غلطی ہو سکتی ہے، غدار، سازشی نہیں ہو سکتے

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹرجنرل لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخاراور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے غیرمتوقع ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف کےچیئرمین وسابق وزیر اعظم عمران خان کے فوج مخالف بیانیے،صحافی ارشد شریف کےقتل سمیت مختلف اہم نوعیت کے قومی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
ڈجی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد سینئر اور ممتاز صحافی ارشد شریف کی کینیا میں وفات اور اس سے جڑے حالات و واقعات کے بارے میں آپ کو کچھ آگاہی دینا ہے، یہ کانفرنس ایک ایسے موقع پر کی جا رہی ہے جب حقائق کا صحیح ادراک بہت ضروری ہے تاکہ فیکٹ، فکش اور رائے میں تفریق کی جا سکے اور سچ سب کے سامنے لایا جا سکے،اس پریس کانفرنس کی اہمیت اور حساسیت کی وجہ سے وزیر اعظم پاکستان کو اس حوالے سے خصوصی طور پر آگاہ کیا گیا ہے بلکہ اس عوامل کا احاطہ کرنا بہت ضرری ہے جن کی بنیاد پر ایک مخصوص بیانیہ بنایا گیا اور اسی جھوٹے بیانیے کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اداروں اور ان کی لیڈرشپ حتیٰ کہ چیف آف آرمی اسٹاف پر بھی بے جا الزام تراشی کی گئی اور اس کی وجہ سے معاشرے میں تقسیم اور اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کی گئی،ارشد شریف کی وفات ایک انتہائی اندوہناک واقعہ ہے اور ہم سب کو اس کا شدید دکھ ہے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، دکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں ہم سب ان کے ساتھ ہیں، ارشد شریف کی وجہ شہرت تحقیقاتی صحافت تھی لہٰذا جب سائفر کا معاملہ سامنے آیا تو ارشد شریف صاحب نے اس پر بھی متعدد پروگرام کیے، اس حوالے سے انہوں نےا س وقت کے وزیراعظم سے کئی ملاقاتیں بھی کیں اور ان کے کئی انٹرویوز بھی کیے، جس کے نتیجے میں یہ بات بھی کی گئی کہ شاید انہیں مختلف میٹنگز کے منٹ اور سائفر بھی دکھائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ سائفر اور ارشد شریف کی وفات کے حوالے سے بڑے واقعات کے حقائق تک پہنچنا بہت ضروری ہے تاکہ اس سلسلے میں کسی قسم کا ابہام اور قیاس آرائی پیدا نہ ہو اور قوم سچ جان سکے،جہاں تک سائفر کا معاملہ ہے تو آرمی چیف نے 11مارچ کو کامرہ میں سابق وزیراعظم سے خود اس کا تذکرہ کیا تھا جس پر انہوں نے فرمایا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن ہمارے لیے یہ حیران کن تھا جب 27مارچ کو اسلام آباد کے جلسے میں ڈرامائی انداز میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لہرایا اور ڈرامائی انداز میں ایک ایسا بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا،سائفر کے حوالے سے حال ہی میں کئی حقائق منظر عام پر آ چکے ہیں جس نے اس کھوکھلی اور من گھڑت کہانی کو بے نقاب کر دیا ہے، پاکستانی سفیر کی رائے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا 31مارچ کی نیشنل سکیورٹی میٹنگ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، آئی ایس آئی نے بڑے واضح اور پیشہ ورانہ انداز میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو بتا دیا تھا کہ حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ یہ پاکستانی سفیر کا ذاتی تجزیہ ہے اور پاکستانی سفیر نے جو