنس پر میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا لیکن میرے خیال میں جو انکوائری کمیشن بنا ہے وہ ان تمام لوگوں اور شواہد کو دیکھے گا، اسی لیے میں نے کہا کہ اس کیس کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات ہوں، جس نوعیت کے انٹرنیشنل اور فارن ایکسپرٹس اس میں شامل کیے جائیں، ٹیکنالوجکلی بھی اس کو دیکھیں، اس کے بغیر اگر یہ کیس اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچا تو اس کا بہت نقصان ہوگا، اس لیے اگر انہوں (فیصل واڈا) نے کل کوئی بات کی ہے اور اگر وہ اس کے بارے میں کلیئر ہیں تو مجھے یقین ہے کہ انکوائری کمیشن اس چیز کو دیکھے گا۔
انکا کہنا تھاارشد شریف شہید بہت قابل اور محنتی صحافی تھے، میں ذاتی طور پر ان کی عزت کرتا ہوں، ان کے سیاسی آرا سے کچھ احباب کو غالباً اختلاف ہے لیکن ان کے نام، کام اور لگن سے کسی کو انکار نہیں، مگر پیسے جو معلومات ہیں اور تحیقیق کی بنیاد پر آپ کو بتا سکتا ہوں کہ شہید ارشد شریف کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں تھا،ارشد شریف کے خاندان میں غازی بھی ہیں اور شہید بھی، جب وہ یہاں پر تھے تو ان کا اسٹیبلشمٹ سے اور میرے اپنے ادارے کے لوگوں سے رابطہ تھا، جب وہ باہر چلے گئے تب بھی رابطہ تھا، اس مہینے بھی انہوں نے میرے ساتھ کام کرنے والے (بی جی سی) جنرل صاحب سے رابطہ رکھا، اپنی واپسی کی خواہش کا بھی اظہار کیا،آپ کو معلوم ہے کہ کینیا میں اس کی انکوائری ہورہی ہے، میں وہاں اپنے ہم منصب سے بھی رابطے میں ہوں، ان کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق شناخت کی غلطی کے باعث یہ حادثہ پیش آیا، اس پر حکومت پاکستان اور ہم شاید مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں، اسی لیے حکومت نے ایک ٹیم بنائی ہے جو تحقیقات کے لیے کینیا جائے گی، حکومت نے جوڈیشل کمیشن بھی بنایا ہے، میں نے دانستہ طور پر ان دوںوں نے فورمز سے آئی ایس آئی کے ارکان نکال لیے تاکہ قوم کے سامنے غیر جانبدار اور 100 فیصد شفاف تحقیقات ہوں اور جو بھی اس کا نتیجہ آئے گا اس سے ان شا اللہ ڈی جی آئی ایس پی آر آپ کو آگاہ رکھیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نےایک سوال کے جواب میں کہا کہ انفارمیشن کی شیئرنگ کو غلط رنگ نہیں دینا چاہیے، جہاں تک تنقید کی بات ہے تو تنقید ہر ایک کا حق ہے، بطور ادارہ تنقید پر کوئی مسئلہ نہیں ہوا، مسئلہ تب ہوتا ہے جب ایک چیز تنقید سے بڑھ کر الزام تراشی اور من گھڑت پروپگینڈے کی ڈومین میں چلی جائے، یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے ہمیں ہر قیمت پر احتراز برتنا چاہیے، خاص طور پر تب جب ہم اپنے اداروں کے بارے میں بات کررہے ہوں،ہمارے پاس ایسا کوئی فورم نہیں ہے جہاں ہم ہر روز آکر کسی کی کہی ہوئی بات کا جواب دے سکیں، نہ یہ ہمیں یہ سوٹ کرتا ہے نہ ہمیں یہ کرنا چاہیے، اسی لیے اداروں کا دفاع حکومت وقت کرتی ہے لیکن تنقید پر کوئی اعتراض نہیں ہے، اس میں کسی کو شک نہیں ہونی چاہیے کہ تعیناتی اپنے وقت پر ہوگی اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہوگی۔
انکا کہناتھا آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، بیشک وہ رائے مجھ پر تنقید ہی کیوں نہ ہو، بحیثیت سولجر آپ کے اس حق کے تحفظ کا ذمہ دار ہوں، آپ صبح شام ہمارا موازنہ کیجئے لیکن پیمانہ یہ رکھیے کہ میں نے ملک اور قوم کے لیے کیا کیا ہے، یہ پیمانہ نہ رکھیے کہ میں نے آپ کی ذات اور سیات کے لیے کچھ کیا ہے یا نہیں، یہ پیمانہ ٹھیک نہیں ہے، اگر میں ملک کے لیے کام ٹھیک نہیں کررہا ہوں اور قوم کی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہا ہوں تو آپ براہ مہربانی مجھ پر تنقید کریں، میں بہت خوش اسلوبی سے اپنے کام میں بہتری لاؤں گا،مشہور مقولہ ہے کہ ہر کسی کو اپنی مرضی کی رائے کا حق ہے لیکن اپنے مرضی کے حقائق کا نہیں، رائے کا اظہار کریں لیکن حقائق مینوفیکچر نہ کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بدقسمتی سے پروپیگینڈا اور ففتھ جنریشن وار فیئر کی اساس یہی ہو کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے اور ان کی بنیاد پر افواہیں اور پروپگینڈا کیا جائے۔
مارچ میں آرمی چیف کو غیرمعینہ مدت تک ملازمت کرنے والی شخصیت سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جتنی انفارمیشن انہوں نے شیئر کی ہے میرے خیال میں وہ اتنی ہی شیئر کر سکتے ہیں، اس سے مزید اگر وہ شیئر کر سکتے تو ضرور شیئر کرتے۔
انہوں نے کہا مارچ 2021 کے بعد سینیٹ کا الیکشن ہوا تھا جس میں آپ جانتے ہیں کہ کیا ہوا تھا، اس کے بعد کسی بھی الیکشن میں آپ دیکھ لیں، ضمنی انتخابات، کنٹونمنٹ الیکشنز، بلدیاتی انتخبات دیکھ لیں، رواں برس ہونے والے انتخابات دیکھ لیں، کہیں پر بھی بھی فوج یا آئی ایس آئی کی مداخلت کا کوئی ثبوت کسی کو ملا ہو تو بتائیں، بار بار دھاندلی کا کہا جاتا ہے، ہم نے بارہا اس بارے میں بات کی کہ اگر کوئی ثبوت ہے تو لیکر آئیں، مجھے یقین ہے کہ کوئی ثبوت نہیں ہے،پاکستان کو بہت سے انٹرنیشنل چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان دنیا میں اسٹریٹجیکلی ایک اہم ملک ہے، اس کے چیلنجز ہمیشیہ رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، ہر چیلنج کے ساتھ مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں، اس لیے عالمی سطح پر ہمارے لیے بہت سے مواقع بھی موجود ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے اپنا اپنا کام کررہے ہیں، اور ان شا اللہ ہم اس سے نمٹ لیںگے، اس حوالے سے فکر کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے، اس بارے میں ہر ایک کی رائے ہوسکتی ہے جس کے مطابق آگے چلا جا سکتا ہے لیکن ہر کام کرنے کا ایک طریقہ موجود ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نےمارچ میں آرمی چیف کو غیرمعینہ مدت تک ملازمت کرنے والی شخصیت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ جتنی انفارمیشن انہوں نے شیئر کی ہے میرے خیال میں وہ اتنی ہی شیئر کر سکتے ہیں، اس سے مزید اگر وہ شیئر کر سکتے تو ضرور شیئر کرتے، مارچ 2021 کے بعد سینیٹ کا الیکشن ہوا تھا جس میں آپ جانتے ہیں کہ کیا ہوا تھا، اس کے بعد کسی بھی الیکشن میں آپ دیکھ لیں، ضمنی انتخابات، کنٹونمنٹ الیکشنز، بلدیاتی انتخبات دیکھ لیں، رواں برس ہونے والے انتخابات دیکھ لیں، کہیں پر بھی بھی فوج یا آئی ایس آئی کی مداخلت کا کوئی ثبوت کسی کو ملا ہو تو بتائیں، بار بار