لائحہ عمل تجویز کیا تھا وہی لائحہ عمل نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے دفتر خارجہ کو تجویز کیا،آئی ایس آئی کی سائفر سے تحقیقات میں کسی بھی قسم کی سازش کے شواہد نہیں ملے اور یہ شواہد ریکارڈ کا حصہ ہیں، ہم شواہد کو قوم کے سامنے رکھنا چاہتے تھے تاہم یہ فیصلہ ہم نے اس وقت کی حکومت پر چھوڑ دیا کہ وہ آئی ایس آئی کی جانب سے کی گئی ان تحقیقات کو منظر عام پر لائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ مزید افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا اور ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینا تھا کہ حکومت کے خلاف آئینی، قانونی اور سیاسی معاملے کے بجائے عدم اعتماد کی تحریک ’رجیم چینج آپریشن‘ کا حصہ تھی۔
انکا کہنا تھا پھر اس حوالے سے امریکا کے دنیا بھر میں رجیم چینج آپریشن کے حوالے دیے گئے اور ان کو پاکستان میں حکومت کی تبدیلی سے جوڑ دیا گیا، پاکستان کے اداروں بالخصوص فوج کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور ہر چیز کو غداری اور رجیم چینج آپریشن سے جوڑ دیا گیا،یہی وہ وقت تھا جب ارشد شریف اور دیگر کئی صحافیوں سمیت سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو ایک مخصوص بیانیہ فیڈ کیا گیا جس کی حقیقت واضح ہوچکی ہے،ذہن سازی کے ذریعے قوم اور افواج پاکستان میں، سپاہ اور قیادت کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، پاکستان اور پاکستان کے اداروں کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی گئی، اس میڈیا ٹرائل میں اے آر وائے چینل نے بالخصوص پاکستان آرمی اور لیڈرشپ کے حوالے سے ایک جھوٹے اور سازشی بیانیے کو فروغ دینے میں ایک ’اسپن ڈاکٹر‘ کا کردار ادا کیا اور ایجنڈا سیٹنگ کے ذریعے فوج کے خلاف مخصوص بیانیے کو پروان چڑھایا،نیشنل سکیورٹی کی میٹنگز اور اعلامیے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا حتیٰ کہ دوسرے اجلاس میں اسد مجید کے حوالے سے من گھڑت خبر بھی چلائی گئی، پاکستان آرمی سے سیاسی مداخلت کی توقع کی گئی جوکہ آئین پاکستان کے خلاف ہے، نیوٹرل اور غیرسیاسی جیسے الفاظ کو گالی بنا دیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اس تمام پروپیگنڈے کے باوجود ادارے اور خاص طور پر آرمی چیف نے نہایت تحمل کا مظاہرہ کیا، ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ سیاستدان آپس میں بیٹھ کر خود مسائل کا حل نکالیں لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا،یہ بھی کہا گیا کہ سائفر کو چھپایا گیا، سوال یہ ہے کہ کیا دفتر خارجہ نے سائفر چھپایا؟ جو اس وقت سائفر ہینڈل کرنے کے ذمہ دار تھے ان کے خلاف پھر کیا ایکشن لیا گیا؟ اگر نہیں لیا گیا تو کیوں نہیں لیا گیا؟ اور ان کے نام کیوں نہیں لیے جاتے؟، لفظوں کے ہیر پھیر، گمراہ کن اور جھوٹی خبریں پھیلا کر اداروں اور ان کی قیادت کو غدار ٹھہرا کر کٹہرتے میں کھڑا کردیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مرحوم ارشد شریف کےعلاوہ دیگر صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے بھی سائفر کے حوالے سے باتیں کیں اور بہت سخت باتیں بھی کیں، ارشد شریف تو نومبر 2021 سے اے آر وائے چینل کے پلیٹ فارم سے اداروں پر تنقید کررہے تھے جس میں انہوں نے مختلف اداروں کے حوالے سے سخت تنقیدی پروگرامز بھی کیے لیکن اس کے باوجود ان کے حوالے سے ہمارے دل