دھاندلی کا کہا جاتا ہے، ہم نے بارہا اس بارے میں بات کی کہ اگر کوئی ثبوت ہے تو لیکر آئیں، مجھے یقین ہے کہ کوئی ثبوت نہیں ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نےکہا پاکستان کو بہت سے انٹرنیشنل چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان دنیا میں اسٹریٹجیکلی ایک اہم ملک ہے، اس کے چیلنجز ہمیشیہ رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، ہر چیلنج کے ساتھ مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں، اس لیے عالمی سطح پر ہمارے لیے بہت سے مواقع بھی موجود ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے اپنا اپنا کام کررہے ہیں، اور ان شا اللہ ہم اس سے نمٹ لیںگے، اس حوالے سے فکر کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے، اس بارے میں ہر ایک کی رائے ہوسکتی ہے جس کے مطابق آگے چلا جا سکتا ہے لیکن ہر کام کرنے کا ایک طریقہ موجود ہے، انہوں نے کہا کہ آپ نے سوال کیا کہ غیرمعینہ مدت تک توسیع کی پیشکش کس نے کی؟ ظاہرہے اس وقت جو حکومت تھی جو انہیں قانونی طور پر غیرمعینہ مدت تک توسیع دینے کی مجاز تھی اسی نے یہ پیشکش کی، یہ پیشکش اسی لیے کی گئی کیونکہ تحریک عدم اعتماد عبور پر آچکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، پاکستان کے دوستوں اور دشمنوں کا فیصلہ کرنا منتخبن جمہوری حکومتوں کا کام ہے، ادارہ، فوج اور آئی ایس آئی کا کام ہے کہ اپنی معلومات کی بنیاد پر اپنا تجزیہ حکومت کے آگے رکھیں، فیصلہ ان کا ہے، پاکستان کے اندرونی اور بیرونی خطرات وخدشات پر سیرحاصل گفتگو کسی اور نشست میں ہو سکتی ہے، سردست آپ کو یہ بتا دوں کہ پاکستان کو بیرونی خطرات یا عدم تحفظ سے کوئی خطرہ نہیں ہے، اس کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے، صرف یہ وجہ بھی نہیں ہے کہ پاکستان کی فوج بہت مضبوط اور بہادر ہے، پاکستان کا دفاع اس لیے مضبوط ہے کیونکہ اس کے دفاع کی ذمہ داری 22 کروڑ عوام نے خود لی ہوئی ہے جو اس ملک پر اپنی کجان قربان کرنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔
انکا کہناتھا پاکستان کو اس وقت خطرہ عدم استحکام سے ہے، یہ وہ چیز ہے جس پر میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ عدم استحکام کی کیا وجوہات ہیں، جب آپ نفرت اور تقسیم کی سیاست کرتے ہیں تو اس سے ملک میں عدم استحکام آتا ہے، اگر ہم نے تاریخ سے نہیں سیکھا تو چند دہائیوں پیچھے چلے جائیں جب ہم مسلام ملک تھے ہمارے 2 حصے تھے لیکن اس باوجود ہم الگ ہوگئے کیونکہ ہم نے نفرت اور تقسیم کو زیادہ ابھارا، یہی چیز ہمارے معاشرے اور مملکت کی بنیادوں کو کھوکھلا کررہی ہے، عدم استحکام کی وجہ اس کے معاشی حالات بھی ہیں، جب میں خود ڈی جی آئی ایس آئی بنا تو مجھ سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا نمبر ایک مسئلہ کیا ہے، میں نے کہا کہ میری نظر میں یہ ہمارے معاشی مسائل ہیں، جنہوں نے سوال پوچھا وہ میری رائے سے متفق نہیں ہوئے، ان کی نظر میں حزب اختلاف پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا پاکستان میں سیاسی و معاشرتی عدم برداشت ہے، سوشل میڈیا پر بڑے بڑے قابل احترام اور معزز لوگ جو زبان استعمال کرتے ہیں اس سے عدم استحکام آتا ہے، پاکستان کو خطرہ اس سے ہے، باہر سے الحمد اللہ ہمارے دشمنو ں کو معلوم ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں، عدم استحکام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے آئینی و قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے، جب ہم چور دروازے اور غیر آئینی و غیرقانونی راستے اختیار کرتے ہیں تو اس سے عدم استحاکم آتا ہے، آئی ایس آئی نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ادارہ صرف وہ کام کرے گا جو قومی امنگوں کا مظہر ہے اور اسی انداز میں کرے گا جو آئین میں لکھا ہے، اس سے باہر نہیں جائے گا۔
نیوٹرل کے القابات سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیوٹرل کا لفظ ہم نے خود کبھی استعمال نہیں کیا، ہم نے ہمیشہ کہا کہ ہم اے پولیٹکل (غیرسیاسی) ہیں جوکہ ہمارا آئینی کردار ہے، اس کو نیوٹرل کہہ دینا، جانور سے تشبیہ دے دینا اور دین کا حوالہ دینا مناسب نہیں، میں کوئی عالم دین نہیں ہوں، لیکن جتنا دین مجھے سمجھ آتا ہے میرا خیال ہے اس کردار کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ہمارا آئینی کردار ہے اور پاکستان کا آئین شریعت کے عین مطابق ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، پاکستان کا آئین ایک اسلامی مملکت کا آئین ہے، اسی آئین میں یہ لکھا ہے کہ ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں، اسی آئین پر ہم حلف لیتے ہیں، ماضی میں ہم سے غلطیاں ہوئیں، یہ ایک تاریخ ہے، اسی تاریخ کی وجہ سے ہم پر انگلیاں اٹھتی ہیں لیکن ان غلطیوں کا قرض ہم برسوں سے ادا کررہے ہیں، ادارے نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ سیاسی مداخلت یا کسی حق میں مداخلت آگے نہیں چل سکتا اور ان شا اللہ آپ دیکھیں گے کہ ہم اس فیصلے پر قائم رہیں گے۔
ایوان صدر میں ہونیوالی ملاقاتوں سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ یہ ملاقاتیں ضرور ہوئیں، میں ان ملاقاتوں میں کوئی ممانعت نہیں دیکھتا کیونکہ اس کی نیت ملک میں سیاسی استحکام اور ٹھہراؤ لانا اور رویوں میں تلخی کو کم کرنا تھا، لیکن وہ اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی، وہ کیوں نہ پہنچیں اور اس کے علاوہ کون سی ملاقاتیں ہوئیں؟ اس حوالے سے میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ بلاضرورت سچ شر ہے۔
انکاکہنا تھا ارشد شریف کے قتل سے متعلق قبل از وقت رائے کام کرنا مناسب نہیں ہے، تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے، آپ کا یہ حق نہیں بنتا کہ یہ کس نے کروایا اور کیوں کروایا، ہم نے آپ کے سامنے حقائق اس لیے رکھے کیونکہ انگلیاں اٹھ رہی تھیں، مفروضات جنم دیے جارہے تھے اور عجیب و غریب قسم کی باتیں شروع ہوگئی تھیں، یہ باتیں انکوائری پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہیں، اس لیے ہم یہ حقائق سامنے لائے ہیں، کسی پر کوئی الزام نہیں لگایا، ہاں ہم نے یہ ضرور کہا ہے کہ جو جو لوگ اس سے منسلک ہیں اور جن جن کا نام مخلتف وجوہات کی بنیاد پر ان شواہد میں سامنے آرہا ہے ان کو شامل تفتیش کرنا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، ان شا اللہ رپورٹ آئے گی تو حقائق سامنے آجائیں گے، اس وقت تک کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی کسی پر الزام تراشی کی جانی چاہیے۔
لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نےکہا اعلیٰ سطح کے انکوائری کمیشن کا مقصد یہی ہے کہ وہ کسی کو بھی بلا سکتے ہیں، اور ایسا ہونا بھی چاہیے، اس واقعے کے تمام شواہد اور پہلوؤں کو پرکھنا ہوگا، جنہوں نے بھی اس بارے میں کوئی انفارمیشن شیئر کی ہے یا ان کے پاس کوئی انفارمیشن ہے مجھے یقین ہے کہ ان کو بلایا جائے گا اور ان کو کمینش کے سامنے پیش ہونا پڑے گا، فوج کے غیرسیاسی رہنے کا فیصلہ کرنے والوں میں وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے آئندہ 15 سے 20 برسوں میں اس ادارے کی قیادت سنبھالنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں آج پریس کانفرنس کے لیے اس لیے مجبور ہوا کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ جھوٹ فراوانی سے بولا جارہا ہے اور ہمارے نوجوان ذہن اس کو قبول کرتے جارہے ہیں،میں اس چیز سے اتفاق نہیں کروں گا کہ ارشد شریف کو اسٹیبلشمنٹ کے افسران نے دھمکایا ہو، اگر اسٹیبلشمنٹ چاہتی کہ وہ ملک نہ چھوڑیں تو کیا وہ ملک چھوڑ سکتے تھے؟ ان کے سیاسی رائے سے اختلافات کی گنجائش رہی ہے لیکن ہمارے افسران کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات رہے۔
صحافیوں کو دھمکی آمیز فون کالز سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ یہ بات بھی اکثر جھوٹ پر مبنی ہے، آج کل ایسی کمیونکیشن ایپس موجود ہیں جو آپ کو اس قابل بناتی ہیں کہ آپ نمبر ظاہر کیے بغیر کال کرلیں، اگر آپ کو شک ہے تو پولیس اور ایف آئی اے میں شکایت کریں، وہ قارنزک کرکے بتادیں گہ یہ اصل میں یہ نمبر کس کا ہے، کچھ ہفتے قبل آپ نے میڈیا پر دیکھا کہ کچھ شرارتی لوگ خود ایک دوسرے کو ایسی کالیں کررہے تھے، اس لیے ہمارے لوگ ذرا فنکار بھی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا مارچ میں میری ذات کے خلاف جھوٹی اور غلیظ مہم چلائی گئی، مجھے ایجنسی سے بھی فون آیا کہ آپ کے خلاف ٹوئٹر پر جھوٹی مہم چلائی جارہی ہے ہم کیا کریں، میں نے ان کو کہا کہ جب کسی ٹوئٹ کے ری ٹوئٹ 8 ہزار ملین سے بڑھ جائیں تو مجھے بتائیے گا، اس سے پہلے آپ میری ذات کی فکر نہ کریں،ہماری جو بھی ملاقاتیں ہوئیں اس میں ہم نے یہی بات کی کہ آپ نے جو کرنا ہے پاکستان کے آئین اور قانون کے اندر رہ کر کرنا ہے، ہم کوئی ایسی مدد فراہم نہیں کر سکتے جو اس کے مطابق نہ ہو۔
لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نےکہا چند روز قبل ایک کانفرنس میں اداروں کے خلاف نعرے بازی ہوئی تو وزیراعظم اور دیگر وزرا نے مذمت کی اس لیے یہ نہیں کہوں گا کہ حکومت دانستہ خاموش ہے،صحافیوں کو لفافہ کہے جانے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صحافی بہت مشکلات اور خطرات کے باوجود اپنا کام بہت اچھا کررہے ہیں، صحافیوں کو لفافہ کہنے کے خلاف ہوں، ہمارا کوئی صحافی ایسا نہیں جسے میں بحیثیت ڈی جی آئی ایس آئی لفافہ کہہ سکوں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو لانے میں ادارے کے کردار سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ اس پر سیرحاصل گفتگو پھر کبھی ہو سکتی ہے۔