میں کسی قسم کے منفی جذبات تھے نہ ہیں، کئی دیگر صحافی بھی اس پر بات کررہے تھے لیکن وہ پاکستان میں نہیں رہے، آج بھی وہ بہت سخت سوالات اٹھا رہے ہیں جو ان کا آئینی حق ہے،تمام سائفر ڈرامے کے دوران ہم نے جب بھی کسی چینل یا صحافی سےبات کی تو یہی کہا کہ بنا ثبوت اور من گھڑت مفروضات پر غداری اور سازشوں کے الزامات ادارے کی قیادت پر نہ لگائے جائیں اور فوج کے غیرسیاسی رہنے کے موقف کو متنازع نہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا آج دیکھنا یہ ہو گا کہ مرحوم ارشد شریف کے حوالے سے اب تک سامنے آنے والے حقائق کیا ہیں، پانچ اگست 2022 کو خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اے آر وائے اینکر ارشد شریف کے حوالے سے ایک تھریٹ الرٹ جا ری کیا گیا،ہماری اطلاع کے مطابق یہ تھریٹ الرٹ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی خاص ہدایت پر جاری کیا گیا جس میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ افغانستان میں مقیم تحریک طالبان پاکستان کے گروپ نے اسپن بولدک میں ایک میٹنگ کی ہے جو ارشد شریف کو راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں میں نشانہ بنانا چاہتے ہیں، اس حوالے سے وفاقی حکومت یا سکیورٹی اداروں سے کسی قسم کی معلومات شیئر نہ کی گئیں کہ کیسے اور کس نے خیبر پختونخوا حکومت کو یہ اطلاع دی کہ ارشد شریف صاحب کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ڈائر یکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تھریٹ الرٹ مخصوص سوچ کے تحت جاری کیا گیا جس کا مقصد شاید ارشد شریف صاحب کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کرنا تھا جبکہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ارشد شریف ملک چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے لیکن بار بار ان کو یہ باور کرایا جاتا رہا کہ ان کو خطرہ لاحق ہے، 8اگست 2022 کو شہباز گل کے اے آر وائے چینل پر بغاوت پر اکسانے کے متنازع بیان کی تمام مکاتب فکر نے مذمت کی اور اسے ریڈ لائن کراس کرنے کے مترادف قرار دیا اور 9 اگست کو انہیں گرفتار کیا گیا،اس متنازع اسپیشل ٹرانسمیشن کے حوالے سے اے آر وائے کے سینئر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ کے وائس پریذیڈنٹ سے تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ اے آر وائے کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال نے سلمان اقبال کی گرفتاری کے فوراً بعد عماد یوسف کو ہدایات دیں کہ ارشد شریف کو جلد از جلد پاکستان سے باہر بھیج دیا جائے، اس کے جواب میں انہوں نے سلمان اقبال کو بتایا کہ ارشد شریف پشاور سے دبئی کے لیے روانہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا پھر اس حوالے سے متواتر یہ بیانیہ بنایا جاتا رہا کہ ارشد شریف کو بیرون ملک قتل کر دیا جائے گا، 9 اگست 2022کو 4 بجکر 40 منٹ پر ارشد شریف کی کراچی سے دبئی کے لیے ایک ٹکٹ بک کی گئی جو کہ اے آر وائے گروپ کے اسسٹنٹ منیجر پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن عمران کے کہنے پر فضل ربی نامی ٹریول ایجنٹ نے ساڑھے پانچ لاکھ روپے وصول کرنے کے بعد بُک کی،اس ٹریول پلان کے مطابق 9 ستمبر 2022 کو ارشد شریف کو پاکستان واپس آنا تھا، 10 اگست کو باچا خان ایئرپورٹ سے ارشد ایمریٹس انٹرنیشنل کی پرواز ای کے-637 کے ذریعے صبح چھ بجکر 10 منٹ پر دبئی کے لیے روانہ ہوئے، ارشد شریف کو اس دوران خیبر پختونخوا حکومت نے مکمل پروٹوکول فراہم کیا اور سرکاری گاڑی میں انہیں ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔
لیفٹیننٹ جنر ل بابر افتخار نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے عملے نے ہی تمام کاؤنٹرز پر ارشد شریف کی معاونت کی اور انہیں فلائٹ تک پہنچایا، اس حوالے سے اداروں کی جانب سے ارشد شریف کو روکنے کی کسی بھی قسم کی کوشش نہیں کی گئی، اگر حکومت روکنا چاہتی تو ایف آئی اے کے ذریعے یہ کر سکتی تھی، ارشد شریف اس وقت تک متحدہ عرب امارات میں رہے جب تک ان کے پاس وہاں کا قانونی ویزہ تھا، وہ دبئی کا ویزہ ایکسپائر ہونے پر وہاں سے کینیا روانہ ہوئے، ہماری اطلاع کے مطابق کسی نے سرکاری سطح پر ارشد شریف کو ملک سے نکلنے پر مجبور نہیں کیا، تو وہ کون تھے جنہوں نے انہیں وہاں سے جانے پر مجبور کیا؟، اس سوال کا جواب لینا چاہیے،یہاں پر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ متحدہ عرب امارات روانگی سے منسلک دستاویزی معاملات کو کس نے انجام دیا، متحدہ عرب امارات میں ان کے قیام و طعام کا بندوبست کون کررہا تھا، کس نے انہیں مسلسل یہ باور کرایا کہ وہ پاکستان واپس نہ آئیں ورنہ انہیں مار دیا جائے گا، کس نے انہیں یقین دلایا کہ ان کی جان بیرون ملک خاص طور پر کینیا جیسے ملک میں محفوظ ہے۔
انکا کہنا تھا ایک بیانیہ یہ بھی بنایا جا رہا ہے کہ جب ارشد شریف کو دبئی سے نکلوایا گیا تو صرف کینیا ہی ویزہ فری ملک تھا جہاں وہ انٹری لے سکتے تھے حالانکہ دنیا میں 34 ایسے ممالک ہیں، ارشد شریف کیونکر کینیا پہنچے، ان کی میزبانی کون کررہا تھا، ان کا پاکستان میں کس کس سے رابطہ تھا، ارشد شریف کی وفاقت سے منسلک کردار وقار احمد اور خرم احمد کون ہیں؟، ان کا ارشد سے کیا رشتہ تھا، کیا ارشد انہیں پہلے سے جانتے تھے یا کسی نے یہ راستہ استوار کرایا تھا،کچھ لوگوں نے ارشد شریف کی لندن میں ملاقات کے دعوے بھی کیے، یہ دعوے ان سے کس نے کروائے، کن بنیادوں پر یہ دعوے کیے گئے، ارشد شریف کی وفات ایک دور افتادہ علاقے میں ہوئی، کینیا پولیس نے تو انہیں پہچانا ہی نہیں تھا تو ان کی وفات کی خبر کس نے اور کس کو دی؟
ڈی جی آئی ایس پی آر کینیا کی پولیس اور حکومت نے اس کیس میں اپنی غلطی کو تسلیم کیا ہے لیکن دیکھنا ہے کہ کیا یہ واقعی غلط شناخت کا معاملہ ہے یا ٹارگٹ کلنگ ہے، تو بہت سے سوالات جواب طلب ہیں،اس افسوسناک واقعے کی صاف شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات بہت ضروری ہیں اور اس کے لیے ہم نے حکومت سے اعلیٰ سطح کے انکوائری کمیشن کی استدعا کی ہے، اس کمیشن کو اگر بین الاقوامی ماہرین، فارنزک اور آئی ٹی ماہرین کی ضرورت ہو تو ان کو بھی شامل کرنا چاہیے،تمام حالات و واقعات میں اے آر وائے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان اقبال کا ذکر بار بار آتا ہے لہٰذا انہیں پاکستان واپس لا کر شامل تفتیش کرنا چاہیے۔
جنرل بابر افتخارنے سوشل میڈیا پر چلائی جا رہی مہم کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی ناگہانی موت کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر مخصوص لوگوں نے الزامات کا رخ فوج کی طرف موڑنا شروع کردیا، اس سفاک موت سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے، یہ دیکھنا بہت ضروری ہے، ارشد شریف کی وفات ایک ایسا افسوسناک واقعہ ہے جس نے پوری قوم کو رنج و غم میں مبتلا کردیا ہے، میں نے اب تک حاصل ہونے والی تفصیلات اور حقائق آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں، اب آپ پر فرض ہے کہ آپ ان تفصیلات کی تہہ تک پہنچیں اور تمام کرداروں کو سامنے لا کر حقائق قوم کے سامنے رکھیں، ہم سب کو انکوائری کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے، جب تک کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آ جاتی، کسی پر الزام تراشی ہرگز مناسب نہ ہو گی، ہم ایک خوددار اور ایک آزاد قوم ہیں اور ہم میں سے ہر ایک نے پاکستان کی ترقی اور امن کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔
انکاکہناتھا میری آپ سے درخواست ہے کہ اپنے اداروں پر اعتماد برقرار رکھیں، اگر ہم سے ماضی میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں تو ہم پچھلے 20سالوں سے اپنے خون سے ان کو دھو رہے ہیں، یہ آپ کی فوج ہے، 35-40سال وردی پہننے کے بعد کوئی غداری کا طوق لٹکا کر گھر نہیں جانا چاہتے، ہم کمزور ہو سکتے ہیں، ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر ہم غدار اور سازشی ہرگز نہیں ہو سکتے، اس چیز کا ادراک سب کو کرنا ہو گا کیونکہ فوج عوام کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے،ہائبرڈ اور ففتھ جنریشن وارفیئر کی ایپلی کیشن کے مترادف ہوبہو عملدرآمد پاکستان میں ہو رہا ہے لہٰذا ہم اس سے نبرد آزما ہیں اور اس سے باہر نکلیں گے، ایک متحد قوم ہی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے، ہماری شناخت سب سے پہلے پاکستان ہے اور ہم نے بطور ادارہ اپنی قوم کو کبھی مایوس کیا ہے، نہ کریں گے، یہ ہمارا آپ سے وعدہ ہے۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف نے یہ نہیں کہا تھا کہ اسلام آباد میں کسی جتھے کو داخل نہیں ہونے دیں گے، انہوں نے یہ کہا تھا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لانگ مارچ سب کا جمہوری حق ہے، اس سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں، حکومت کو کسی وقت فوج کی ضرورت پڑی تو آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم کے غیرملکی دوروں کے دوران لانگ مارچ کے اثرات سے متعلق سوال کے جواب میں جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اس کے اثرات ضررو ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنے کی ضرروت ہے کہ دنیا کے تمام ملکوں میں اس طرح کے جمہوری اجتماع ہوتے ہیں، جمہوریت میں اس طرح کی اونچ نیچ آتی رہتی ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے ملک کا وقار کم ہوجائے گا۔
انکا کہناتھا جس پس منظر کے ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی کچھ چیزوں کے حوالے سے بات کر سکتے ہیں میرا نہیں خیال کہ میرے پاس اتنی انفارمیشن ہوتی ہے اس لیے اس وقت امر کی ضرورت تھی کہ ان کو یہاں پر ہونا چاہیے لیکن ڈی جی آئی ایس آئی کا پریس کانفرنس کرنا روٹین کا حصہ نہیں بنے گا۔
Sصحافی ارشد شریف کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل میں تھرڈ پارٹی کے ملوث ہونے کے امکان موجود ہیں، لیکن تحقیقات مکمل ہونے تک اس وقت ہم کوئی رائے قائم نہیں کرسکتے، سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ کوئی حکومت اپنے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے اس طرح کے پروپگینڈا کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
